بات گولی تک جا سکتی ہے

بات گولی تک جا سکتی ہے
بات گولی تک جا سکتی ہے

  


ہمارے منتخب نمائندوں کی گفتگو اب ’’زبان سے ہاتھ‘‘ تک پہنچ چکی ہے آنے والے دنوں میں معاملہ ’’لات‘‘ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ گالی تو بہت پہلے سے دی جا رہی ہے اللہ خیر کرے بات کہیں ’’گولی‘‘ تک نہ پہنچ جائے میرے محبوب لیڈر عمران خان نے مراد سعید کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مراد سعید کی جگہ میں ہوتا تو اس سے بھی زیادہ آگے جاتا۔۔۔ ادھر نوازشریف بھی جاوید لطیف کے حوالے سے بالکل خاموش ہیں ان کی خاموشی کا مطلب بھی عمران خان کی گفتگو سے مختلف نظر نہیں آیا۔ ایک واقعہ ہمارے سامنے کا ہے کہ ہمارے بزرگ دوست ڈاکٹر شیرافگن نے ایک بار قومی اسمبلی میں محترمہ عابدہ حسین کے بارے میں کچھ سخت گفتگو کی تو مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت حسین ان کے ساتھ دو ہاتھ کرنے کے لئے ان کی نشست کی طرف لپکے مگر دیگر اراکین نے انہیں روک دیا۔

یہ غالباً 1988ء کی بات ہے اس وقت بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں، ڈاکٹر شیرافگن وفاقی وزیر تھے۔ مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے درمیان ’’اٹ کھڑکا‘‘ لگا رہتا تھا۔ ڈاکٹر شیرافگن قومی اسمبلی میں حکومتی موقف بیان کرتے ہوئے بہت جذباتی ہو جایا کرتے تھے جبکہ عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید ان دنوں نوازشریف کے ایسے ہی تھلے لگے ہوئے تھے جیسے وہ جنرل مشرف کے نظر آتے تھے مگر اب وہ ترقی کر کے ہمارے محبوب لیڈر عمران خان کے اوپر لگے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شیرافگن نے قومی اسمبلی کے فلور پر جو بیان دیا تھا وہ شیخ رشید کے بیانات کے ردعمل میں تھا۔۔۔ شیخ رشید عوامی جلسوں میں بے نظیر بھٹو کیلئے ایسی زبان استعمال کرتے تھے کہ بعض مسلم لیگ کے رہنما ان کی گفتگو کو ناپسند کرتے تھے مگر موصوف چونکہ نواز شریف کے ’’نک چڑھے‘‘ وزیر تھے سو اپنی مرضی کیا کرتے تھے۔ یہ تو بعد میں بہاولپور جیل نے انہیں ’’فرزند‘‘ بننے پر مجبور کیا۔۔۔ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ان دنوں بہت ’’فساد‘‘ برپا رہتا تھا یہ تو جنرل مشرف آئے تو دونوں ایک دوسرے کی چھاؤں میں آگئے اور انہیں احساس ہوا کہ وہ سیاسی مخالفت میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی تعاون بڑھایا اور ذاتی قسم کے سیاسی حملے چھوڑ دیئے اور پھر سیاسی کامیابیاں حاصل کیں مگر اب گزشتہ چند سال سے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان شدید قسم کے سیاسی اختلاف ذاتی اختلاف میں بدلتے جارہے ہیں عمران خان نے اکثرمواقع اور مقامات پر بہت ناپسندیدہ گفتگو کی اور تو اور انہوں نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی نہیں بخشا اور انہیں ’’پھٹیچر‘‘ ریلو کٹا اور فوکر کے خطاب دے ڈالے نوازشریف کے بارے میں انہوں نے بعض سخت الفاظ استعمال کئے انہوں نے عوامی اجتماع میں ان کی شلواریں گیلی ہو جائیں گی جیسے جملے بھی کہے، اوے چور، لٹیرے، جیسے الفاظ تو وہ عموماً ادا کرتے ہی رہتے ہیں۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی اور پھر اس کے احاطے میں ہی مسلم لیگ (ن) کے جاوید لطیف اور پی ٹی آئی کے مراد سعید کے درمیان جو جھگڑا ہوااور اس کے جو مناظر مختلف نیوز چینلز نے دکھائے انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے اراکین نہیں ’’گلی کے غنڈے‘‘ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے جاوید لطیف بہت سینئر پارلیمنٹرین ہیں اور مختلف ٹاک شوز میں وہ اپنی جماعت کا موقف بیان کرتے ہہوئے بہت دھیمے انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ کسی کی بات کاٹ رہے ہو ں یا آستین چڑھا کے بات کر رہے ہوں، ان کا لب و لہجہ بہت شائستہ اور مہذب ہوتا ہے مگر دوسری جانب پی ٹی آئی کے نوجوان رکن قومی اسمبلی مراد سعید اکثر و بیشتر ٹاک شوز میں بہت جذباتی ہو جاتے ہیں اور کئی بار اپنی سے دگنی عمر کے شرکاء کے ساتھ ان کا رویہ بہت نا مناسب ہوتا ہے۔ مراد سعید نہ صرف یہ کہ اپنی مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ برے انداز میں بات کرتے ہیں بلکہ اپنی جماعت کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ بھی ہاتھا پائی کرتے رہتے ہیں، جماعتی طور پر بھی ان کے رویئے کو پسند نہیں کیا جاتا۔۔۔ مگر؟ عمران خان نے انہیں پی ٹی آئی کے مستقبل کا قائد قرار دے رکھا ہے، اس لئے اکثر رفقا ان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

