پیلٹ گن کے استعمال کے سبب ایک ہزار کشمیری بینائی سے محروم

پیلٹ گن کے استعمال کے سبب ایک ہزار کشمیری بینائی سے محروم

جنیوا(کے پی آئی)جموں وکشمیر کونسل برائے انسانی حقوق جے کے سی ایچ آر نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے 34ویں سیشن کیلئے دو تحریر یں جمع کرا دی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانیت کے خلاف جرائم ہیں جن کے بارے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ اپنی نگرانی میں وفد بھیجے۔مقررین کے مطابق کشمیر میں بیرونی مداخلت کے حوالے سے اپنے دعوؤں کو سچا ثابت کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس کو کشمیر جانے کی اجازت دے۔ غیر سرکاری تنظیم جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس جسے یو این میں خصوصی مشاورت کا درجہ بھی حاصل ہے، نے یو این کی ہیومن رائٹس کونسل کے34ویں سیشن کے موقع پر جمع کرائے جانے والے دو تحریری ایجنڈے 3اور4میں اقوام متحدہ کی توجہ کشمیر مسئلے کی جانب سے مرکوز کرائی ہے ۔ جموں وکشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ ڈاکٹر سید نزیر گیلانی کے مطابق کونسل کے اجلاس میں انسانی حقوق کے حوالے سے امور پر خصوصی غور کیا گیا۔ جے کے سی ایچ آر کے بیان میں کہا گیا کہ ہیومن ائٹس کونسل کے گزشتہ برس ہونے والے اجلاس کے بعد کشمیر کے حالات زیادہ خراب ہوگئے ہیں۔ ہیومن رائٹس کے ہائی کمشنر کے تحقیقات کے حوالے سے مطالبے کا پاکستان نے خیرمقدم کیا ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ کی طرح انکار کردیا ہے جب کہ کشمیر میں سال 2016کے دوران پر تشدد مظاہروں کے دوران 150افراد شہید اور17000عام شہری شدید زخمی ہوئے۔

پیلٹ گن کے استعمال کے سبب ایک ہزار افراد مستقل طور پر بینائی سے محروم ہوگئے۔ بیان کے مطابق مقامی ڈاکٹرز بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فورسز مظاہرین پر ان کی کمر سے اوپر فائر کرتی ہیں جن سے خصوصا بچوں اور نوجوان لڑکیوں کی آنکھیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ انسانیت کے خلاف ان جرائم کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا مشن بھیجنا چاہیے۔ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر کے مطابق متعدد کیوں میں پیلٹ گن کے چھرے جسم سے نہیں نکالے جاسکتے، کیونکہ اس طرح جسم کے اہم اعضا متاثر ہوسکتے ہیں۔ چھروں کے سبب جسم میں زہر پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے اور خصوصا حاملہ خوتاین کے لیے یہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ علاقے کے عوام کو چار ماہ تک کرفیو کے نفاذ کے سبب نظربند رہنا پڑا۔ بیان کے مطابق مقامی افراد کی مشکلات میں ستمبر2014ء کے سیلاب کے بعد ہی اضافہ ہوا۔ سیلاب سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے جن کی امداد کیلئے حکومت نے کچھ نہیں کیا تھا۔ بیان کے مطابق کشمیر میں برہان وانی کی8 جولائی2016کو ہلاکت کے بعد فائر لائن پر45شہریوں کو ہلاک کردیا گیا اور139زخمی ہوئے جن میں خواتین، بوڑھے اور بچے بھی شامل تھے۔ بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کو اس صورت حال کی بہتری کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے پر مسئلہ5فروری1948کو سیکورٹی کونسل میں پیش ہوا تھا اور اس کے بعد کونسل کے241 اجلاس ہوچکے ہیں۔ بیان میں اس توقع کا اظہار بھی کیا گیا کہ برطانیہ اور ناردرن آئر لینڈ ہیومن رائٹس کونسل کے ارکان ہیں اور انہیں برطانوی پارلیمنٹ میں19جنوری کو ہونے والی اہم بحث کے حوالے کے لیے کہا گیا ہوگا۔ اس بحث کے دوران کشمیر میں ہنگاموں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھائے۔ پاکستان اور بھارت پر زور دے کہ وہ مسئلہ کے حل کے لیے مذاکرات کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے صدر اور وزیراعظم برطانوی یورپی پارلیمنٹ میں مسئلہ کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت نے کشمیر کی انتظامیہ کو آگاہ کریں اور ہیومن رائٹس کونسل تمام مکاتب فکر کے نمائندوں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دے۔ کونسل، برٹش پارلیمنٹ میں اے پی پی جی کے چیئرمین ڈیوڈ نٹال کو بھی بریفنگ کے لیے طلب کرے۔جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے صدر نذیر گیلانی نے کہا کہ انسانی حقوق کی کونسل میں بلجیم، چین اور برطانیہ موجود ہیں اور یہ ممالک اس وقت بھی کونسل کے حصہ تھے جب یہ مسئلہ پہلی مرتبہ پیش کیا گیا تھا۔ ہماری ان ممالک سے خصوصی درخواست ہے کہ یہ ممالک اس مسئلہ کے حل کے لیے خصوصی توجہ دیں۔ کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ کشمیری کتنے طویل عرصہ سے اپنے حقوق کے لیے کوشاں ہیں۔ نذیر گیلانی نے کہا کہ یکم جنوری1949ء کو جب جنگ بندی ہوئی تو اسو قت دیگر فریقین کے علاوہ مقامی کشمیریوں اور ان کی مدد کرنے کے لیے آنے والے مجاہدین نے بھی بندوقیں رکھ دی تھیں۔ لیکن اگر بھارت کا رویہ نہ بدلا تو قوی امکان ہے کہ مسئلہ کشمیر کے لیے اہم فریقین دوبارہ اپنی جدوجہد شروع کردیں جس سے خطے میں زیادہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ایک فرانسیسی ہفت روزہ جریدے نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ فِیوں پر باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اس بارے میں فرانس کے ریاستی دفتر استغاثہ یا فرانسوا فِیوں کے وکلاء کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

مزید : عالمی منظر


loading...