جدید تحقیق پر مبنی کاروباری اصلاحات سے معاشی انقلاب ممکن ہے

جدید تحقیق پر مبنی کاروباری اصلاحات سے معاشی انقلاب ممکن ہے

لاہور(کامرس رپورٹر) جدید تحقیق پر مبنی کاروباری اصلاحات کے نفاذ سے ملک میں معاشی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ یہ با ت صوبائی وزیر صنعت ، تجارت و سرمایہ کار ی شیخ علاؤالدین نے گزشتہ روزسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی’’سمیڈا‘‘ کے زیر اہتمام یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی ( یو ایم ٹی) کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ دوسری سالانہ ایس ایم ای کانفرنس۔ انٹرنیشنل کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ افتتاحی نشست سے وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار خضر حیات گوندل، ترکی کے قونصل جنرل سردار دمیز، امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر ریبیکا فوکس، یو ایم ٹی کے ریکٹر ڈاکٹر حسن صہیب مراد، اور سمیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیر ایوب نے بھی خطاب کیا۔ مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں درست پالیسی سازی کیلئے تحقیقی سرگرمیوں کی کمی ہے ۔ لیکن انہو ں نے کہا کہ یہ کمی اعلیٰ تعلیمی ادارے معاشی اداروں کے ساتھ ملکر پوری کر سکتے ہیں۔اس ضمن میں انہوں سمیڈا کے کردار کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی سے ملک کو خوشحالی کی منزل تک پہنچایاجا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی اور سرکاری کاروباری اداروں کو تحقیقی اداروں کے ساتھ ملکر اپنے اپنے شعبوں سے متعلق تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔انہون نے امید کی کہ سمیڈا اور یو ایم ٹی نے اس سلسلے میں شراکت کی جو مثال قائم کی ہے وہ ملک میں تحقیقی کلچر فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ملکی خوشحالی کے مشن میں تمام نجی اور سرکاری اداروں کے شانہ بشانہ چلے گی۔وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار خضر حیات گوندل نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحا ت میں شامل ہے اور وزارت صنعت کا ادارہ سمیڈا ایس ایم ایز سیکٹر کی ترقی کیلئے نت نئی خدمات اور منصوبے وضع کر تا رہتا ہے ۔

ہمیں خوشی ہے کہ اس سلسلے میں عالمی معیار کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے درکار ریسرچ پر ہمارے ادارے نے خصوصی توجہ دینی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے امید کی کہ حالیہ ایس ایم ای کانفرنس اس جانب سنگ میل ثابت ہوگی۔سمیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیر ایوب خان نے اپنے خطبہءِ استقبالیہ میں کانفرنس اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی کیلئے درکار تحقیق کے حصول کیلئے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے ایک طرف قومی تعلیمی اداروں میں معیار ی کاروباری تحقیق کو فروغ دینا ہے تو دوسری طر ف عالمی سطح پر ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی کیلئے تحقیق پر مبنی بہترین اصلاحات سے آگاہی حاصل کرنا بھی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میںیونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کی خدمات کو خصوصی پر سراہا جبکہ یونیورسٹی آف لاہور، ایسوسی ایشن آف مینجمنٹ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹس پاکستان، جارج میسن یونیورسٹی، یونیڈو، پاکستان سٹاک ایکسچینج، انویسٹمنٹ پروموشن یونٹ اور بی سی این ای ڈی کے تعاون کاشکریہ ادا کیا ہے۔یوایم ٹی کے ریکٹر ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے کہا کہ سمیڈا کے ساتھ ملکر انہوں نے پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کو ایس ایم ای ڈویلپمنٹ سے متعلق تحقیقی سرگرمیوں پر مائل کیا ہے کیونکہ دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں تقریباََ ۹۹ فیصدی کاروباری ادارے ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سمیڈا کے اشتراک سے ایس ایم ای کانفرنس کی طرح ڈال کر پراؤیٹ ۔پبلک سیکٹر کی ایک قابل تقلید مثال قائم کر دی ہے۔ اب ضرور ت اس امر کی ہے دیگر اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی وطن عزیز کی تحقیقی ضروریات کو پور ا کرنے کیلئے آگے بڑھیں۔ترکی کے قونصل جنرل سردار ڈیمیز اور امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر ریبیکا نے بھی اس موقع پر پالیسی سازی کیلئے ریسرچ کی اہمیت پر زور دیا اور بتا یا کہ انکے ملکوں کی ترقی ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی سے منسوب ہے جس کی بنیاد تحقیق پر مبنی پالیسوں پر استوار کی گئی۔

مزید : کامرس


loading...