ادیب سہیل اور ابنِ کلیم بھی رخصت ہوئے

ادیب سہیل اور ابنِ کلیم بھی رخصت ہوئے
ادیب سہیل اور ابنِ کلیم بھی رخصت ہوئے

  


گزشتہ کالم میں مِرزا غالب کا ایک مصرع درست کرتے ہوئے کمپوزر صاحب نے گالیاں ’’سُنا‘‘ کے بے مزا نہ ہُوا‘‘ کو ’’گالیاں سُن کے بے مزا نہ ہُوا‘‘ کر کے وزن تو صحیح کر دیا، مگر اس کا کیا کِیا جائے کہ ’’سنا‘‘ نہ ’’سن‘‘ نہیں ہر عہد پر غالب مِرزااسد اللہ خاں غالب نے ’’کھا‘‘ کہہ رکھا ہے، یعنی گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہُوا۔ پورا صحیح شعر یُوں ہے:

کتنے، شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب

گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہُوا

یہ تو ہوئی بات شعر کی بلکہ مصرع کی دُرستی کی۔ اب آیئے اسی ماہ میں اِسی سال میں، یعنی ماہِ مارچ میں جلدی سے سوئے عدم’’کوئیک مارچ‘‘ کر جانے والوں کے ذکرِ خیر کی طرف۔۔۔ ابھی چند روز قبل 8مارچ2017ء کو کراچی میں مشہور مُدیر،شاعر، ادیب جناب ادیب سہیل90برس کی طویل عمر پا کر راہ�ئ مُلکِ عدم ہوئے۔ وہ18جون1927ء کو بِہار کے ضلع مونگیر میں پیدا ہوئے جہاں سے مبارک مونگیری اور غازی مونگیری اور کئی مونگیری لاحقے والے شاعر نامور ہوئے۔ مبارک مونگیری کا ایک مشہور شعر ہے:

کل تک تو تم فدا تھے مبارک کے نام پر

اب کیا ہُوا کہ اتنا بُرا ہو گیا وہ شخص

ادیب سہیل کا اصل نام محمد ظہور الحق تھا۔ ادیب سہیل کے نام سے شعر و ادب کی دُنیا میں معروف رہے۔ بِہار سے پہلی ہجرت کر کے وہ مشرقی پاکستان میں سکونت پذیر ہوئے۔۔۔ اُس زمانے میں وہ سید قاسم محمود کے دَورِ ادارت میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر ’’ادبِ لطیف‘‘ ڈھاکہ رہے یہ بات غالباً 1965ء کی ہے۔ 1971ء میں وہ مشرقی پاکستان سے کراچی آ گئے اور مُدتوں انجمن ترق�ئ اُردو کے ماہانہ رسالے ’’قومی زبان‘‘ کے مدیر رہے۔ اُنھوں نے اپنے ادبی ورثے میں دو شعری مجموعے ’’بکھراؤ کا حرفِ آخر‘‘ اور’’کچھ نظمیں ایسی ہوتی ہیں‘‘ کے نام سے یاد گار چھوڑے۔ ان کے علاوہ موسیقی کے موضوع پر اُنھوں نے ’’رنگ ترنگ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ ’’غمِ زمانہ‘‘ کے عنوان سے اُنھوں نے اپنی منظوم سوانح عمری بھی رقم کی۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر اور منفرد ادیب و مُدیر تھے۔۔۔!

