مبارک ہو۔۔۔ایک جمہوری عہد مکمل ہوا،ہم نے اترے جھنڈے گاڑے، طاقت سے اقتدار لینے ، چھیننے کے راستے بند کردیے ، قوم پھر جمہوری سوچ و شعور کا مظاہرے کرے : وزیراعظم کا قوم سے الوداعی خطاب

مبارک ہو۔۔۔ایک جمہوری عہد مکمل ہوا،ہم نے اترے جھنڈے گاڑے، طاقت سے اقتدار ...
 مبارک ہو۔۔۔ایک جمہوری عہد مکمل ہوا،ہم نے اترے جھنڈے گاڑے، طاقت سے اقتدار لینے ، چھیننے کے راستے بند کردیے ، قوم پھر جمہوری سوچ و شعور کا مظاہرے کرے : وزیراعظم کا قوم سے الوداعی خطاب

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر قوم کو مبارکباد پیش کی ہے اور جمہوری عمل میں ساتھ دینے پر تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے خطاب کا آغاز جمہوری قربانیوں اور شہادتوں سے کیا اور حکومتی مسائل کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب پیسے کے بل بوتے پر الیکشن جیتنے کا راستہ بند کردیا گیا۔ آئی جے آئی کا نام لئے بغیر وزیراعظم نے اصغر خان کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کی آزادی اور خود مختاری نے دولت کے بل پر غیر حقیقی طریقے سے اسمبلیوں میں داخلے کا راستہ نہیں رہا، انہوں نے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشاوت کا ذکر کیا اور کہا کہ ایک ہی روز تمام اسمبلیوں کے الیکشن پر اصولی طور پر اتفاق ہوگیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ سمیت تمام ادارے انتخابی عمل مکمل کریں اور قوم اپنے جمہوری ہونے کا ثبوت دے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ انتہائی مسرت کا مقام ہے کہ قومی اسمبلی نے ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنی آئینی مدت مکمل کی جس پر میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوںمیرے لئے یہ بات بھی باعث ِ اعزاز ہے کہ مجھ جیسا ایک عام کارکن آج پاکستان کا وزیراعظم ہے اور قوم کو جمہوریت کے تسلسل کی نوید دے رہا ہے۔ پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان کشمکش کی ایک لمبی تاریخ ہے لیکن اب خدا کے فضل و کرم سے جمہوری قوتوں نے بالآخر فتح حاصل کر لی ہے اور آج ایک منتخب جمہوری حکومت آئینی طریقے سے اقتدار منتقل کرنے کے مراحل طے کر رہی ہے۔ میں یہاں سیاسی جماعتوں اور تمام اداروں کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے جمہوریت کو تقویت بخشنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا ©میرے بھائی اور بہنو! میں ماضی کی تلخیوں کا ذکر نہیں کرنا چاہتا لیکن مستقبل کی تعمیر کیلئے تاریخ پر ایک نگاہ ڈالنا ضروری ہے، پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولی کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد متعدد وزراءاعظم سازشوں کا شکار ہوئے یہاں تک کہ ایک مقبول ترین منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا گیا۔ قائد عوام نے عوام کو ووٹ کا حق دیا اور ہزاروں مربع میل کا علاقہ دشمنوں سے واپس لیا۔ 90,000 جنگی قیدی واپس لائے، ایٹمی پروگرام کی بنیاد ڈالی، اس ملک کے غریب کو سر اٹھا کر جینے کا حق دیا،پاکستان کے اس عظیم قائد اور محسن اسلام کو ایوان اقتدار سے نکالا گیا اور ایک بے بنیاد مقدمے میں پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا گیا۔ آج ساری دنیا ان کی شہادت کو عدالتی قتل قرار دے رہی ہے اور انہیں پھانسی پر چڑھانے والے شرمندہ اور عوام کی نفرت کا شکار ہیں، ضیاءمارشل لاءکی سیاہ رات کا خاتمہ ہوتے ہی پاکستان کے عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے بینظیر بھٹو شہید کو اس ملک کا وزیراعظم منتخب کرکے جمہوریت سے اپنی محبت اور والہانہ لگاﺅ کا ثبوت فراہم کیا مگر جمہوریت کے خلاف سازشیں جاری رہیں اور محترمہ کی حکومت کو غیر آئینی طریقے سے برخاست کر دیا گیا۔ حال ہی میں اصغر خان کیس میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے اس دعوے کو تسلیم کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھاکہ 1990ءکے انتخابات چرا لئے گئے، عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی اور پیپلز پارٹی کو اقتدار کے حق سے محروم کر دیا گیا، ایک مصنوعی اتحاد بنا کر 1990ءکے انتخابات پر ڈاکہ ڈالا گیا اور محترمہ بینظیر بھٹو ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئیںطویل جلاوطنی کے بعد جب وہ واپس آئیں تو ان کو گولی کا نشانہ بنایا گیا، اس سانحہ سے دنیا ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گئیںاور پاکستان ایک مدبر سیاستدان گنوا بیٹھا۔ ملک سوگوار تھااور عوام سکتے میں تھے، عوام نے محترمہ کی شہادت کا دکھ دل میں لئے پھر ایک عزم کیا اور یہ ٹھان لی کہ ہم ان کا ادھورا مشن مکمل کریں گے، ان کی شہادت کے بعد پارٹی نے ان کے رفیق حیات صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بینظیر بھٹو کی وصیت کے مطابق ان کی جگہ سونپی وہ قید کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے اور ان کی مفاہمت کی پالیسی نے پاکستانی سیاست کو بلندیوں سے آشنا کیا ہے۔ وزیراعظم نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا خواتین و حضرات قائد اعظم محمد علی جناح، محمد خان جونیجو ہوں یا نواز شریف، کوئی وزیراعظم بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکا۔ میرے پیش رو کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ابھی کل کی بات ہے، موجودہ جمہوری حکومت منفی پراپیگنڈ ا اور من گھڑت الزامات کی زد میں رہی اس کے باوجود جمہوری مدت مکمل کرنا غیرمعمولی اور تاریخی واقع ہے۔ اس جمہوری عمل کو یہاں تک آنے میں کئی دشوار گزار راستوں، امتحانات اور مسائل سے گزرنا پڑا، گزشتہ پانچ سالوں میں حکومت کو میڈیا کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا رہا لیکن ہم نے میڈیا کی آزادی کے حق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نہ صرف ہر طرح کی تنقید برداشت کی بلکہ میڈیا کے ساتھ تعاون کیا تاکہ وہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنا فرض آزادانہ طور پر سرانجام دیتا رہا۔ میڈیا کی تنقید سر آنکھوں پر لیکن یہ بھی سوچنے کی بات ضرور ہے کہ ہم احتیاط اور ذمہ داری کا دامن تو نہیں چھوڑ رہے؟ کہیں ہماری غیر ذمہ داری پاکستان کا امیج خراب کرنے کا باعث تو نہیں بن رہی؟ یہ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ جب بھی پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو شکستہ ریاست اور مسائل سے گھرا ہوا ملک ملا۔ 2008ءمیں پاکستان میں خوفناک ریاستی بحران اور بکھرتا ہوئی ریست ملی، زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک ختم ہو چکے تھے، دہشت گردی سے ملک کی بقاءخطرے میں تھی، اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ سوات سے پاکستان کا جھنڈا اتر چکا تھا جس کی نشاندہی بینظیر بھٹو شہید نے اپنے آخری خطاب میں کی تھی۔ ملک کی بنیادی دستاویز آئین پاکستان کا حلیہ مسخ ہو چکا تھا، میڈیا زیر عتاب تھا، اعلیٰ عدلیہ کے جج نظربند تھے، بلوچستان سلگ رہا تھا اور ملک انتشار اور بے یقینی کی صورتحال سے دوچار تھا۔ پاکستان کو اس صورتحال سے نجات دلانے کیلئے ہم نے قومی سطح پر ہم آہنگی پیدا کی، اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی، بین الاقوامی محاذ پر ایک آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد ڈالی اور عوام کی تائید سے ہماری بہادر افواج نے سوات میں کامیابی حاصل کی اور ان علاقوں میں دوبارہ قومی پرچم لہرا دیا۔ وزیراعظم نے قوم کو مخاطب کرکے کہا کہ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، مگر یہ ریاست، آئین، پارلیمینٹ اور ملکی قوانین کے دائرے میں رہ کر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان کا مفاد ہر بات پر مقدم ہے میں قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں اور افواج پاکستان کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں ٰنے ملکی سلاتمی اور تحفظ کیلئے بے مثال قربانیاں پیش کیں، یہ درست ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ہم دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہا سکے لیکن ہم نے ورثے میں ملے ہوئے مسائل کو کم کرنے کی ضرور کوشش کی اور جمہوریت کی بنیادیں مضبوط کرنے کیلئے تمام تر توانائیاں صرف کیں اور اسی کے سبب اس وقت آج خدا کے فضل و کرم سے جمہوریت توانا ہے اور آئندہ کوئی اس پر شب خون نہیں مار سکے گا۔ اگرچہ ہماری پانچ سالہ کارکردگی اور کامیابوں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن میں یہاں چند ایک کامیابیوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ صدر آصف علی زرداری نے محترمہ بینظیر بھٹو کے مفاہمت کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر پاکستان میں باہمی اتفاق رائے کی سیاست کی بنیاد ڈالی، یہ اسی پالیسی کا ثمر ہے کہ پاکستان کی پارلیمینٹ میں پہلی دفعہ یک آواز ہو کر متفقہ طور وزیراعظم کا انتخاب عمل میں آیا، 1973ءکے آئین میںترامیم کر کے اس کو اصل شکل میں بحال کیا، تمام قانون سازی کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا، ساتواں این ایف سی ایوارڈ منظور کیا جس کے تحت صوبوں کو مزید مالی وسائل دیئے گئے اور صوبائی خودمختاری کا دیرینہ مطالبہ پورا کر کے دکھایا، تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر نے اپنے تمام اختیارات رضاکارانہ طور پر پارلیمان کو منتقل کر دیئے، پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اختیارات سے دستبرداری کی کوئی روایت موجود نہیں لیکن صدر پاکستان آصف علی زرداری جمہوری سوچ کے حامل ہیں۔ پاکستان صوبوں کی اکائیوں کا نام ہے ان ترامیم سے پہلے تمام اختیارات اور وسائل وفاق میں مرکوز تھے ان آئینی ترامیم کے ذریعے ہم نے وہ وسائل اور اختیارات اسلام آباد سے اٹھا کر صوبوں کو منتقل کر دیئے۔ اس سے ایک طرف تو سیاسی محرومی کا مداوا ہوا اور دوسری طرف صوبوں کو ان کا حق حاکمیت ملا، اٹھارویں ترمیم نے ایک نئے جمہوری وفاق کی تشکیل کی، صوبوں کے قدرتی وسائل پر ان کا حق ملکیت تسلیم کیا گیا، سماجی شعبہ کے اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل کئے،آئین کو آمرانہ آمیزش سے پاک کیا، جمہوری وفاقی اور پارلیمانی ڈھانچے کو مضبوط کیا،سیاست اور ریاست کی نئی بنیادیں رکھیں، مشاورت اور مفاہمت کو اپنا طرز سیاست بنایا، وفاقی اکائیوں کو مضبوط کیا جس سے وفاق مضبوط ہوا، اس کے نتیجے میں پچھلے تین سالوں میں وفاق نے صوبوں کو ایک ہزار سات سو ارب روپے کے اضافی مالی وسائل منتقل کئے جس سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہوا۔ وزیراعظم نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، میرے کسان اور دہکان بھائیوں !2008ءمیں ہمیں جب حکومت سونپی گئی تو ملکی ضروریات کیلئے گندم باہر سے درآمد کی جا رہی تھی اور چینی کا معاملہ بھی مختلف نہیں تھا، ہم نے سب سے پہلے پاکستان کے زرعی شعبے پر توجہ دی اور زرعی اجناس کی امدادی قیمتوں میں اضافہ کیا جس سے نہ صرف کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوا بلکہ معیشت میں بھی ترقی ہوئی، ملک زرعی اجناس میں خودکفیل ہوا اور اللہ کے فضل و کرم سے اس وقت ہمارے پاس گندم اور چینی وافر مقدار میں موجود ہے اور یہ اشیاءہم دوسرے ممالک کو برآمد کر رہے ہیں۔ حکومت کے زرعی شعبے میں انقلابی اقدامات کے نتیجے میں ایک ہزار ارب سے زائد کی رقم دیہی معیشت میں شامل ہوئی جس سے کسانوں کی حالت بہتر ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آپ کی حکومت نے کسانوں کی پیداواری قیمت میں مزید کمی کیلئے زرعی ٹیوب ویل کیلئے بجلی کے نرخ میں دو روپے فی یونٹ کی کمی کی اور اس مد میں حکومت نے مزید سولہ ارب روپے کی امداد فراہم کی، ہم نے مسائل کو حل کرنے کی بہترین کوشش کی لیکن راستے میں زمینی اور آسمانی آفات بھی آئیں۔ان پانچ سالوں میں ہمیں دو بڑے سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک زرعی ملک ایسی آفات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس آفت سے ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا لیکن الحمد اللہ ہمارے عوام کی مدد سے اور اللہ کے کرم سے ہم نے زرعی شعبے میں ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ میرے بزرگو! پچھلی ایک دہائی سے موجود چیلنجز کی وجہ سے معاشی ترقی متاثر ہوئی، حکومت نے ایسی اقتصادی پالیسیاں وضع کیں جن سے عوام پر اس کا کم سے کم اثر ہوا، حکومت کی پالیسیوں کی جہ سے معاشی میدان میں بھی کامیابیاں حاصل ہوئیں، مشکل حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا اور اس عرصہ میں ملکی برآمدات پچیس ارب ڈالر کی حد عبور کر گئیں۔ بیرون ملک سے ترسیلات زر کی مد میں ریکارڈ 13 ارب ڈالر وصول ہوئے۔ 