تہذیب برائے سوشل میڈیا

تہذیب برائے سوشل میڈیا
تہذیب برائے سوشل میڈیا

  


غربت جہالت اور فراغت کسی بھی انسانی معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں مذہب کا بنیادی موضوع تہذیب النفس ہے، مگر کمال حیرت ہے کہ آج ہم سب شدید مذہبی ہونے کا دعویٰ کرنے کے بعد بھی انتہائی پست اخلاقیات کا مظاہرہ کر رہے ہیں یہ محض دعویٰ ہی ہے اخلاقیات کا کلی انحصار درحقیقت معقولات پر ہوتا ہے، جن معاشروں میں عقل و شعور کو گمراہی تصور کیا جائے وہاں صرف جنونیت ہی پروان چڑھ سکتی ہے پھر وہ چاہے مذہبی جنونیت ہو یا پھر ملحدانہ جنونیت، انسان شعور سے وابستہ ہے اور شعور تہذیب سے، عقل، ذہانت اور شعور کی کوئی حقیقت نہیں اگر اخلاق نہیں، شعور وجود کو مزین کرتا ہے اور اخلاق روح کو، سیدی رومی فرماتے ہیں :

علم را بر تن زنی مارے بود

علم را بر دل زنی یارے بود

ایک دور تھا جب اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لئے مکالمہ کا سہارا لیا جاتا پھر پرنٹنگ پریس نے انسانی معاشروں میں کھلبلی مچا دی اور آج سوشل میڈیا نے تو انسان کو فکری آزادی کی اوج پر پہنچا دیا سوشل میڈیا ایک ایسا محاذ ہے جہاں پر نہ صرف اپنی فکر کے لوگوں کو یکجا کیا جا سکتا ہے ،بلکہ پوری آزادی کے ساتھ اپنی فکر کی تظہیر و تشہیر بھی کی جا سکتی ہے کسی زمانے میں انسان کے فکری مقام کے تعین کے لئے معاشرتی اقدار کا مطالعہ کیا جاتا، مگر آج اس کی ضرورت نہیں رہی کسی بھی معاشرے کے نظریاتی تعین کے لئے اب وہاں کے سوشل میڈیا کا مشاہدہ کر کے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ معاشرہ فکری لحاظ سے کہاں کھڑا ہے۔ سوشل میڈیا پر بے ہنگم فکری دھماچوکڑی کی بنیادی وجوہ کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہمارا اپنا وہ اندرونی غبار ہے جو ہمیں فکری آزادی ملنے کے بعد باہر نکل رہا ہے فکری آزادی جس کا اجتماعی طور پر ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے آج ایک کلک کی مار بن چکی گویا کچھ بھی لکھا اور شیئر کیا جا سکتا ہے اب ایسی کامل اور حتمی آزادی کی دستیابی کے بعد انسان کا اصل ہی باہر آئے گا اور آ بھی رہا ہے مذہبی اقدار پر زبردست تنقید نہ صرف تنقید، بلکہ تضحیک ثقافتی پیراڈائمز کے پرخچے اْڑانا، تہذیب و شائستگی سے بیگانگی، مذہبی شخصیات اور روحانی اساتذہ پر استہزاء وغیرہ وغیرہ یہ ہے وہ فکری گردوغبار جس سے سوشل میڈیا اس وقت اَٹ چکا ہے اور یہ وہ سیلِ رواں ہے جس کے آگے بند باندھنا صریح حماقت ہے روکھی پابندی کے نتائج ہم پہلے بھی دیکھ چکے سرکاری کاغذات میں تو یوٹیوب تین سال بند رہی، مگر عوامی لحاظ سے یوٹیوب ایک گھنٹہ بھی بند نہ ہو سکی ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک سے نونہالانِ وطن کماحقہ مستفید ہوتے رہے میں اسلام آباد میں مقیم ہوں، لیکن میں وی پی این سنگاپور کا یوز کر رہا ہوں تو اب ڈھونڈیئے مجھے چراغ لے کر... یہ فکاہیات نہیں ،بلکہ وہ سنگین مسائل ہیں، جن کی طرف ہمیں سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہئے ۔

سدِ ذریعہ موجبِ فساد کے سوا کچھ نہیں پابندی کی نفسیات انسان کے اندر بغاوت کا مادہ پیدا کرتی ہے کسی فکر یا عمل سے روک دینا دراصل دماغ میں اس کا تخم بو دینا ہے ہمیں اس وقت صرف تربیت اور تہذیب پر توجہ دینی چاہئے سوشل میڈیا پر پابندی ماضی کی طرح بے سود ہی رہے گی۔ انٹرنیٹ نے کمیونیکیشن کے وہ ناقابلِ تسخیر ذرائع دریافت کر لئے ہیں کہ اب کسی بھی صورت اس سیلاب کو نہیں روکا جا سکتا ہمیں اگر اپنے معاشرے میں سوشل میڈیا کے کردار کو مثبت اور متوازن بنانا ہے تو اس کیلئے ہمیں فکری تربیت کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ پابندیاں عائد کرکے ہم صرف اپنے لئے مسائل ہی پیدا کریں گے۔ سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرکے اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ وہ اس طرح کے سنگین مسائل سے نجات حاصل کر لے گی تو یہ انتہائی مضحکہ خیز اقدام ہے ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی اپنے معاشرے کو اون ہی نہیں کیا جب نوجوان بدک جاتے ہیں بے مہار گھوڑے کی طرح، تو پھر سزا کے طور پر ہم ان پر کڑی پابندیاں لگا دیتے ہیں، تاکہ ان کی بغاوت سے نجات حاصل کر لیں، حالانکہ ایسا کرنے سے نجات حاصل کرنا تو رہا ایک طرف اْلٹا اپنے لئے مزید گھمبیر مسائل پیدا کر لیتے ہیں سوشل میڈیا ایک محیر العقول روحانی سماج ہے، جس میں ہر انسان کو اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملتا ہے۔ ایک دوسرے سے سیکھنے اور سکھانے کا عمل بغیر زمینی فاصلہ طے کئے جاری رکھا جا سکتا ہے ہمارے لئے اس وقت سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر فکری آزادی کی تحدید کر دیں تحدید برائے تہذیب یعنی اخلاقیات کا ایک باقاعدہ سیٹ تیار کیا جائے، جس میں سوشل میڈیا پر ہونے والی غیر مہذب حرکتوں کا تجزیہ کرکے ان کا محاسبہ کیا جائے اس کے برعکس یوں سوشل میڈیا کو مکمل طور پر بین کر دینا کوئی دانشمندی نہیں یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ ایسے اخلاقی اقدار وضع کرے جس کے وسیلے سے انسانی رویہ میں توازن لایا جا سکے ۔

کسی ایک خالص جمہوری ریاست میں عدالت کا کام جرم کا تعین اور قوانین کا نفاذ ہوتا ہے عدالت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ خود سے کوئی تعزیر یا حد وضع کر سکے سوشل میڈیا پر پابندی عدالت کے اختیار میں نہیں، بلکہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ میں بیٹھے عوامی نمائندوں کو کرنا ہے کسی بھی منتخب جمہوری حکومت کے وزراء پارلیمنٹ کے اجتماعی فیصلوں کے بعد کہیں جا کے اجرائے احکام کا اختیار رکھتے ہیں، مگر ہمارے ہاں ہر ادارہ اور ہر فرد اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے جو امور علماء کے دائرے

مزید : کالم


loading...