گرد’ گرما‘ گدا و گورستان کے شہر ملتان میں نامور خطاط، شاعر، ادیب، ’’خطِ رعنا‘‘ کی بنیاد رکھنے والے ابنِ کلیم بھی71برس کی عمر میں چل بسے۔ابنِ کلیم احسن نظامی 3جنوری1946ء کو ملتان کے علاقے قدیر آباد میں اپنے دَور کے صاحبِ فن خطاط حسن خان کلیم رقم کے ہاں پیدا ہوئے۔ اپنے آبائی فنِ خطاطی میں اس قدر نام کمایا کہ تاج الدین زرّیں رقم نے ابنِ کلیم نظامی کو احسن التحریر کے لقب سے ملقب کیا۔ابنِ کلیم نے ابتدائی تعلیم اور دینی علوم میں دسترس کے بعد اپنے آبائی فن سے وابستگی اختیار کی اور وابستگی بھی ایسی کہ اس فن میں کمال حاصل کیا۔ ابتدا میں وہ خطاطی کے مرّوجہ خطوط پر کام کرتے رہے اور بالآخر 1974ء میں ایک نیا خط ’’خطِ رعنا‘‘ ایجاد کیا۔ اُن کی یہ ایجاد دُنیا بھر کے خطاطوں میں مقبول ہوئی۔ چنانچہ اُن کے فنِ خطاطی کی نمائشیں امریکہ، لندن، استنبول، اٹلی، دَمشق، بھارت، سعودی عرب، ایران، ڈنمارک، سویڈن غرض کہاں کہاں نہ ہوئی؟ وہ اپنے فن کی بدولت ہر جگہ پہنچے۔ابنِ کلیم اُردو سرائیکی کی31 کتابوں کے مصنف، مولف،مرتب تھے ان 31 کتابوں میں 8 کتابیں سرائیکی کی تھیں! خطاطی ہمیشہ سے ایک مقدس پیشہ یا شوق رہا ہے۔ زمان�ۂ قدیم میں درختوں کی چھال پر اور ہرن کی کھال پر جو خطاطی کی جاتی رہی وہ بھی عجائباتِ عالم میں موجود ہے۔ ابنِ کلیم عہدِ موجود کے ذہین و فطین خطاط تھے۔ ابنِ کلیم نے تمام عمر ملتان ہی میں گزاری۔ ملتان میں انہوں نے ’’دُبستانِ فروغِ خطاطی‘‘ کے ذریعے خطاطی کے فن کی ترویج اور فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔اُن کے دور میں خطاطی کے نصف درجن مروجہ اور مقبول خط تھے اُن میں خطِ کوفی۔ خطِ ثلث، نسخ۔ خطِ رقعہ، خطِ دیوانی اور خطِ نستعلیق شامل ہیں۔ابنِ کلیم نے ان سے ہٹ کر اپنی الگ شناخت ’’خطِ رعنا‘‘ کے ذریعے کرائی وہ خطِ رعنا کے موجد بھی کہے جا سکتے ہیں۔اُنھوں نے خطاطی کی گراں قدر میراث کے ساتھ چھ بیٹے، چار بیٹیاں اور بیوہ کو سوگوار چھوڑا۔ مرحوم خوش گفتار و خوش اطوار ملنسار عاجز بندے تھے۔اُنھوں نے شاعری بھی کی، نثر بھی لکھی، سفر نامے بھی تحریر کئے۔ کچھ کتابیں اپنے دستخطوں سے مختلف اوقات میں اس خاکسار ناصِر زیدی کو بھی عطا کیں جو میری ذاتی لائبریری کی زینت ہیں۔حق مغفرت کرے، بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں!

مارچ کے مہینے سے پہلے فروری کے مہینے کے کچھ نخچیروں کا ذکر کر چکا ہوں۔ محترمہ نگار احمد کا ذکر خیر رہ گیا تھا۔ بانو قدسیہ کی وفات کے بیس دن بعد24فروری 2017ء کو نگار احمد بھی اِس جہانِ فانی سے عالمِ جاودانی کو سدھاریں، وہ1945ء میں پیدا ہوئیں۔1970ء میں کیمبرج یونیورسٹی لندن سے اکنامکس میں گریجوایشن کی ، پھر پاکستان میں کئی برس تک قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھاتی رہیں جہاں اُن کے شوہر نامدار ڈاکٹر طارق صدیقی وائس چانسلر تھے۔ ٹیگور کے مشابہہ طارق صدیقی کھدر پوش تھے۔ نگار احمد عورتوں کی بیداری کی تحریک کی روح رواں تھیں۔اُنہوں نے شہلا رضا کے ساتھ مل کر 1966ء میں ’’عورت فاؤنڈیشن‘‘قائم کی۔ ایک ہمدرد، غمگسار، عورتوں کو معاشرے میں بہتر مقام دلانے کی للک رکھنے والی خاتون کا رخصت ہوجانا ایک سانحہ ہے ،ایک واقعہ ہے!

مزید : کالم


loading...