قرار داد مقاصد اور قائد اعظمؒ (1)

قرار داد مقاصد اور قائد اعظمؒ (1)
قرار داد مقاصد اور قائد اعظمؒ (1)

  


قرارداد مقاصد 7 مارچ 1949ء کو قائد ملت لیاقت علی خاں نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں پیش کی تھی اور 12 مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے بحث و مباحثے کے بعد قراردادِ مقاصد کو منظور کر لیا۔ مَیں نے اس دور کی دستور ساز اسمبلی کے تمام ارکان کی قرارداد مقاصد کی حمایت اور مخالفت میں تقاریر کا براہ راست مطالعہ کیا ہے۔ یہ تاریخی ریکارڈ مجھے وطن عزیز کے ایک معروف محقق پروفیسر احمد سعید نے فراہم کیا تھا۔ قرارداد مقاصد کی مخالفت میں دستور ساز اسمبلی کے صرف ہندو ارکان پیش پیش تھے۔ ان کی طرف سے قرارداد مقاصد میں جتنی بھی ترامیم پیش کی گئیں، دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے کثرت رائے سے ان ترامیم کو مسترد کر دیا اور وزیر اعظم لیاقت علی خاں کی طرف سے پیش کی گئی۔ قرارداد مقاصد کے اصلی اور مکمل متن کو منظور کر لیا گیا۔قرارداد مقاصد کا مخالف سیکولر طبقہ مسلسل یہ پروپیگنڈہ کرتا چلا آ رہا ہے کہ قائد اعظمؒ کی زندگی میں یہ قرارداد مقاصد دستور ساز اسمبلی میں پیش اور منظور نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ وہی عناصر ہیں جن کا یہ نقطۂ نظر ہے کہ قائد اعظمؒ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ مطلب یہ ہوا کہ قرارداد مقاصد میں دستور ساز اسمبلی نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ پاکستان کا آئین جمہوری اور اسلامی ہوگا۔ پاکستان کے دستور کے جمہوری ہونے پر تو کسی کو بھی اعتراض نہیں، لیکن پاکستان کا دستور سیکولر ازم کی ضد ہو، یعنی پاکستان کی سیاست اور ریاستی امور سے اسلام کا گہرا رشتہ ہو، یہ ہمارے سیکولر طبقے کے لئے قابل برداشت نہیں۔۔۔ آگے بڑھنے سے پہلے قرارداد مقاصد کو مختصر طور پر جان لینا ضروری ہے۔ اس قرارداد میں سب سے پہلے یہ اقرار اور اعلان کیا گیا تھا کہ تمام کائنات کا اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور جو اقتدار و اختیار عوام کے توسط سے اللہ تعالیٰ نے مملکت پاکستان کو عطا کئے ہیں، وہ اختیارات ایک مقدس امانت کے طور پر اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کئے جائیں گے۔ ریاست اپنے اختیار و اقتدار کو منتخب نمائندوں کے توسط سے بروئے کار لائے گی۔ اسلام کی تشریح و تعبیر کے مطابق جمہوریت ، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ مسلمانوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق تعمیر و ترتیب دینے کے قابل بنایا جائے گا۔