2008ءکے پچیس فیصد کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح 2012ءمیں آٹھ فیصد کی سطح پر آ گئی ، معاشی حالات کے باوجود حکومت نے ملک کے طول و عرض میں ترقیاتی کاموں کیلئے ریکارڈ رقم مختص کی، 53,000 دیہاتوں کو بجلی فراہم کی گئی، ساڑھے اٹھارہ لاکھ گیس کنکشن فراہم کئے گئے، ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کیلئے نئی سڑکیں تعمیر کی گئیں تاکہ دیہاتوں کو شہروں سے منسلک کیا جا سکے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو یوں بیان فرمایا ہے، ”ہماری خارجہ پالیسی دنیا کی تمام اقوام کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی پر مبنی ہے، ہم کسی بھی ملک یا قوم کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے، اقوام عالم میں امن اور خوشحالی کے فروغ کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں، پاکستان دنیا کی مظلوم اور محکوم عوام کی اخلاقی اور مالی حمایت کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر کاربند رہنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا“۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی جس کے تحت پاکستان کے مفاد کو ہر چیز کو مقدم رکھا گیا، اسی پالیسی پر چلتے ہوئے صدر پاکستان اور پارلیمان کی رہنمائی میں موجودہ حکومت نے ایک آزاد اور خودمختار پالیسی وضع کی۔ حکومت جب برسراقتدار آئی تو پاکستان اقوام عالم میں تنہائی کا شکار تھا اور کئی برادر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے میں گھبرا رہے تھے۔ ہم نے اقوام عالم میں پاکستان کی ساکھ کو دوبارہ بحال کیا جس کا عملی ثبوت پاکستان کا سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہونا ہے اور اس کے علاوہ متعدد تنظیموں کی رکنیت بھی حاصل کی۔ ہم نے خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر پاکستان کے مفاد میں مفصل بنایا ، ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کو ازسر نو ترتیب دیا اور ایڈ کے بجائے ٹریڈ کو ترجیح دی، ہم نے اس خطے میں امن اور تجارت کے فروغ کیلئے افغانستان اور ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے تاکہ تعلقات کو مستحکم کیا جائے اور خطے میں پائیدار امن اور ترقی کو فروغ دیا جائے۔ چین کے علاوہ روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو آگے بڑھایا ہے، چین کے ساتھ گوادرپورٹ پر معاہدہ کر کے چین سے دوستی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے سربراہ مملکت نے توانائی کے بحران کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایران سے گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا جو صدر مملکت آصف علی زرداری کے تدبر اور جرات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ عظیم منصوبہ پاکستان کی معیشت اور مستقبل کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ایٹمی پروگرام ہو یا گیس منصوبہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہر دور میں پاکستان کو توانا بنانے کی کوشش کی۔ ایران اور دوسرے ممالک کے ساتھ گیس کے حصول کیلئے معاہدے پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سے پہلے خارجہ پالیسی سے عوام کو بے خبر رکھا جاتا تھا لیکن ہم نے اس روایت کو بدل ڈالا اور یہ حق عوام کے منتخب نمائندوں کی طرف لوٹا دیا اور آج ملک کی خارجہ پالیسی وہی ہے جس کا تعین پارلیمینٹ نے کیا ہے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے قوم سے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ پچھلی حکومتوں کی غےر دانشمندانہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، بینظیر بھٹو نے شہادت سے ایک ہفتہ قبل بلوچستان کے دورے کے موقع پر فرمایا تھا کہ میں بلوچستان امن اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آئی ہوں، ہم نے ان کے الفاظ کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے پرخلوص عملی اقدامات کا آغاز کیا، صدر آصف علی زرداری نے بلوچ عوام سے معافی مانگی اور ناراض بلوچوں کو مذاکرات کی پیش کش کی، ہم نے بلوچ عوام کے احساسی محرومی کو خوشی میں تبدیل کرنے کیلئے آغاز حقوق بلوچستان متعارف کرایا اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے مالی وسائل فراہم کئے ، بلوچ نوجوانوں کو ملازمتیں دی گئیں اور صوبے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے علاوہ ذہین طلباءکیلئے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم اور وظائف کا انتظام کیا گیا۔ بلوچستان میں بے گھر اور سیلاب متاثرین کی آبادکاری کیلئے خصوصی فنڈز فراہم کئے گئے اور صوبے میں انتظام و انسرام کیلئے بہترین افسر تعینات کئے گئے ، یہ ہماری پالیسی ہی کا نتیجہ ہے کہ بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتیں قومی دھارے میں شامل ہو کر نتخابات میں حصہ لے رہی ہیں جو ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ 2008ءمیں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ توانائی کا بحران بھی ورثے میں ملا جس کے حل کیلئے قلیل اور طویل مدتی اقدامات کا آغاز کیا، حکومت نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے بجلی کی لاگت اور عام آدمی پر بوجھ کم کرنے کیلئے ایک ہزار چار سو ارب روپے کی امداد فراہم کی، چار ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی سسٹم میں شامل کر کے پیداوار اور کھپت میں فرق کم کرنے کی کوشش کی، کئی روایتی اور غیر روایتی منصوبے شروع کئے، ایران اور قطر سمیت کئی اسلامی ممالک کے ساتھ سمجھوتے کئے، مجھے یقین ہے کہ ہماری کوششوں کے نتیجے میں بہت جلد پاور سیکٹر میں بھی بہتری آئے گی، توانائی کی ضرورت ہمارے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے، میں اس بات کا اعتراف کروں گا کہ ہمیں اس مد میں وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کی ہم توقع رکھتے تھے تاہم میں اس موقع پر بجلی بحران کی وجوہات میں جانا نہیں چاہتالیکن یہاں یہ بات کہنا بے جا نہ ہو گا کہ 1997 ءسے 2007ءتک بجلی کی پیداوار میں کوئی اضافہ نہ ہو سکا جس کی وجہ سے پیداوار اور لاگت کا فرق بہت بڑھ گیا،میں یقین دلاتا ہوں کہ اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے حکومت نے ٹھوس اقدامات کئے ہیں اور مستقبل قریب میں انشاءاللہ اس کے ثمرات سامنے آئیں گے۔وزیراعظم نے قوم سے مخاطب ہو کر کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے خواتین کی فلاح و بہبود اور حقوق کے تحفظ کیلئے موثر قانون سازی کی، خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا، اہم فیصلہ سازی کے فورمز میں خواتین کی شمولیت یقینی بنائی اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے قوانین کا خاتمہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ محنت کش اور مزدوروں کے خلاف بنائے گئے امتیازی قوانین ختم کر دیئے گئے ہیں اور ٹریڈ یونینز پر عائد پابندی کا خاتمہ ہو گیا ہے، تنخواہ اور پنشن میں 100 فیصد سے زائد اضافہ کیا، حالیہ منشور میں کم از کم تنخواہ 18,000 اور اداروں میں مزدوروں کا حصہ 25 فیصد تک بڑھانے کاوعدہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار محنت کشوں کی پارلیمان میں نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے قومی اسمبلی میں چار اور صوبائی اسمبلیوں میں دو دو سیٹیں مخصوص کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ محنت کش اپنے مفادات کا موثر طور پر تحفظ کر سکیں اور اپنا مقدمہ خود لڑ سکیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 135 فیصد اضافہ، تین لاکھ سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل اور نکالے گئے ہزاروں ملازمین کو بحال کیا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ کمزور، پسے ہوئے اور بے سہارا لوگوں کی ترجمانی کی۔ ہماری حکومت نے خاص طور پر نادار خواتین کی مالی امداد کیلئے بےنظیر کارڈ کا اجراءکیا اور اس پروگرام کے تحت 70 لاکھ حاندانوں کی بلاامتیاز کفالت جاری ہے جبکہ اس پروگرام سے چار کروڑ افراد مستفید ہو رہے ہیں، اس پروگرام کیلئے سالانہ پچھتر ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے اور یہ پروگرام بین الاقوامی طور پر اپنی شفافیت اور موثر ہونے کی وجہ سے ایک مثال بن گیا ہے جو ہمارے لئے باعث اطمینان ہے۔ وزیراعظم نے کہا، خواتین و حضرات !