کیا حکومت کو فیصلے کا پیشگی علم ہو چکا ہے؟

کیا حکومت کو فیصلے کا پیشگی علم ہو چکا ہے؟
 کیا حکومت کو فیصلے کا پیشگی علم ہو چکا ہے؟

  


آج کل پاناما لیکس کیس کے فیصلے کے اعلان سے پہلے ہی شور مچا ہوا ہے کہ حکومت کے کار پردازوں کو پتہ چل چکا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آ رہا ہے۔ میڈیا پر آج کل جتنے بھی ٹاک شوز برپا کئے جا رہے ہیں ان میں یہی مسئلہ زیر بحث ہے۔شرکائے گفتگو وہی ہیں جن کے چہرے مہرے سارے پاکستان کی نگاہوں پر نقش ہو چکے ہیں۔ یہ کیس پہلے تو آٹھ نو ماہ تک سپریم کورٹ میں چلتا رہا اور ہر شام اس پر بحث و مباحثے ہوتے رہیّ اور پھر جب عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنانے کی بجائے اسے محفوظ کرنے کو ترجیح دی تو گویا میڈیا کو مزید سانس لینے کی مہلت (Breathing Space)مل گئی۔ لوگوں کی اکثریت چونکہ فیصلہ سننے کی منتظر ہے اس لئے میڈیا والوں کے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔ اور جب سے نون لیگ کے وزراء اور زعماء نے یہ بیان داغنے شروع کر دیئے ہیں کہ فیصلہ جو بھی آئے ہمیں منظور ہو گا، اس کا مطلب حزبِ اختلاف کے دانشور یہ نکال رہے ہیں کہ حکومت کو فیصلے کا پتہ چل چکا ہے اور تبھی تو اس کے وزراء و امراء ببانگِ دہل کہہ رہے ہیں کہ عدالت جو فیصلہ بھی کرے گی، ہمارے لئے قابلِ قبول ہوگا اور ہم اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں گے۔

راقم السطور قانونی اور عدالتی موشگافیوں سے بیگانہ ء محض ہے اور کبھی قانون کا باقاعدہ طالب علم نہیں رہا لیکن ایک عام شہری کی حیثیت سے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس موضوع کو میڈیا پر ڈسکس کرنے کی اجازت کیا توہینِ عدالت کے زمرے میں نہیں آتی؟ عدالت عظمیٰ کے پانچ فاضل ججوں پر مشتمل بنچ پر یہ الزام دھرنا کہ انہوں نے فیصلے کے بارے میں حکومت کو قبل ازیں آگاہ کر دیا ہے یا کوئی ایسا عندیہ دے دیا ہے، ان کی اثابتِ رائے اور ان کے پروفیشنل کردار پر ایک بڑا حملہ ہے۔لیکن اگر عدالت نے اسے توہینِ عدالت نہیں سمجھا تو عوام الناس یہی سمجھنے پر مجبور ہیں کہ عدالت نے اپنی توہین کے معاملے کو اتنا نازک اور حساس نہیں سمجھا کہ فیصلہ سنائے جانے سے پہلے افشائے فیصلہ کے الزام پر خواہ مخواہ چیں بہ جبیں ہوا جائے۔ میرا خیال ہے فاضل جج صاحبان نے ٹھیک ہی فیصلہ کیا ہے کہ عوامی اضطراب کی روائتی عاشقانہ /محبوبانہ بے قراری کو جذبات کے محدود اور تنگ دائرے سے نکال کر اسے حقائق کی کسی وسیع و عریض وادی میں دھکیل دیا جائے۔ وگرنہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ آج کا بے مہار میڈیا، توہینِ عدالت کے حسن و قبح پر بحث و تمحیص کا ایک نیا باب کھول دیتا اور پھر دوچار مہینے ساری قوم انہی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دی جاتی!

ملک کے نامور وکلاء اور سیاستدان جن میں اعتراز احسن جیسے دانشور اور مصنف شامل ہیں، ٹیلی ویژن شوز میں آکر برملا کہہ رہے ہیں کہ جس دن فاضل بنچ نے فیصلہ محفوظ کرنے کا اعلان کیا تھا، یہ فیصلہ اتنا سادہ، شفاف اور صریح تھا کہ اسی روز سنایا جا سکتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہہ رہے تھے کہ فاضل جج صاحبان نے جس فیصلہ کو سنانے میں اتنی دیر لگا دی ہے وہ پوری قوم کے اعصاب کا سخت امتحان لے رہا ہے۔ ساری قوم کی نظریں اور کان اس فیصلے کو دیکھنے اور سننے کیلئے بے تاب ہیں اور یہ بے تابی روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے اور شائد ایک لمحہ ایسا بھی آ جائے جب قوم کی تابِ شیکبائی جواب دے جائے۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا فاضل عدلیہ کو اس لمحے کا انتظار ہے؟ اگر نہیں تو مختصر فیصلہ سنانے میں کیا مصلحت تھی یا ہے؟ کیا آنے والے 20برسوں تک یاد رکھا جانے والا فیصلہ 20ماہ بعد آئے گا یا کیا اس کے لئے 20ہفتے درکار ہوں گے؟ کیا فاضل جج صاحبان کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو فیصلہ لکھنے یا املاء کرانے کے لئے درکار ہوتی ہیں؟