یہاں قرآن کریم اور سنتِ رسولؐ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کیونکہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی راہنمائی کے یہی دو معتبرترین ذرائع ہیں۔ قرار دادِ مقاصد میں اقلیتوں کو بھی یہ یقین دلایا گیا تھا کہ انہیں اپنے اپنے مذاہب پر آزادی سے ایمان رکھنے اور عمل کرنے کا حق ہوگا اور انہیں اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کی مکمل آزادی ہوگی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے اور بعض اوقات افسوس بھی کہ قرار دادِ مقاصد میں آخر ایسا کیا ہے، جس پر قائد اعظمؒ کو اعتراض ہو سکتا تھا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے۔ دستور ساز اسمبلی کے تمام مسلمان ارکان قائد اعظمؒ کے قریبی ساتھی اور قائد اعظمؒ ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ دستور ساز اسمبلی کے یہ ارکان قیام پاکستان کی جدوجہد میں قائد اعظمؒ کے ساتھ شریک عمل رہے۔ ان سے بڑھ کر قائد اعظمؒ کے خیالات اور نظریات سے واقف اور کون ہو سکتا تھا؟ دستور ساز اسمبلی کے یہ سارے مسلمان ارکان قائد اعظمؒ کے خطابات سنتے رہے۔ ان کی قیادت میں خود جلسوں اورکانفرنسوں سے خطاب کرتے رہے۔ مَیں دوبارہ عرض کروں گاکہ وزیر اعظم لیاقت علی خاں سمیت وہ تمام مسلمان اراکین دستور ساز اسمبلی، جنہوں نے قرار داد مقاصد کی منظوری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ان سے بہتر قائد اعظمؒ کے تصورِ پاکستان کو اور کوئی نہیں جان سکتا تھا۔ پھر قائد اعظمؒ کے خطابات ، تقاریر، بیانات اور انٹر ویوز کا تمام تر ریکارڈ آج بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ قرار دادِ مقاصد کے ایک ایک لفظ کا جائزہ آج بھی ہم قائد اعظمؒ کی تقاریر اور تصورات کی روشنی میں لے سکتے ہیں اور دیانت داری کا دامن پکڑ کر ایک غیر جانبدار تجزیہ نگار کے طور پر ہم خود بھی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ قرار داد مقاصد منظور کرنے والے قائدین اور قائد اعظمؒ کے درمیان کن نکات پر اختلاف تھا؟قائد اعظمؒ نے 11 اکتوبر 1947ء کو بطور گورنر جنرل پاکستان کراچی میں سرکاری اور فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس کے لئے ہم جدوجہد کرتے رہے آج وہ پاکستان ایک حقیقت بن چکا ہے، لیکن ہمارا مقصد محض اپنا ایک ملک بنانا نہیں تھا، بلکہ یہ ملک بذات خود کچھ اعلیٰ مقاصد کے لئے حاصل کیا گیا ہے۔ ہم اپنے لئے ایک ایسا وطن تخلیق کرنا چاہتے تھے جس میں ہم آزادی سے سانس لے سکیں اور اپنی تہذیب و تمدن اور اقدار کی روشنی میں اسلام کے سماجی عدل کے راستے پر چل سکیں‘‘۔

قائد اعظمؒ کے بارے میں یہ جان لینا چاہئے کہ وہ ہندوستان کی دوسری اقوام کے تمدن، معاشرت اور تہذیب کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے، لیکن اسلامی تہذیب اور تمدن سے انہیں بہت محبت تھی اور انہوں نے کئی مواقع پر یہ اظہار کیا کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ہماری آئندہ نسلیں اسلامی تمدن اور فلسفے سے بالکل ہی بیگانہ ہو جائیں۔ قیام پاکستان سے ان کا ایک مقصد اسلامی تہذیب و تمدن کی حفاظت بھی تھا اور دوسرا مقصد جس کا انہوں نے بار بار اعلان کیا، وہ اسلام کے سماجی عدل کا تصور ہے۔ قائد اعظمؒ نے 10مارچ 1941ء کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں اپنی ایک تقریر میں یہ بھی کہا تھا : ’’اگر ہم اسلام کو بطور دین فنا ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اس کی واحد عملی شکل قیام پاکستان ہے‘‘۔ 1942ء میں کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قائد اعظمؒ کی تقریر کے الفاظ یہ تھے : ’’یہ تجویز ہر مسلمان کے دل کی پکار ہے اور پاکستان کا مقصد اس کے سوا اور ہو بھی کیا سکتا ہے کہ پاکستان میں اللہ کے دین کا نظام قائم ہو جائے‘‘۔۔۔یکم فروری 1943ء کو بمبئی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : ’’ہم پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کریں گے جس طرح کا سلوک ایک مہذب قوم کا شیوہ ہوتا ہے، بلکہ اس سے بھی بہتر، کیونکہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آؤ‘‘۔۔۔ قائد اعظمؒ نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی درج بالا تقریر میں قرآن مجید کے حکم کا حوالہ دیا ہے اور جب انہوں نے 14اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی موجودگی میں تقریر فرمائی تھی تو اس وقت انہوں نے اقلیتوں کے ساتھ رواداری سے پیش آنے کے حوالے سے سیرتِ رسولؐ کو اپنے لئے رول ماڈل قرار دیا تھا،۔ قائد اعظمؒ نے بنی نوع انسان کے ساتھ اخوت اور مساوات کا عملی صورت میں مظاہرہ کرنے پر جب بھی زور دیا اور جب بھی معاشرتی عدل کی بات کی تو اسلام کا حوالہ ضرور دیا۔ 13نومبر1943ء کو اپنے عید کے پیغام میں ایک بڑی منفرد مثال کے ساتھ قائد اعظمؒ نے انسانوں کے ساتھ محبت اور رواداری سے پیش آنے کا درس دیا۔(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا : ’’قرآن پاک میں انسان کو اللہ کاخلیفہ کہا گیا ہے، اگر انسان کی اسی تعریف میں کوئی معنویت ہے تو پھر ہم پر قرآن کے اتباع کا فرض عائد ہوتا ہے اور ہم پر لازم ہو جاتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان سے کرتا ہے‘‘۔۔۔ دوسرے لفظوں میں قائد اعظمؒ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ تم صرف اسی صورت میں خود کو اللہ کا خلیفہ ثابت کرسکتے ہو، جب دوسرے انسانوں سے محبت اور حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آؤ گے۔