کچھ غریب دشمن لوگ اس پروگرام کو بند کرنے کی باتیں کر رہے ہیں، میں ان لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم کسی غریب کے بچے کے منہ سے لقمہ نہیں چھیننے دیں گے، کسی غریب کا چولہا نہیں بجھنے دیں گے اور کسی غریب عورت کے سرسے چار نہیں اترنے دیں گے کیوں کہ ہم اس شہید کے فلفسے کے وارث ہیں جس نے کہا تھا کہ میں ہر اس گھر میں رہتا ہوں جس گھر کی چھت ٹپک رہی ہے، ہم بینظیر پروگرام کی رقم کو دگنا کر دیں گے اور تعداد میں بھی اضافہ کر دیں گے اور مجھے امید ہے کہ عوام کسی کو اپنا حق چھیننے کی اجازت نہیں دیںگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب پیپلز پارٹی اور میرا عزم ملک میں شفاف، غیر جانبدارانہ اورآزادہ انتخابات کا انعقاد ہے جس کا آغاز ہم نے غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے تقرر سے کر دیا ہے، نگران حکومت سمیت تمام معاملات افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے کرنے کے خواہاں ہے اور اپوزیشن سے مشاورت کا آغاز ہو چکا ہے، جعلی ووٹ ختم اور نئی لسٹیں تیار ہیں، سیاسی جماعتوں، آزاد الیکشن کمیشن، مبصر میڈیا، سول سوسائٹی اور عدلیہ کی موجودگی میں دھاندلی کی کوئی گنجائش نہیں، طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے کے لئے مہم جوئی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اور اب صرف عوام کی خواہشات کا خیال کیا جائے گا جس کا وہ ووٹ کے ذریعے اظہار کریں گے، آئندہ اس ملک میں اصغر خان کیس جیسی صورتحال پیدا نہیں ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا، میرے عزیز بھائیو اور بہنو! ان پانچ سالوں کے سفر میں کئی بار جمہوری حکومت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، بے یقینی کی فضاءپیدا کی گئی، حکومت کے خاتمے کی سنسنی خیز پیش گوئیاں کی گئیں لیکن اس کے باوجود ہمارا اور اتحادی دوستوں کا عزم نہ ڈگمگایا اور تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے عبور کیا، ہمارے قائدین نے ہمیشہ ہمیں صبر و تحمل کا درس دیا،ہم نے اس ملک کی سیاست میں نئی طرہ ڈالی ہے، ہم نے برداشت کو نئے معنی دیئے ہیں، کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا، کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے، کسی کی رائے یا قلم پر قدغن نہیں لگائی، کسی پر بے جا دباﺅ ڈال کر اس کی وفاداری تبدیل نہیں کی، ہر کسی کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کو توڑنے کی کوشش نہیں کی بلکہ مفاہمت کی سیاست کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو ہم سفر بنایا جو ایک مشکل کام تھا ، ملکی اداروں کو فعال اور توانا کیا اور ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی، رواداری کو فروغ دیا، ملک کو حریفانہ سیاست کی دلدل سے نکال کر حلیفانہ سیاست کے کلچر کو فروغ دیا، نئے طرز سیاست کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے آغاز بھی اتفاق رائے سے کیا اور آج اسمبلیوں کا اختتام بھی اتفاق رائے سے ہو رہا ہے، ہم سب ایک بار پھر عوام کے پاس جا رہے ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس بار وہ بھی عوام کے پاس جا رہے ہیں جو پچھلی بار نہیں گئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے آ ج چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کی تاکہ انتخابات کی تیاروں کے سلسلے میں ان سے تبادلہ خیال کیا جا سکے، یہ ملاقات بہت اچھے ماحول میں ہوئی، میں نے تجویز پیش کی کہ معروضی حالات کے پیش نظر ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز منعقد کئے جائیں، مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ تمام شرکاءنے اصولی طور پر میری اس تجویز سے اتفاق کیا ، اس پیش رفت سے میرا حوصلہ اور جمہوریت پر ایمان مزید پختہ ہو گیا ہے اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ انتخابات کے باقی مراحل بھی خوش اسلوبی سے طے کر لئے جائیںگے ۔میں تمام سیاسی جماعتوں، قومی اداروں، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتا ہوں کہ انتخابی عمل کو آزاد، پرسکون اور خوشگوار ماحول میں مکمل کریں ، تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ ہم باشعور، پرامن اور جمہوری قوم ہیں۔

مزید : قومی /Headlines