میں سوچ رہا تھا کہ یہ جو شک کیاجا رہا ہے کہ حکومت کو پتہ چل چکا ہے کہ فیصلہ اس کے حق میں آ رہا ہے تو اس کے امکانات کیا ہیں؟ وہ کون سے ایسے دَر یا دریچے یا دراڑیں ہیں جن سے فیصلے کی عبارتیں باہر جھانک سکتی ہیں اور حکومتی حلقے ان کو پڑھ اور دیکھ سکتے ہیں؟ میرے ذہن میں جو امکانات آ رہے ہیں میں ان کو قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ حاشا وکلّا میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ ان امکانات کی کوئی حقیقت بھی ہے۔۔۔ میں تو صرف امکانات کی حدود کا ذکر کرنا چاہتا ہوں:

پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی جج خود یہ تاثر کسی حکومتی حلقے کو دے دیں کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بات کی ہے اور ان کی اکثریت (پانچ فاضل جج صاحبان میں سے کم از کم تین) نے صاد کیا ہے کہ وزیراعظم بے قصور ہیں۔ لیکن کیا کسی سوچ کے فرشتے کو اتنی اجازت دی جا سکتی ہے کہ اس حد تک اونچا ’’اُڑ‘‘ سکے؟۔۔۔ میرے خیال میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کیا وہ سٹینوگرافر یا کمپوزر جس نے یہ فیصلہ کمپوز یا ٹائپ کرنا ہے کیا وہ قابلِ رسائی ہے؟ میرے خیال میں ایسے کمپوزر یا سٹینو گرافر یا ٹائپسٹ کو عدالتِ عظمیٰ کے ایوانوں میں بار نہیں مل سکتا۔۔۔ چنانچہ اس کا بھی کوئی امکان نہیں۔

تیسری صورت یہ ہے کہ کسی فاضل جج کا کوئی رشتہ دار ایسا ہے جو کسی جج کے دل و دماغ میں داخل ہو کر ان کے فیصلے کے آخری پیراگراف دیکھ اور پڑھ سکتا ہے۔ لیکن عدالتِ عظمیٰ کے جج صاحبان، عدالت عالیہ اور اس سے نچلی سطح کی عدالتوں کے طریقہ ہائے کار (SOPs) کی تمام سیڑھیاں طے کرکے اس منزل تک آئے ہوتے ہیں۔ ان کی ساری عمر فیصلوں کے رازوں کو پوشیدہ رکھنے کی ایکسرسائز میں گزری ہوتی ہے۔ ان کا کوئی نزدیکی یادورپار کارشتے دار ان کے دل و دماغ میں جھانک کر پاناما لیکس جیسے قومی اور اہم ترین فیصلے کے خدوخال (Contours) نہیں پڑھ سکتا۔ ہر فاضل جج کو اپنی عدالتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے ماضی و حال کی خبر ہوتی ہے اور یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ اس راز کے افشاء ہونے میں اگر ان کا نام آ جائے تو ان کا مستقبل کیا ہوگا اور مستقبل کا مورخ ان کو کس نام سے یاد کرے گا اور ان کے مقام کا کیا تعین کرے گا۔۔۔ اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ممکن ہے۔

چوتھی صورت یہ ہے کہ جس مشین (کمپیوٹر) پر یہ فیصلہ کمپوز کیا جا رہا ہے کوئی ہیکر (Hacker) اس کو ہیک کر لے اور اس ہیکر کا تعلق حکومتی حلقوں سے ہو یا خود حکومت کسی ایسے ہیکر گروہ کی خدمات حاصل کر لے جو ہیکنگ کے فن میں یدِ طولیٰ رکھتا ہو۔ آخر وکی لیکس اور پاناما لیکس بھی تو زندہ و پائندہ حقیقتیں ہیں۔ سنوڈن اور جو لین آسانج جیسے دماغ بھی تو اسی کرۂ ارض پر موجود ہیں اور یہ بات بھی غلط نہیں کہ اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ کس کمپیوٹر کو سو فیصد محفوظ (Secure) ڈکلیئر کیا جا سکے۔ چونکہ یہ کیس اور اس کا فیصلہ نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کی عدالتی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا اس لئے اس کی غائت اہمیت کے پیشِ نظر اس چوتھے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ یہ امکانی صورت، حدودِ امکانات کی آخری حدوں کو چھونے والی ہے۔ کیا پاکستان میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا افق اتنا وسیع ہے کہ وہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے اس تاریخ ساز فیصلے کو اپنی بغل میں لے سکتا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے یہ امکان بھی ایک بہت دور کی کوڑی ہے۔