یہاں مَیں پروفیسر احمد سعید کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے مجھے عید الفطر کے حوالے سے قائد اعظمؒ کی بمبئی ریڈیو سے نشر ہونے والی تقریر کی شائع شدہ خبر کا ایک تراشہ بھی فراہم کیا ہے۔ یہ خبر لاہور کے ایک رسالے’’حمایت اسلام‘‘ میں 16نومبر1939ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ قائد اعظمؒ کی تقریر کے الفاظ ہیں ’’مسلمانوں کو قرآن مجید اور نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ کے سوا اور کسی کو اپنا راہنما نہیں بنانا چاہئے۔ اگر ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں تو ہمارے مصائب کا خاتمہ چٹکی بجانے میں ہو سکتا ہے‘‘۔۔۔ قائد اعظمؒ نے اپنے اس پیغام میں یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے پیغمبرؐ نے اس دنیا میں تشریف لاکر انسانیت کو معراجِ کمال تک پہنچا دیا۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات کا عمیق نظروں سے مطالعہ کریں۔ قائد اعظمؒ بڑے واضح الفاظ اور بڑے خوبصورت انداز میں ہماری راہنمائی کررہے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات کی عملی شکل سیرت رسولؐ ہے اور نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ سے روشنی لے کر ہم انسانیت کو معراج کمال تک پہنچاسکتے ہیں۔ قائد اعظمؒ نے اپنی کسی ایک تقریر میں نہیں، بلکہ کئی خطابات میں اپنایہ نقطۂ نظر بھی دہرایا کہ ہماری راہنمائی اور روشنی کے لئے قرآن حکیم میں ہمارے لئے عظیم پیغام موجود ہے اور مسلمانوں کو کسی اور پیغام کی ضرورت نہیں ،کیونکہ ان کے پاس قرآن پاک کی صورت میں ایک مکمل پیغام موجود ہے۔قائد اعظمؒ نے بار بار یہ اعلان بھی کیا کہ قرآن حکیم میں ہماری سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تمدنی زندگی کے لئے مکمل راہنمائی کا سامان موجود ہے۔ قائد اعظمؒ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ جو آزادی کے طلب گار ہیں، ان کو آزادی کا درس بھی قرآن ہی نے دیا ہے۔ قائد اعظمؒ نے مختلف مواقع پر بڑے تو اتر کے ساتھ یہ تعلیم بھی ہمیں دی کہ اسوۂ رسولؐ کی پیروی اور اتباع سے ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ قائد اعظمؒ نے ہمیں یہ بھی سمجھایا تھا کہ ہم مسلمان دنیا میں اپنا مقام، اپنی عظمت رفتہ سے اس لئے محروم ہوگئے ہیں، کیونکہ کسی نہ کسی وجہ سے ہم نے اپنے پیغمبرؐ کے نقشِ قدم پر چلنا چھوڑ دیا ہے۔ کامیابی اور فلاح کا راستہ وہی ہے جو حضرت محمدؐ نے ہمارے لئے متعین کیا تھا۔ قائد اعظمؒ کی وہ مشہور تقریر بھی، جوانہوں نے بطور گورنر جنرل 25جنوری1948ء کو کراچی میں کی تھی، وہ عید میلاد النبیؐ کی ایک تقریب سعید تھی جس میں قائد اعظمؒ نے ان عناصر کی مذمت کی تھی جو دانستہ طور پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق یہ پروپیگنڈہ کررہے تھے کہ پاکستان میں دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔ قائد اعظمؒ نے ایسے گمراہ عناصر کو جواب دیا تھا کہ آج بھی اسلامی اصول زندگی کے لئے اسی طرح قابل اطلاق ہیں، جس طرح وہ تیرہ سو سال پہلے تھے۔