جاوید لطیف اور مراد سعید کے درمیان پیش آنے والا جھگڑا بھی اسی جذباتی ردعمل کا نتیجہ ہے، جاوید لطیف نے قومی اسمبلی میں جو بات کی وہ بطور مثال تھی کہ اگر شیخ مجیب الرحمن، ولی خان اس گفتگو کی وجہ سے غدار ہیں تو پھر عمران خان اگر ویسی گفتگو کرتا ہے تو کیسے محب وطن ہو سکتا ہے۔ اب اصولی طور پر تو دونوں اراکین کو چاہئے تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں ہی اس بات پر بحث کرتے مگر دونوں نے قومی اسمبلی کے ’’احاطہ‘‘ میں ایک دوسرے کے ساتھ دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا اور بات ’’مکے‘‘ تک جا پہنچی۔۔۔۔۔۔ جاوید لطیف کے حوالے سے البتہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے مراد سعید کے حوالے سے نازیبا گفتگو کی اور ان کے خاندان کے حوالے سے بھی نا مناسب جملے کہے، جو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کئے جا سکتے، میرے خیال میں جاوید لطیف پرانے پارلیمینٹرین اور بزرگ آدمی ہیں انہیں گفتگو میں احتیاط کرنی چاہئے تھی۔۔۔ مگر انہوں نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا اور الفاظ ان کے منہ سے نکل گئے اور مراد سعید نے بھی زیادتی کی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ جاوید لطیف کے الفاظ اپنی جماعت کے سامنے رکھتے اور پھر قیادت مسئلہ قومی اسمبلی کے فلور پر اٹھاتی۔۔۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے سے ’’بدلہ‘‘ لیا ہے جاوید لطیف نے معافی بھی مانگ لی ہے کہ بات کو آگے نہ بڑھایا جائے یہ اچھی بات ہے کیونکہ دونوں جماعتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انہوں نے اسی ملک میں سیاست کرنی ہے اور اس ملک کے عوام دونو ں جماعتوں کے کردار کو دیکھ رہے ہیں، اب اگر دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت نے اس واقعہ کو بنیاد بنا کر مزید سیاست کی تو یہ ’’گالی گلوچ‘‘ گولی ’’تک‘‘ بھی پہنچ سکتی ہے۔ دونوں جماعتوں کے کارکن اپنی اپنی قیادت کی ہلہ شیری پر گلیوں، محلوں، چوراہوں اور سڑکوں پر ایک دوسرے کے خلاف پرتشدد رویہ اپناتے ہوئے لڑائی جھگڑے بڑھا سکتے ہیں، اچھی اور اعلیٰ قیادت بڑے بڑے مسائل حل کرنے کے لئے دانش سے کام لیتی ہے اور پھر یہ معاملہ معافی کے بعد ختم ہو جانا چاہئے تھا۔ میرے خیال میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور عمران خان اپنے اپنے رویئے پر غور کریں۔ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتیں (ن) لیگ کے بعض وزراء کو بھی آپے سے باہر نہیں ہونا چاہئے۔ عمران خان کو بھی اب ’’غصہ‘‘ تھوکتے ہوئے حقیقی ایشوز کو اٹھانا چاہئے۔

مزید : کالم


loading...