’’قسمت نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں‘‘

’’قسمت نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں‘‘

شخصیت: زبیر صدیقی سیکرٹری ’’دی ارقم‘‘ سکولز

انٹرویو:زلیخا اویس

عکاسی : عمر شریف

’’دی ارقم‘‘ سکولز پاکستان کا ایک بڑا اور اہم تعلیمی نیٹ ورک ہے۔جس نے بہت کم عرصے میں اپنے تعلیمی معیار کی بدولت اہم مقام حاصل کیا ہے اورطلبہ ء کی معیاری اوربنیادی تعلیم کو یقینی بنانے کا عزم لئے خدمات سر انجام دے رہا ہے۔

یہ ادارہ بچوں کی مضبوط تعلیمی بنیاد رکھنے کے لئے کلیدی کردار ادا کررہا ہے لیکن کچھ نیا اور منفرد کام کرنے کے جذبے کے ساتھ زبیر صدیقی نے اس میدان میں آنے کا ارادہ کیا۔

زبیر صدیقی ایک متحرک، فعال ،جدت پسند اور اپنے کام سے مخلص نوجوان ہیں۔

ارقم ایجوکیشنل سوسائٹی اور’’ دی ارقم‘‘ سکولز آل پاکستان کے سیکرٹری ہیں اور پورے ملک میں پھیلے ہوئے نیٹ ورک کو بطریقِ احسن چلا رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ جماعت اسلامی کے ایک اہم رہنما کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

ان کی محنت اور لگن کی وجہ سے ’’دی ارقم‘‘ سکولز بہترین اور معیاری تعلیم فراہم کرنے والے اداروں میں بہت اوپر آگیا۔کامیابیوں کے سفر کو جاری رکھنے اور بہترین تعلیمی ماحول کی فراہمی سے متعلق جاننے کے لئے ’’ روز نامہ پاکستان‘‘ نے سیکرٹری’’ د ی ارقم‘‘ سکولز زبیرصدیقی کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس میں ادارے کی فکر اور اس کے تدریسی نظریئے اور تعلیمی مسائل پر گفتگو نذر قارئین ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

س: اپنے ایجوکیشن و پروفیشنل کیریئر کے حوالے سے بتائیں؟

ج:میری پیدائش لاہور میں پیدا ہوئی ۔ سکول سے کالج ویونیورسٹی تک تمام تعلیمی مدارج بھی لاہور سے ہی طے کئے ۔زمانہ طالب علمی میں طلبہ یونین کا رکن بھی رہا اور تعلیمی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کی بہتری کے لئے بھی کام کئے۔سکول و کالج کی تعلیم کے دوران ہی سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف نوعیت کے رفاہی و سماجی کام بھی میری ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں۔

ایم۔بی۔اے کرنے کے بعد تعلیمی شعبے کو اپنے لئے منتخب کیا۔ اللہ کا شکر ہے علم کی روشنی پھیلانے کا یہ سلسلہ کامیابی سے جاری و ساری ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر خاص کرم ہے کہ اْس نے مجھے اس مقدس فریضے کے لئے چْنا ہے۔

طلبہ کی کریکٹر بلڈنگ کرکے انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لئے تیار کررہے ہیں۔ہم والدین کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ’’دی ارقم‘‘ سکولز پر اعتماد کیا۔ والدین کے تعاون کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

س: آپ نے ’دی ارقم‘ سکولز کا آغاز کب کیا؟

ج: ہم نے فیصل آباد میں’’ دارِ ارقم سکول‘‘ کے نام سے1993 ء میں اس عظیم جدوجہد کا آغاز کیا۔

پبلک و پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پنجاب گورنمنٹ کے تقریبا 16 کالجوں کے اندر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے قائم کئے اور پنجاب کے دور دراز علاقوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کو عام کرنے کے لئے گورنمنٹ آف پنجاب کے ساتھ مل کرکام کیا۔ اس سلسلے میں گورنمنٹ کالجوں میں پڑھنے والے تمام طلبہ کو کمپیوٹر کی تعلیم سے روشناس کروایا۔