قائد اعظمؒ نے یہ بھی کہا کہ اسلام ہی سے ہم نے جمہوریت، مساوات، عدل اور انصاف کا سبق سیکھا ہے۔ قائد اعظمؒ کی 25جنوری 1948ء کی پوری تقریر پڑھ لیں اور پھر قرار داد مقاصد پیش کرتے وقت جو تقریر لیاقت علی خاں نے بطور وزیر اعظم کی تھی، اس کا بھی مطالعہ کرلیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ لیاقت علی خاں نے یہ تقریر قائد اعظمؒ کے سچے پیروکار اور ہونہار شاگرد کے طور پر کی ہے۔قائد اعظمؒ کی روح جس طرح اسلام کی محبت سے سرشار تھی، قائد ملت لیاقت علی خاں میں بھی اسلام کے لئے ویسا ہی جذبہ موجود تھا۔ قائد اعظمؒ کے لئے کسی چیز کے اچھے یا برے ہونے کا پیمانہ اسلام تھا۔ قائد اعظمؒ کے اپنے الفاظ میں : ’’اگر کوئی اچھی چیز ہے تو عین اسلام ہے، اگر کوئی چیز اچھی نہیں ہے تو وہ اسلام نہیں، کیونکہ اسلام کا مطلب عین انصاف ہے‘‘۔۔۔ قائد اعظمؒ نے کئی مواقع پر خود کو اسلام کا ادنیٰ خادم قرار دیا۔ قائد اعظمؒ نے ہمیں یہ درس بھی دیا کہ قرآن کو اپنا قطعی اور آخری راہنما بنالو۔ قائد اعظمؒ نے یہ بھی فرمایا کہ سیاست اور معاشرت میں قرآن مجید نے ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کردی ہیں۔۔۔ یعنی یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا۔۔۔ اگر کوئی چند الفاظ میں قائد اعظمؒ سے اسلامی حکومت سے متعلق سمجھنا چاہتا ہے، تو ہمارے عظیم لیڈر کے الفاظ یہ تھے: ’’ اسلامی حکومت قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی کا نام ہے‘‘۔۔۔ قائداعظمؒ نے ہمیں حکم دیا کہ ہمیں اپنی جمہوریت، یعنی سیاسی نظام کی بنیاد سچے اسلامی نظریات اور اصولوں پر رکھنی چاہئے۔

کالم طویل ہوتا جارہا ہے، اس لئے مَیں قائد اعظمؒ کے انہی ارشادات پر اکتفا کرتے ہوئے معترض حضرات سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر قائد اعظمؒ کے ان ارشادات کو قرار داد مقاصد کے بجائے دستور پاکستان کا حصہ بنادیا جائے تو کیا وہ قبول کرلیں گے؟ قائد اعظمؒ نے قرارداد مقاصد سے بھی کہیں بڑھ کر اپنے ارشادات میں دستور پاکستان کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کردی تھی۔ قائد اعظمؒ کے ارشادات کی روشنی میں جو تصورِ پاکستان ابھرتا ہے، اسی کی عکاسی دستور ساز اسمبلی میں قرار داد مقاصد کی صورت میں کی گئی تھی۔ قرار داد مقاصد کو بلا جواز اپنی تنقید کا نشانہ بنانے والے قرار داد کے 9نکات میں سے کسی ایک نکتے کی نشاندہی بھی نہیں کرسکتے جو قائد اعظمؒ کے افکار اور تعلیمات کے مطابق نہ ہو، اس لئے یہ گزارش کروں گا کہ قرار داد مقاصد کے اصل محرک لیاقت علی خاں نہیں، بلکہ قائد اعظمؒ تھے۔۔۔پس تحریر:قائد اعظمؒ کی عظیم بہن فاطمہ جناحؒ نے فروری1951ء میں کراچی میں ورلڈ مسلم کانفرنس کے خواتین سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جو فرمایا وہ بھی پڑھ لیں، یوں معلوم ہوتا ہے کہ فاطمہ جناحؒ نے اپنے الفاظ میں قرار داد مقاصد کی تشریح کردی ہے۔انہوں نے فرمایا: ’’اسلام صرف ایک مذہب نہیں جو اللہ اور انسانوں کے درمیان رشتے کو متعین کرتا ہے، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمارے تمام اعمال میں ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی آمد کے ساتھ مساوات، اخوت اور انصاف کی تعلیمات پرمبنی ایک نئی تہذیب ظہور میں آگئی تھی۔ انسانی مساوات، مواخات اور انصاف کا یہ پیغام صرف عبادت گاہوں میں منبر پر کھڑے ہو کر نہیں دیا گیا تھا، بلکہ اس پر عمل بھی کرکے دکھایا گیا تھا۔ معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی میں سب کو برابری کا مقام دیا گیا اور سب کے لئے مساوی مواقع میسر کئے گئے۔ اعلیٰ ترین اور ادنیٰ ترین دن میں پانچ مرتبہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ درحقیقت یہ دنیا کو انسانی مساوات کا پیغام دینے کا عملی مظاہرہ ہے‘‘۔۔۔قرارداد مقاصد میں بھی یہی پیغام موجود ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی تعلیمات، یعنی اللہ کے احکامات اور سنتِ رسولؐ سے راہنمائی لی جائے گی اور تمام انسانوں کے لئے مساوات، اخوت اور انصاف پر مبنی معاشرتی، سیاسی اور معاشی نظام نافذ کیا جائے گا۔

مزید : کالم


loading...