عدم برداشت:’’غنڈی رن پردھان‘‘

عدم برداشت:’’غنڈی رن پردھان‘‘
 عدم برداشت:’’غنڈی رن پردھان‘‘

  


بات مُنہ سے نکل کر ہی کوٹھے چڑھتی ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے مراد سعید اور حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کے جاوید لطیف کے درمیان تنازعہ نے سنجیدہ صورت اختیار کر لی اور اب بات بنائے نہیں بن رہی۔ سپیکر ایاز صادق نے تحقیق کیلئے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی، اس کمیٹی نے ایک ہی روز میں اپنا کام مکمل کر کے رپورٹ مرتب کر لی اور پھر اس کی خبر بھی شائع ہو گئی کہ کمیٹی نے مبینہ طور پر نتیجہ اُخذ کیا ہے کہ دونوں اراکین قومی اسمبلی نے ایوان کا تقدس پامال کیا ہے ان کو ایوان سے معافی مانگنا چاہئے اور جاوید لطیف کی رکنیت آٹھ روز اور مراد سعید کی دو روز کیلئے معطل کر کے ان کی تنخواہ بھی ضبط کر لینا چاہئے (معطل دِنوں کی)۔ اس خبر کی اشاعت کے ساتھ ہی ’’فعال‘‘ میڈیا میدان میں آ گیا۔ مراد سعید کو ’’ٹاک شو‘‘ میں مدعو کیا اور انہوں نے مبینہ خبر کے حوالے سے کمیٹی کے فیصلے کو پہلے ہی مسترد کر دیا۔ موقف وہی تھا کہ گولی تو کھائی جا سکتی ہے گالی نہیں، اب اس تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر ہی نہیں لایا جا رہا، لیکن اس طرح تو پانامہ گیٹ کے فیصلے میں تاخیر ہو رہی ہے اور ڈان لیکس کی تحقیقات تو مکمل ہو جانے کے بعد بھی اسرار کے پردوں میں ہے۔ محترم پرویز رشید ہی کی قربانی پر اکتفا کر لیا گیا ہے۔ یہاں اب صورتِ حال یہ ہے کہ مراد سعید ہی نے نہیں ان کے چیئرمین عمران خان نے بھی استرداد ہی کا حق استعمال کیا ہے اور یوں کمیٹی رپورٹ پہلے ہی متنازعہ ہو گئی، تاثر یہ ہے کہ یہ معاملہ نہیں نمٹے گا۔

پارلیمانی تاریخ بتاتی ہے کہ ایوانوں میں کئی بار نازیبا اور غیر متعلقہ الفاظ استعمال ہوئے، نشاندہی پر سپیکر کارروائی سے حذف کراتے رہے اور عمومی طور پر متعلقہ رکن معذرت کرتے اور معاملہ ختم ہو جاتا جیسا کہ حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں ہوا کہ معذرت کے الفاظ نے ایوان کی کشیدگی میں کمی کر دی۔ یہ کچھ ایسا تھا کہ ایوان میں تحریک انصاف کے رکن محترم اسلم اقبال بات کر رہے تھے کہ ان کا سپیکر رانا محمد اقبال خان سے مکالمہ ہو گیا۔اس دور ان رانا اقبال کے مُنہ سے ’’شٹ اپ‘‘ نکل گیا، اس پر تحریک انصاف کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور اسمبلی ہال کی بیرونی سیڑھیوں پر اپنا اجلاس کرتے رہے۔ بات لمبی ہوتی نظر آئی تو پارلیمانی روایت بھی یاد آ گئی اور قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں حکومتی اراکین نے مذاکرات کئے۔ فریقین کے درمیان معاملات طے پائے اور سپیکر رانا اقبال نے اپنے کہے گئے الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے الفاظ سے اراکین کی جو دِل شکنی ہوئی وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔ لو! جی! بات اتنی تھی، معاملہ نمٹ گیا اور اپوزیشن ایوان میں واپس آ گئی، کارروائی میں حصہ لینا اور اپنا کردار نبھانا شروع کیا اور عوام کا حق نمائندگی ادا کرنے لگے۔ یہی پارلیمانی روایات ہیں، قومی اسمبلی کا مسئلہ بھی حل ہونا چاہئے تھا،لیکن احساس ہوتا ہے کہ یہاں ’’اَنا‘‘ آڑے آ رہی ہے اور اب تو مبینہ رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔

یہ صورتِ حال برقرار ہے تو پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر کئی پہلوؤں سے بات شروع ہو گئی اور اب پھر قوتِ برداشت کا ذکر ہونے لگا ہے اور دور کی کوڑی لائی جا رہی ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ قومی سطح پر برداشت میں کمی ہوئی اور اب اس کی وجہ سے حادثات بھی ہونے لگے ہیں، ہمارے بچپن اور لڑکپن میں ہماری معاشرتی روایات میں برداشت بہت زیادہ تھی، خصوصاً بڑوں میں بدرجہ اتم موجود تھی،ہم لڑکے ایک دوسرے سے جھگڑتے تو اس کے اثرات بڑوں پر مرتب نہیں ہوتے تھے کہ جب والدین تک بات جاتی تو وہ اپنے اپنے بچے کو ڈانٹتے، دوسرے کے بچے کو کچھ نہ کہتے نتیجہ کے طور پر لڑائی بڑھتی نہیں تھی، لیکن آج صورتِ حال مختلف ہے۔ آبادی میں بھی بہت اضافہ ہو چکا اور معاشی تفکرات نے قوتِ برداشت بھی متاثر کی ہے۔ چنانچہ اب بات بات پر جھگڑے بھی ہونے لگے ہیں اور قومی اسمبلی میں بھی عدم برداشت کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں رائج مشرقی روایات بھی معدوم ہونے لگی ہیں۔ اگرچہ ’’بدمعاشی اور غنڈہ گردی‘‘ پہلے بھی ہوتی تھی،لیکن تب اس میں بھی فرق تھا اور ثقافتی، معاشرتی رنگ غالب تھا کہ شریف حضرات کی عزت کی جاتی تھی،لیکن آج اس میں فرق آ گیا کہ یہاں ’’چور اچکا چودھری، اور غنڈی رن پردھان‘‘ والا عمل شروع ہو گیا اور جو شہری اس عمل میں نہیں ان کو شریف بمعنی بزدل لیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اخبارات اور میڈیا میں کئی کہانیاں شائع اور نشر ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس کا کردار وہی ہے جو تھانے والوں کی ’’خدمت‘‘ کرے، وہی لاڈلہ ہوتا ہے۔ فرق اب یہ بھی ہے کہ یہ ’’پردھان‘‘ کمزوروں پر پل پڑتے ہیں یہ لوگ گندی زبان استعمال کرتے اور پولیس کی معاونت کے باعث جزا سزا سے محفوظ رہتے ہیں۔ یوں بھی یہ حریف کو صلح پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ میں بھی ایسا ہوا کہ سنگین سماجی جرم میں ملوث مدعی کو صلح پر مجبور کر چکے، اِسی طرح اس علاقے میں وہ لوگ دندناتے پھرتے ہیں، جو ’’پردھان‘‘ ہیں اور ان کو پولیس کی رعایت بھی حاصل ہے، حالانکہ ایک دور تھا، جب تھانے والے ایسے لوگوں کو ’’نتھ‘‘ بھی ڈال کر رکھتے تھے اور یہ جوئے وغیرہ کے اڈوں سے کمائی کرتے تھے۔ اب یہ سب ختم ہو چکا، اب تو یہاں بھی کسی بڑے آپریشن کی ضرورت ہے کہ کمی دور ہو اور شریف لوگوں کو بھی سانس لینے کا موقع ملے۔

مزید : کالم


loading...