سحر ایجوکیشنل گروپ کے ساتھ مل کر لاہور میں سکولوں کا ایک نیٹ ورک بنایا۔ بعد ازاں ارقم ایجوکیشنل سوسائٹی فیصل آباد کے ساتھ مل کر’’دارِارقم ‘‘سکولز کی ماسٹر فرنچائیزنگ کا ایک معاہدہ کیا جس کے تحت پورے ملک میں’’ ارقم‘‘ ایجوکیشنل سوسائٹی کے ساتھ مل کر’’ دارارقم‘‘ سکولزکا نیٹ ورک پھیلایا۔ تا ہم بعد میں دو گروپوں کے درمیان ٹریڈ مارک کے معاملے پرکچھ تنازعہ پیدا ہوا جس کی وجہ سے یہ معاملہ مختلف عدالتوں میں پہنچا اس کے بعد دونوں گروپوں نے اس معاملے کے حل کے لیے سینیٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان کو اپنا ثالث مقرر کیا۔ انھوں نے اس مسئلے کو حل کر نے کے لئے ایک کمیٹی بنائی جو کہ پروفیسر ابراہیم، معراج الھدا ء صدیقی اور محمد حسین محنتی پر مشتمل تھی۔ اس کمیٹی نے دونوں گروپوں کے ساتھ کئی ملاقاتیں کیں بعد ازاں پروفیسر ابراہیم صاحب ، میاں مقصود احمد اور امیر جماعت اسلامی پنجاب نے اپنی سر براہی میں دونوں گروپوں کی باہمی رضا مندی کے بعدارقم ایجوکیشنل سوسائٹی کے لئے ’’دی ارقم‘‘ سکولز کا نام فائنل کیا۔

اس وقت پورے پاکستان میں تقریبا 200 کے قریب برانچز کا ایک نیٹ ورک ارقم ایجوکیشنل سوسائٹی کے تحت چل رہا ہے۔سکولوں میں ہزاروں طلبہ وطالبات شاندار اندازمیں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ہم نئے نام اور نئے عزم کے ساتھ فروغ تعلیم اور ملک کے مستقبل کی سیرت وکردار کی تعمیر میں کوشاں ہیں۔

س:’’دی ارقم‘‘ سکولز کا وژن کیا ہے؟

ج: دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ایسے تعلیمی ادارے نہایت کامیاب ہیں جو بیک وقت جدید اور مذہبی تعلیم کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور اسی ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں ’’دی ارقم‘‘ نے یہ تجربہ کیا جو بہت کامیاب رہا۔

ادارے کی تعلیمی پالیسی جدید عصری تقاضوں کے مطابق ہے ۔ بنیادی طور پر اس ادارے کے قیام کا مقصد مسلمان بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی روشناس کروانا تھا تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جا کر اپنی دنیاوی زندگی میں بھی کا میابی حاصل کریں اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں۔ ’’دی ارقم‘‘ کا مقصد پاکستان کی نوجوان نسل کو اسلامی طرز پر جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا مسلمان اور پاکستان کا ایک باشعور شہری بنانا ہے۔

دی ارقم‘‘ سکولز نے بہت کم وقت میں بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے لیکن ہمارا ویژن ہے کہ یہ ادارہ پاکستان کا سب سے بڑے جدیداسلامک سکول سسٹم کا اعزاز حاصل کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے سخت محنت کی جا رہی ہے ۔ابھی یہ سلسلہ ابتدائی مراحل میں ہے، انشاء اللہ مستقبل میں ہم تعلیم کے سلسلے کو یونیورسٹی تک لے کر جائیں گے۔

