گلے شکوے بجا ،لیکن ؟

گلے شکوے بجا ،لیکن ؟
 گلے شکوے بجا ،لیکن ؟

  


سب سے پہلے تو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جو ملک سالہاسال سے دہشت گردی کا شکار ہو ، جس کے تمام ادارے مسلسل گھاٹے میں رہے ہوں ،جہاں رشوت، کرپشن، اقربا پروری اور نفسانفسی کا دور دورہ رہا ہو، وہاں حکومت کرنا کسی مسند یا پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا ایسا بستر ہوتا ہے کہ انسان کانٹے چنتا عمر بتا دے اور ایک پل سکھ سے سونا نصیب نہ ہو۔کہنے کو وزیر اعظم نواز شریف اِس ملک کے سربراہ ہیں، مگر جن مسائل کا انہیں سامنا ہے، وہ جانیں یا ان کے رفقا۔۔۔سچی بات کہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے، ایک طرف ہم دہشت گردی کے نرغے میں ہیں اور ان کا گھیرا توڑنے کے لئے رد الفساد جیسا بڑا آپریشن شروع کئے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب مسئلہ کشمیر 70سال سے لٹکا ہوا ہے۔ بھارت اِس مسئلے کے حل کی طرف ایک قدم آگے نہیں بڑھا رہا، اُلٹا ہمارے دریاؤں کا پانی چوری کئے ہوئے ہے۔ تیسری ہولناک بات یہ ہے کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سیاستدان وفاق سے کسی پل خوش ہونے کو تیار نہیں، بقول شاعر:

کتنے دریا پار کروں مَیں

ہر دریا کے آگے دریا

یقیناًمیاں نواز شریف کو بھی نجانے کتنے دریا پار کرنے پڑ رہے ہیں۔ ملک کو ترقی و کامرانی کی طرف لے جانے کے لئے نجانے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں، لیکن افسوس کہ ان سے کوئی خوش نہیں۔ اِس میں کسی طرح کا کوئی شک شبہ نہیں کہ پاکستان میں جتنے بھی بم دھماکے یا خودکش حملے ہوئے ہیں،ان میں 95فی صد سے زائد حملوں میں پختون ملوث نظر آتے ہیں۔ افغانستان سے لے کر علاقہ غیر کے لوگ ایسی تمام کارستانیوں کے کرتا دھرتاؤں میں شامل ہیں۔ لاہور کے چیئرنگ کراس پر ہونے والے خوفناک دھماکے کا سہولت کار بھی مبینہ طور پر پختون ہے اور لاہور ہی کے لنڈا بازار میں کام کرتا ہے۔ ردالفساد شروع ہوا اور پاکستان میں غیر قانونی طور پر چھپے افغانوں یا پختونوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو حکومت پر بلاسوچے سمجھے الزام دھردیا گیا کہ پختونوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ کوئی سوال کرے اور خیبر پختونخوا کے سیاست دانوں سے پوچھے کہ ’’بھئی! کس طرح کی انتقامی کارروائیاں؟۔۔۔ کیا کوئی اِس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ ہر بم دھماکے اور خودکش حملے کے پیچھے پختون ہیں؟‘‘ بے شک پختون قوم بے حد محب و طن اور قومی جذبہ سے سرشار ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس عظیم پختون قوم میں ہی چند ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو طالبان یا کچھ دوسرے ناموں سے پاکستان کا امن و سکون تباہ کئے ہوئے ہیں اور معصوم انسانوں کو شہید کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کوسیاسی ، سماجی، معاشی اور معاشرتی سطح پر کمزور کئے ہوئے ہیں۔ بے شک حکومت کا فرض ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو کاٹ پھینکنے کے لئے ہر طرح کے لوگوں سے پوچھ گیچھ کرے،جبکہ دوسری طرف پختون قوم کا بھی فرض ہے کہ بنا سوچے سمجھے حکومت پر الزام تراشی کی بجائے اپنے اندر چھپے شر پسند عناصر کی نشاندہی کرلے اور اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ پور ا پورا تعاون کرے۔سطحی طور پر حکومت کو برا بھلا کہنے کی بجائے معاملے کی نزاکت کو سمجھا جائے اور جذباتی تقریروں کی بجائے حکومت کا ساتھ دیا جائے۔

