وفاقی حکومت کا”پیار“بھی کام نہ آیا۔ ۔ ۔ وزیراعظم سے ملاقات ، ظہرانہ ، صوبائی اسمبلیاں ایک ہی دن تحلیل ہونے کا حتمی فیصلہ نہ ہوسکا

وفاقی حکومت کا”پیار“بھی کام نہ آیا۔ ۔ ۔ وزیراعظم سے ملاقات ، ظہرانہ ، ...
وفاقی حکومت کا”پیار“بھی کام نہ آیا۔ ۔ ۔ وزیراعظم سے ملاقات ، ظہرانہ ، صوبائی اسمبلیاں ایک ہی دن تحلیل ہونے کا حتمی فیصلہ نہ ہوسکا

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کی طرف سے دیا گیا ظہرانہ بھی چاروں صوبائی اسمبلیاں ایک ہی دن تحلیل کرانے میں ناکام رہا تاہم ایک ہی دن انتخابات کرانے پر اتفاق کرلیاگیاہے، اسلم رئیسانی نے انیس مارچ کو اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی دھمکی دیدی جبکہ شہباز شریف نے پارٹی سے مشاور ت کے بعد ہی واضح جواب دینے کا عندیہ دیاہے تاہم اجلاس میں توقع کی گئی کہ جلد ہی نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ پر اتفاق ہوجائے گا ۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی صوبائی اسمبلیوں کی ایک ہی دن تحلیل کیلئے وزرائے اعلیٰ کووزیراعظم ہاﺅس میںدیے گئے ظہرانے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے انتخابات سے قبل چاروں آئی جیز اور چیف سیکریٹری کو تبدیل کرنے کی تجویز دیدی اوراُنہوں نے چاروں گورنروں کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا تاہم دیگرصوبوں بلوچستان ، کے پی کے اور سندھ نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کااختیار وزیراعظم کو دیدیاہے۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ کی طرف دیکھتے ہوئے کہاکہ سندھ اور بلوچستان میں بندربانٹ لگی ہوئی ہے ، وہاں کسی اپوزیشن و حکومتی جماعت سے مشاورت بھی نہیں کی گئی ، اتحاد بنے ہوئے ہیں اور اگر کسی نے الیکشن کا بائیکاٹ کردیاتو یہ ملک و قوم کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا،ایماندارلوگوں کو نگران سیٹ اپ میں لائیں ، سندھ اور بلوچستان میں مک مکا قبول نہیں کریں گے ۔وزیراعلیٰ پنجاب کاکہناتھاکہ بند کمروں میں ہونیوالے فیصلے عوام قبول نہیں کریں گے ۔وزیراعظم کاکہناتھاکہ نگران سیٹ اپ کا فیصلہ مشاور ت سے ہوجائے تو خوش آئند ہوگا۔بعدازاں وزیراعظم سے چند منٹ کی ون ٹون ملاقات کے بعدوزیراعلیٰ پنجاب وزیراعظم ہاﺅس سے چلتے بنے۔جیونیوز کے مطابق صدر زرداری سے ملاقات میں طے ہونے والے مسائل کے حل کی یقین دہانی نہ ہونے پر بلوچستان کے وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی خفا ہوگئے ہیں اوراُنہوں نے 19مارچ کو اسمبلی کی تحلیل کیلئے گورنر کو سمری نہ بھیجنے کی دھمکی دیدی ہے ۔اپوزیشن ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی پارٹی سے مشاورت مکمل ہونے تک کوئی واضح موقف دینے سے گریز کیا۔ن لیگ کے رہنماءسینیٹر مشاہداللہ نے کہاکہ اسمبلیاں ایک ہی دن ختم کرنے پر اتفاق نہیں ہوسکا، وزیراعظم کو کہہ دیاہے کہ ناصراسلم زاہد سے بہتر کوئی نام ہے تو بتادیں ، غور کریں گے ۔اُنہوں نے بتایاکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیاہے کہ ایک ہی دن اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں تو ڈمی وزیراعلیٰ نہ لائیں ۔اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام معاملات مل کر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،ملاقات میں اتفاق کیاگیاکہ امید ہے ،جلد معاملات طے پاجائیں گے۔راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ ملک میں ایک ہی دن انتخابات سے سیاسی ہم آہنگی پیدا ہوگی ۔وزیراعظم ہاﺅس کے ذرائع کے مطابق چاروں وزرائے اعلیٰ ایک ہی دن اسمبلیاں تحلیل کرنے پر متفق ہوگئے ہیں تاہم دن کا تعین کیاجارہاہے جبکہ وفاقی حکومت 19مارچ کوصوبائی اسمبلیاں تحلیل کرانے کی خواہاں ہیں جبکہ ایک ہی دن قومی و صوبائی اسمبلیوں پر انتخابات کرانے پر بھی اتفاق کرلیاگیاہے ۔ڈان نیوز کے مطابق ن لیگ کے وزیراطلاعات اور وزیراعظم ہاﺅس کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں تضاد ہے ۔

مزید : اسلام آباد /Headlines


loading...