وہ والدین جو اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلوانے کے ساتھ ساتھ اس کی مذہبی و اخلاقی رہنمائی چاہتے ہیں ان کی ترجیح ’’دی ارقم‘‘ سکولز ہیں اور یہ والدین کا اعتمادہے کہ آج ’’دی ارقم ‘‘کامیابی کی شاہراہ پر رواں دواں ہے۔

سوال:تعلیم سے محروم غریب بچوں کے لئے آپ کا کیا لائحہ عمل ہے؟

جواب: ’’ دی ارقم‘‘ سکولزمیں ہر طبقے کے بچے زیر تعلیم ہیں۔ لائق اور ذہین بچوں کوداخلہ ٹیسٹ کی بنیاد پر مختلف شرح پر اسکالر شپ دی جاتی ہیں۔ جبکہ غریب اور ضرورت مند بچوں کی فیس میں خصوصی رعائت کی جاتی ہے۔

‘‘دی ارقم‘‘سکولز کا جائزہ سسٹم بھی بہت موثر اور انفرادی ہے۔ ہمارے سکول کے فیصل آباد ریجن کے بچے نے بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے’’ دی ارقم‘‘ میرٹ ایوارڈ اور تعریفی اسناد حاصل کی ہیں۔ہمارے لئے تعلیم ایک مشن ہے اس کو کبھی آمدن کا ذریعہ نہیں بنایا۔

س: پاکستان کے ہرگلی محلے میں درجنوں سکول کھمبیوں کی طرح اُگے ہوئے ہیں،یہ ایک بھیڑچال ہے۔ آپ اس کا حصہ کیوں بنے؟

ج: ہم بھیڑچال کا حصہ نہیں بنے کیونکہ ہم نے تعلیمی ادارے کمرشل عزائم لے کر شروع نہیں کئے بلکہ ہمارے پیش نظر وہی ارفع و اعلیٰ مقاصد ہیں جو علم کے ہونے چاہیں۔ جیسا کہ آپ بھی جانتی ہیں کہ انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے جہاں وہ محبت و چاہت کے سایہ میں پلتا بڑھتا ہے جب یہ ہونہار اس کائنات میں بکھرے علوم کو اپنے اندر سمونے کی خاطر جدوجہد کے تقاضوں سے آشنائی حاصل کرنے کی خواہش کرتاہے تو ایسی درسگاہوں کی طرف رجوع کرتاہے، جہاں وہ تعلیم وتربیت کے ذریعے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارتاہے۔ ’’دی ارقم‘‘ سکولز ایسی عظیم درسگاہ ہے جہاں بچوں کو دورجدید کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ یہاں طلبہ وطالبات کو اسلامی تہذیب و ثقافت کا حامل تعلیمی ماحول فراہم کیاجاتاہے۔ ہمارے ہاں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ، تربیت یافتہ اساتذہ کا انتظام موجود ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ’’دی ارقم‘‘ اعلیٰ معیار اور اقدار کا حامل تعلیمی ادارہ ہے جہاں تزئین سیرت وکردار اور تعمیر مستقبل پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

س: آپ تعلیم کے اعلیٰ مقاصد کی بات کررہے ہیں جبکہ ہمارے نجی تعلیمی اداروں کا مزاج اس کے برعکس ہے، کیا وہاں تعلیم و تدریس کو کمرشل نہیں کردیاگیا؟

جواب: میرا خیال ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر حکومت نے ٹیکسوں کا بھاری بھرکم بوجھ لاد رکھاہے، ایسے میں وہ اپنا انتظام وانصرام برقرار رکھنے کے لئے نسبتاً زیادہ فیسیں وصول کرتے ہیں۔ اگرحکومت نجی تعلیمی اداروں کی اہمیت کو بھی تسلیم کرے اور ان پر بھی دست شفقت رکھے تو اس کے نتیجے میں وہ اپنا کردار مزید بہتر اندازمیں ادا کرسکتے ہیں اور عوام کو بھی زیادہ فیسوں کے بوجھ سے بچا سکتے ہیں۔ ساری دنیا میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے مل جل کر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اگر حکومت نجی تعلیمی اداروں کو ’ غیر‘ سمجھنا بند کردے تو اسی میں ملک و قوم کا بھلا ہے۔