میں آخر میں اس امکان پر بھی سوچتا رہا ہوں کہ سارے جج صاحبان کسی سٹینو گرافر یا کسی کمپوزر کی خدمات سے استفادہ ہی نہ کریں اور فیصلے کو اپنے ہاتھ اور قلم سے تحریر کریں۔۔۔ گو یہ بہت مشکل کام ہے لیکن مجھے بہت سے ایسے جج صاحبان کی اس پریکٹس سے شناسائی کا علم ہے۔ یہ شائد 1950ء کے اواخر کی بات ہے کہ میں نے ایک بار کسی فائل پر نیلی بار کالونی آفس پاکپتن کے ایک آفیسر کا ہاتھ سے لکھا ہوا فیصلہ دیکھا اور پڑھا تھا۔شائد ان کا نام ملک اللہ یار بندیال تھا اور وہ اس کالونی آفس میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کالونائزیشن آفیسر (E.A.C.O) کے طور پر تعینات تھے۔ مجھے یاد آ رہاہے کہ ان کے علاوہ ان سے سینئر دو آفیسر اور بھی اسی دفتر میں تعینات تھے۔ ایک کا نام حماد رضا تھا جو بعد میں لاہور ڈویژن کے کمشنر بھی رہے اور دوسرے ایک بنگالی مسٹر کرامت تھے۔ یہ دونوں CSP تھے اور اس زمانے میں ان کے نام کے ساتھ Esquire اور CSP وغیرہ بھی ضرور لکھا جاتا تھا۔ یہ بالترتیب کالونائزیشن آفیسر(C.O) نیلی بار کالونی اور اسسٹنٹ کالونائزیشن آفیسر (A.C.O) نیلی بار کالونی، پاکپتن کہلاتے تھے۔ ملک بندیال کے جس فیصلے کا ذکر کررہا ہوں وہ فل سکیپ (A-5) سائز کے دس صفحات پر لکھا ہوا تھا اور ملک صاحب نے اپنے قلم سے تحریر کیا تھا اور اردو میں تھا۔ مجھے تعجب تھا کہ اس دور میں بھی PCS کیڈر کے افسران اتنی فصیح و بلیغ اور پیشہ ورانہ / قانونی زبان کو کس آسانی سے اردو میں لکھ لیتے تھے۔

اس کے بعد جب میں پاک فوج میں آیا تو مجھے بہت سے سینئر آرمی آفیسرز کے طویل فیصلوں کو بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا جو ان کے اپنے قلم سے لکھے گئے تھے اور انہوں نے کسی سٹینو گرافر یا ٹائپسٹ کی مدد نہیں لی تھی۔GHQ آرکائیو میں آج بھی 1947ء سے لے کر 1960ء کے درمیان دس پندرہ برسوں میں کئی اہم مسودے آج بھی موجود ہوں گے۔ اس دور میں مسودوں (Drafts) کی شکل میں تحریر کرنے کا رواج اگرچہ عام نہیں تھا لیکن شاذ و نادر بھی نہیں تھا۔ یہ بھی امکان ہے کہ اس پاناما لیکس کیس کا وہ حصہ جو مقدمے کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ان کے تجزیئے پر بھی مشتمل ہو گا وہ شائد سٹینو گرافروں اور کمپوزروں سے لکھوایا جائے۔ لیکن جج صاحبان کی Findings والا حصہ شائد فاضل جج صاحبان اپنے ہاتھ سے لکھیں اور ان کو اس وقت اپنے سامنے کمپوز کروائیں جس وقت اور جس روز اس کو سنایا جانا ہو۔

قارئین گرامی! میں یہ سب کچھ محض اندازوں اور تخمینوں کا سہارا لے کر لکھ رہا ہوں۔ ممکن ہے یہ سب غلط ہو اور فاضل جج صاحبان کا فیصلہ تحریر کرنے کا انداز، اسلوب، طریقہ ء کار اور پریکٹس بالکل مختلف ہو۔ تاہم جب میڈیا پر آکر کئی دانشور حضرات، کئی ’’مستند‘‘ صحافی اور کئی معروف وکلاء یہ بیان دیں کہ شائد حکومت کو معلوم ہوگیا ہے کہ کیا فیصلہ آنے والا ہے اور وہ اسی لئے ’’شیر ‘‘ ہو گئی ہے اور برملا بیان پر بیان دیئے جا رہے ہیں کہ ’’ہرچہ بادا باد‘‘ ہم عدالت کے ہر فیصلے کو صدقِ دل سے تسلیم کریں گے تو پھر سوچ کا پنچھی بہت دور تک اُڑنے لگتا ہے!

مزید : کالم


loading...