حکومت کا دوسرا مسئلہ سندھ کے سیاست دان ہیں، جو خود کچھ کرنے کے اہل کم ہی نظر آتے ہیں اور اگر وفاقی حکومت ان کے صوبے کے لئے کچھ کرتی ہے تو شکووں، گلوں اور شکایتوں کے انبار لگا دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے سندھ کے پسماندہ اضلاع ٹھٹھہ ، سجاول اور بدین کے لئے اربوں روپے کے پیکیج کا اعلان کیا اور سندھ کے عوام کی محرومیاں دور کرنے کے لئے سندھ کی تعمیر نو کا عزم کیا تو بجائے وزیر اعظم کے ان اعلانات پرخوشی کا اظہار کرنے کے سندھ کے سیاستدان وزیر اعظم سے نالاں نظر آئے۔ خیر سے سندھ کے یہ وڈیرے سیاستدان خودتو صرف اس قابل ہیں کہ سالہا سال سے اپنے صوبے کو اجاڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہ ان کے پاس کوئی قابل ذکر ہسپتال ہے اور نہ ہی کوئی مثالی تعلیمی ادارہ، سانحہ سیہون شریف پرسندھ حکومت کا پول یوں کھلا کہ نہ تو ان کے پاس کوئی ڈھنگ کی ایمبولینس سروس ہے اور نہ ہی دور دراز علاقوں میں کوئی اعلیٰ معیار کا ہسپتال کہ جہاں ہنگامی حالات میں قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے۔ کراچی نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، بلکہ ایشیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، ایک طرف یہ شہر ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے،جبکہ دوسری طرف یہ مظلوم شہر کئی عشروں سے امن وامان کے گھمبیر مسئلے کا شکار ہے۔بوری بند لاشیں، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، موبائل چوری اور سٹریٹ کرائمز اس شہر کے ماتھے کا کلنک ہیں ،اب تو اس عظیم شہر کو کوڑے کا ڈھیر بنا کررکھ دیا گیا ہے۔ کبھی ملک ریاض اس شہر کی صفائی ستھرائی کا بیڑا اٹھانے کا دعویدار ہوتا ہے تو کبھی ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے جھاڑ و دینے کا عزم دہراتے ہیں، مگر افسوس کہ اس تعفن زدہ شہر سمیت سندھ کے وارث ہونے کے دعویدار حکمران اپنی موج مستی میں مبتلا ہیں۔

کل کے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اپنی میٹھی نیند کے حوالے سے بڑی شہرت رکھتے تھے اور آج کے وزیر اعلیٰ سندھ شہباز شریف ’’ثانی‘‘ بننے کی تگ و دو میں ہیں، مگر افسوس کہ کارکردگی کے حوالے سے سندھ حکومت زیرو تھی اور زیرو ہی ہے۔ الٹا یہ صوبہ کرپشن کی اتھاہ گہرائیوں میں یوں غرق ہے کہ اگر وہاں ایک پولیس کانسٹیبل یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر کے گھر چھاپہ پڑتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے سرکاری ملازم نہ صرف اربوں، کھربوں کی جائیدادوں کے وارث بن گئے ہیں، بلکہ ان کے گھروں میں سیروں کے حساب سے سونا اور ہیرے جواہرات پڑے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کا حق ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی مبینہ زیادتی پر اپنے بڑے بھائی یا وفاق سے گلہ کریں، لیکن ایسے گلے شکوؤں سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ لیں کہ ان کی اپنی کارکردگی کیا ہے؟۔۔۔یقیناً پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر سمیت گلگت بلتستان ایسے پھول ہیں،جن کے وجود سے پاکستان ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہے۔ پاکستان تب ہی ہرا بھرا ہوگا، جب ان سب پھولوں پر نکھار آئے گا، یقیناً یہ صرف وفاق ہی کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ہر صوبے کے مسائل حل کرتا پھرے، صوبوں کی اپنی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں کہ اپنے عوام کو سکھ دینے کے لئے تنی من دھن کی بازی لگا دیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی صوبے کے ساتھ وفاق کی طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہو، لیکن جو زیادتی مختلف صوبوں کے حکمران اپنے عوام کے ساتھ کر رہے ہیں، ان کا کیا کیا جائے، دیکھا جائے تو یہ وقت کسی بھی طرح کے گلے شکوؤں یا سیاست بازی کا ہے ہی نہیں، ہم سی پیک جیسے اہم ترین منصوبے کی دہلیز پر کھڑے ہیں، دشمن کی خواہش ہے کہ ہم یہ دہلیز پار نہ کر سکیں، دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لئے ہم سب کا فرض ہے کہ ہر طرح کی سیاست بازی اور شعبدہ بازی سے گریز کریں اور ایک دوسرے سے قدم ملا کر آگے بڑھیں تاکہ ہماری آئندہ نسلیں ہمارے اچھے کیے کا پھل کھاسکیں۔

مزید : کالم


loading...