سوال: ’’دی ارقم ‘‘سکولز کیسے دوسرے پرائیویٹ سکولوں سے منفرد ہیں؟

جواب: ہمارے سکولوں کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں دینی اور عصری تعلیم کا ایک حسین امتزاج پیش کیاجاتاہے، ہمارے یہاں ناظرہ قرآن کی تعلیم ہرمسلمان طالب اور طالبہ کے لئے ضروری ہے، البتہ حفظ قرآن اختیار ی ہے۔ جو طالب علم حفظ کرنا چاہے تو اسے چار برسوں کے دوران مکمل حفظ قرآن کرایاجاتاہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اسے تمام مضامین کی تعلیم اس طرح دی جاتی ہے کہ انھیں پڑھایا نہیں بلکہ سکھایاجاتاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کو پڑھانے کی نہیں بلکہ سکھانے کی ضرورت ہے۔

سائنس کے طلبہ و طالبات کے لئے سائنسی آلات سے آراستہ لیبارٹریز موجود ہیں جہاں عملی تجربات کروائے جاتے ہیں۔جدید کمپیوٹر لیب، لائبریریاں موجود ہیں۔

ہمارے سکول نیٹ ورک میں ایسے اساتذہ تعلیم دیتے ہیں جو کُل وقتی اساتذہ ہی ہیں جبکہ اکثر نجی تعلیمی اداروں میں بے روزگار نوجوان ہی ’اساتذہ‘ ہیں، انھیں جب کوئی بہتر ملازمت ملتی ہے، تو وہ سکول کی جاب چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض نجی سکولوں میں ایک سیشن میں طلبہ وطالبات کے کئی اساتذہ تبدیل ہوجاتے ہیں۔ جس کا بُرا اثر طلبہ وطالبات پر پڑتاہے۔ہمارے سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات اس نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔

اکثر سکولوں میں بچوں کی جسمانی تعلیم وتربیت کا اہتمام نہیں ہوتا، وہ ایک ایک کینال کے رقبے میں قائم ہوتے ہیں لیکن ہمارے سکول وسیع وعریض ہوتے ہیں۔اساتذہ کو جدید زمانے کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونے لئے وقتاََ فوقتاََ مناسب ٹریننگ دی جانی چاہیے۔’’ دی ارقم‘‘ میں اساتذہ کی تربیت کا بھی بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے بیرون ممالک کے تعلیمی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔’’دی ارقم‘‘ میں ایم ایس سی ،ایم ایڈ اور بی ایڈ کوالیفائیڈ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔

’’دی ارقم‘‘ سکولز کا مانیٹرنگ اور گریڈنگ سسٹم بہت مضبوط ہے۔سکولزکی بھرپور مانیٹرنگ کے علاوہ پاکستان بھر میں موجود شاخوں کی گریڈنگ کی جاتی ہے اور اگر کوئی شاخ معیار کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو اس کی رکنیت منسوخ کردی جاتی ہے۔

س:نجی تعلیمی اداروں کے فروغ کی بڑی وجہ کیا ہے؟

ج: نجی تعلیمی اداروں کے فروغ کی بڑی وجہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔ ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آئینی تقاضے پورے کرے۔ سستی اور معیاری تعلیم مہیا کرنا ریاست کا فرض ہے اور اگر ریاست اپنے فرائض ادا کرنے میں کوتاہی کرے گی تو پھر یقینی طور پر نجی ادارے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے سامنے آئیں گے۔ حکومت کی اسی کمزور تعلیمی پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی اداروں کی بھرمار ہو گئی ہے اور بعض اداروں نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے جس کے باعث جو ادارے تعلیم کو ایک مشن کے طور پر لے کر چل رہے ہیں ان کا تشخص بھی ایک حد تک پامال ہو رہا ہے۔

