غداری کے مرتکب حقانی ،زرداری ،گیلانی کاکورٹ مارشل کیا جائے ،سپریم کورٹ میں درخواست

غداری کے مرتکب حقانی ،زرداری ،گیلانی کاکورٹ مارشل کیا جائے ،سپریم کورٹ میں ...

اسلام آباد228 لاہور ( ایجنسیاں228نامہ نگار خصوصی) امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق بیان کے خلاف مسلم لیگ ن کے رہنماء ظفرعلی شاہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق صدرآصف علی زرداری،سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور حسین حقانی کا کورٹ مارشل کیا جائے ۔تینوں افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں ، دائر کردہ درخواست میں وفاقی حکومت ، وزارت دفاع ، وزارت خارجہ ، سیکرٹری داخلہ ،وزارت قانون ، آصف علی زرداری ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ، اور حسین حقانی کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حسین حقانی نے ایبٹ آباد آپریشن کے لیے سہولت کار کاکردار اداکرنے کا اعتراف کیاہے، امریکہ کی افواج کو پاکستان کی ایک فوجی چھاؤنی کے علاقے میں مسلح یلغار سے متعلق صرف تین افراد کو پتہ تھا اور ان میں حسین حقانی کے علاوہ آصف زرداری اور یوسف رضاگیلانی بھی شامل تھے، ان تینوں افراد نے ملک و قوم کی سلامتی کو داؤ پر لگاتے ہوئے مکروہ سازش کرتے ہوئے قومی جرم کا ارتکاب کیا ۔ اس بات کا اعتراف حسین حقانی نے واشگاف الفاظ میں کیا ۔ آصف زردار اور یوسف رضاگیلانی نے اس بات کی تردید تک نہیں کی ۔سابق صدر آصف علی زرداری نے 2016میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف اور دیگر جرنیلوں کو مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ آپ لوگ چند عرصے کے لیے ہیں جبکہ ہم نے ہمیشہ رہنا ہے ، آپ اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ، اس تقریر کے بعد وہ ملک سے فوری طور پر باہر چلے گئے تھے اور دوبارہ آرمی چیف کی تبدیلی کے بعد وطن واپس آئے حسین حقانی ، آصف علی زرداری اور یوسف رضاگیلانی کے ساتھ ملکر قومی جرم کے ارتکاب کا اعتراف کر لیا ، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے دستور کے مطابق پاکستان کے ساتھ حلف وفاداری بھی اٹھا یا تھا اور لیکن اس کے باوجود انہوں نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا ، ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق معلومات کو افواج پاکستان سے خفیہ رکھا ہے ، تینوں افراد ملک کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں ان کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جانے ضروری ہیں ، اگر ان تینون افراد کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 اور دیگر قوانین کے تحت مقدمات نہ بنائے گئے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ 20کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی ہو گی اور آئند بھی ہر وقت اس بات کا خدشہ رہے گا کہ کسی بھی وقت ملک کی اندرونی خودمختاری کو خطرہ لاحق رہے گا ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں افرا د کے فعل سے نہ صرف درخواست گزار بلکہ پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوئے ہیں ، عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ حسین حقانی کوبیرون ملک سے لانے کے احکامات دینے کے ساتھ سابق صدر آصف علی زرداری،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اورحسین حقانی کانام ای سی ایل میں شامل کیاجائے۔درخواست میں کہاگیا ہے کہ حسین حقانی نے بیرون ملک روانگی سے قبل عدالت عظمی کو وطن واپسی کی یقین دہانی کرائی تھی۔حقانی ملکی سلامتی کے راز افشا کرتے رہے ہیں،۔لاہور سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کرنے کے لئے متفرق درخواست دائر کر دی گئی ہے، یہ درخواست سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفر اللہ خان نے دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حسین حقانی نے اپنے حالیہ کالم میں اعتراف کیا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق راز امریکہ کے حوالے کئے گئے، میموگیٹ سکینڈل میں حسین حقانی کے خلاف کیس سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے جس میں 2012ء سے حسین حقانی ضمانت پر ہیں اور امریکہ فرار ہیں، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حسین حقانی کو انٹرپول ذریعے پاکستان لایا جائے اور ان کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کیا جائے۔