بڑی تعداد بچے سرکاری سکولوں سے نجی سکولوں میں منتقل ہورہے ہیں جس کی وجہ ہزاروں سرکاری سکولوں میں بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی ہے۔ جہاں نہ باؤنڈری وال موجود ہے نہ پینے کاصاف پانی، نہ ہی بچوں کے بیٹھنے کا کوئی معقول انتظام ہے نہ صفائی ستھرائی کا بندوبست۔کوئی بھی شخص اس حقیقت سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا کہ اقوام عالم کی ترقی کا دار و مدار انکی تعلیمی میدان میں ترقی سے وابستہ ہے۔ اور تعلیم کی موثریت کا اندازہ اسکے نظامِ تعلیم سے لگایا جا سکتا ہے۔جو اقوام اپنے نظام تعلیم کو اپنی قومی ضروریات کے مطابق ترتیب دیتی ہیں اور پھر اس کو معاشرے میں اس کی روح کے ساتھ پوری محنت اور قوت سے نافذ کرتی ہیں کیونکہ نظامِ تعلیم ہی وہ چیز ہے جو معاشرے کی ہر جہت کو درست سمت میں متعین کرتا ہے۔

1947سے لے کر اب تک کئی ایجوکیشن کمیشن بنے مگر ملک کو یکساں اور موثر نظامِ تعلیم نہ دیا جاسکا۔اب ملک میں سینکڑوں قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں۔اگر نجی تعلیمی ادارے اپنا کردار ادا نہ کرتے تو شعبہ تعلیم مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہوتا۔حکومتی سطح پر تعلیم کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی نہیں ہے۔جس کی وجہ سے سرکاری و نجی سکولوں میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔

انہی وجوہات کی بناء پر نجی شعبے کو فروغ حاصل ہوا۔ اگر دیکھا جائے تو نجی تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں۔

س: نجی تعلیمی اداروں پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ان کی نگرانی کا نظام موثر نہیں ہے ،آپ کیا کہتے ہیں؟

ج:ماضی میں نجی اداروں کو نگرانی میں رکھنے کے لئے کئی ایک کمیشن بنائے گئے ان کمیشنوں کے بنانے کا مقصد نجی اداروں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ریگولیٹ کرنا ہوتا تھا لیکن ان کمیشنوں سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے اور ایسے تمام کمیشن ناکام ہو گئے۔ جتنی بھی حکومتیں گزری ہیں انہوں نے تعلیمی مسائل کو ہمیشہ آئیڈیل ماحول میں حل کرنے کی کوششیں کیں۔ جہاں تک تعلق نجی اداروں کا ہے تو ایسا تب ممکن ہے جب حکومت بڑے گروپوں پر مانیٹرنگ رکھے گی۔ میں سمجھتا ہوں نجی اداروں کے سب سے بڑے نگران تو عوام خود ہوتے ہیں کیونکہ جو والدین بھی اپنے بچے کو نجی ادارے میں پڑھنے کے لئے بھیجتا ہے وہ ہر لحاظ سے خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے اورجب کسی ادارے پر اعتماد حاصل ہوتا ہے تب ہی وہ اپنے بچے کو داخل کرواتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ نجی اداروں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ سرکاری سکولوں کا انتظام بھی ٹھیک ہو سکتا ہے اگر اشرافیہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوائے۔جب ایسا ہوگاتو بلاشبہ نظام ٹھیک ہو جائے گا۔

س: کیا نجی ادارے قومی امنگوں کے مطابق ہی نصاب پڑھاتے ہیں؟

ج: نجی ادارے بھی قومی امنگوں کے مطابق ہی نصاب پڑھاتے ہیں مگر بدقسمتی سے چند انتہائی سنجیدہ وجوہات کی بناء4 پر نظام تعلیم میں یکسانیت نہیں رہی۔شعور و غور وفکر اس وقت ممکن ہے جب نصابِ تعلیم نہایت مضبوط بنیاد رکھتا ہو اور اسکے ساتھ ساتھ جملہ کوتاہیوں سے پاک ہو اور جس میں نفرت پھیلانے کے عناصر موجود نہ ہوں۔

18ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے شعبہ تعلیم کو نقصان پہنچا ہے۔ کسی بھی نظام تعلیم میں اس کا شعبہ نصاب مرکزی حیثیت رکھتا ہے اورمیرے خیال میں نصاب کا شعبہ صوبوں کے پاس نہیں بلکہ مرکز کے پاس ہونا چاہیے۔وفاق نے ہمیشہ ریاستی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب مقرر کیا ہے۔صوبوں کے نقطہء4 ہائے نظر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور نصاب صوبائی سطح پر مرتب ہونے سے صوبائیت کو ہوا ملتی ہے۔جس سے خدانخواستہ ریاستی وحدت خطرے میں پڑ سکتی ہیش۔حکومت اس حوالے سے سنجیدگی سے کوشش کرے تب ہی ایسا ممکن ہے۔

س:نصاب تعلیم کے ریاستی وحدت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

ج: پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور یہ ریاست دو قومی نظریے کی بنیاد پر تشکیل ہوئی ہے۔تعلیمی نصاب میں جدت ضرور آنی چاہیے لیکن ریاست کا وجود نظریے کی بقاء سے مشروط ہوتا ہے اور نظریے کی مضبوطی پرائمری ایجوکیشن سے ہی عمل میں آتی ہے۔

طبقاتی نظام زندگی، طبقاتی نظام تعلیم کی بڑی وجہ ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے میں میڈیم کا فریق پایا جاتا ہے۔ مختلف نظام تعلیم مختلف ذہنی سوچوں کو جنم دیتے ہیں جہاں ایک طرف اولیول، اے لیول اور کیمبرج سسٹم میں پڑھنے والے بچے لیڈرانہ، قائدانہ اور حکمرانہ سوچ لے کر تربیت پاتے ہیں وہاں دوسری طرف سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے محکومانہ سوچ لے کر تربیت پاتے ہیں اور یہی سوچوں کی تبدیلی ایک طبقاتی تقسیم کوجنم دیتی ہے۔ جس معاشرے میں تعلیمی تفرقات پائے جائیں گے اس معاشرے میں ہم آہنگی کیونکر قائم ہوسکتی ہے؟

س: ادارے نے ہم نصابی سرگرمیوں کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟

ج:ہم نصابی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہر سال کھیلوں کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ تفریحی و مطالعاتی دوروں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ ادبی مقابلوں میں شرکت کی جاتی ہے۔ طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں اور کامیاب ہونے والے طلباہ و طالبات میں انعامات تقسیم کئے جاتے ہیں تاکہ بچوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوسکے۔

س:شعبہ تعلیم میں بہتری سے متعلق آپ کا کیا پیغام ہے؟

خود پسندی اور خود غرضی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ معاشرے میں بہت سی کمزوریاں اور امتیازات ہیں۔ چاہے وہ مذہبی بنیاد پر ہوں، لسانی، علاقائی یا قومیت کی بنیاد پر ہر جگہ اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن بے حد افسوس کی بات ہے کہ وہ شعبہ جو معاشرے اور قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے وہ بھی تفریق کا شکار ہے۔جب تک تعلیم کے شعبہ میں تفریق کو ختم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکے گا۔

ارباب اختیار کو چاہیے کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم نافذ کریں۔ ہر طبقے کو بلا تفریق رنگ و نسل علم حاصل کرنے کے یکساں مواقع مہیا کئے جائیں۔ نجی تعلیمی ادارے حکومت کی طرف سے وضع کی گئی ہدایات پرعمل کرتے ہیں اس لئے حکومت کو پالیسی سازی میں نجی سیکٹر کو ضرور شامل کرنا چاہیے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...