ظفر علی شاہ

اسلام آباد( ایجنسیاں) امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے حالیہ بیانات اور انکے مضمون پر قومی اسمبلی میں زبردست گرما گرمی ہوئی۔ وزیر دفاع خواجہ محمدآصف نے حسین حقانی کے بیان پر پارلیمانی کمشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسین حقانی کے بیان سے قومی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اسامہ بن لادن کا ہماری سر زمین پر مرنا ہمارے لیے مسائل بڑھا رہا ہے،حسین حقانی نے اس وقت کے دو اہم عہدوں پر رہنے والوں پر الزامات لگائے ،اس وقت کی سویلین حکومت نے امریکیوں کو ویزے دیئے جو پاکستان میں امریکی مفادات کیلئے کام کرتے رہے،حسین حقانی کے بیان پر پیر کو پالیسی بیان دونگا، سعودی عرب میں بریگیڈ بھیجنے کی خبروں میں صداقت نہیں،یمن کے معاملے پر پاکستان نے کوئی فوجی مداخلت نہیں کی ۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حسین حقانی کے معاملے پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے کہ دہشت گرد کس کے دور میں آئے ۔ مشترکہ کمیٹی ڈان لیکس کی تحقیقات کرے اور وزیر اعظم کے بیرونی دوروں کے بارے میں بھی تحقیقات کرے۔ ۔وہ قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کررہے تھے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حسین حقانی عدلیہ سے واپس آنے کی یقین دہانی کرا کر ملک سے باہر گئے مگر آج تک واپس نہیں آئے۔ حسین حقانی نے اس دور کے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر الزامات لگائے ہیں۔ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ خورشید شاہ نے حسین حقانی کو غدار کہہ کر جان چھڑائی یہ ہماری قومی سلامتی کا ہے پالیسی بیان میں ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق سابق صدر آصف علی زرداری ‘ یوسف رضا گیلانی اور احمد مختار کے بیانات بھی ایوان کے سامنے رکھوں گا اسامہ بن لادن کا ہماری سر زمین پر مرنا ہمارے لیے مسائل بڑھا رہا ہے، ہر دو سے تین ماہ بعد کوئی نہ کوئی اٹھ کر اسامہ بن لادن کے حوالے سے ہم پر الزامات لگا دیتا ہے۔ حسین حقانی کے آرٹیکل سے ہماری قومی سلامتی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی ہوئی ۔ حسین حقانی اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ انہوں نے 60 لاکھ ڈالرکے بے جا اخراجات کیے اس وقت کی حکومت نے ملک کے خلاف اقدامات کی اجازت دی،سکیورٹی اداروں کے علم کے بغیر دبئی اور امریکہ سے ہزاروں افراد کو ویزے د یئے، امریکیوں کو ویزوں کے اجرا میں سابق وزیر داخلہ ملوث ہیں۔ سویلین حکومت نے ہزاروں افراد کو ویزیدیئے جو پاکستان میں امریکی مفادات کے لیے کام کرتے رہے، اس دور کے وزیر داخلہ بھی اس معاملے سے آگاہ تھے، یہ ہماری قومی سلامتی کے معاملے کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے۔تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ حسین حقانی کے معاملے پر کمیٹی بنائی جائے مگر گزشتہ چند روز سے مشرق وسطیٰ کے میڈیا میں یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ پاکستان نے ایک بریگیڈ سعودی عرب میں تعینات کی ہے۔ یمن کے معاملے پر اس ایوان میں پانچ دن بحث ہوئی تھی۔؂ خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب میں بریگیڈ بھیجنے کی خبروں میں صداقت نہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 1982ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت پاکستانی فوج سعودی عرب میں موجود ہے جس کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے جس میں ڈاکٹرز اور انجینئر شامل ہیں۔ یمن کے معاملے پر ہم نے قومی اسمبلی کی قرارداد کو حکم کے طور پر مانا۔ پاکستان نے سعودی عرب اور یمن کے تنازعے پر کسی قسم کی فوجی مداخلت نہیں کی۔ پاکستان نے اگر سعودی عرب میں کوئی بریگیڈ بھیجی تو اس ایوان کو ضرور آگاہ کریں گے ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ حسین حقانی کے معاملے پر پارلیمانی کمیشن قائم کرنے سے قبل اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حسین حقانی کے معاملے پر مجوزہ کمیٹی کے پاس اختیارات ہوں گے کہ وہ جس کمیشن کی چاہے رپورٹ طلب کرسکے گی۔ تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حسین حقانی کے معاملے پارلیمانی کمیٹی بنانے سے قبل کچھ چیزوں کی احتیاط ضروری ہے جس میں اگر میمو گیٹ کیس کی رپورٹ آگئی ہے تو اس کو جاری کیا جائے جبکہ ڈان لیکس کی رپورٹ کو بھی جاری کیا جائے۔ حسین حقانی کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز کو سراہتے ہیں۔پارلیمانی کمیٹی بنانے سے قبل حسین حقانی کے آرٹیکل میں جن ویزوں کے اجراء کا ذکر کیا گیا ہے ان ویزوں کی تعداد بھی جاری کی جائے کہ ان ویزوں کے ذریعے پاکستان آنے والے چھ سے سات فٹ کے آدمی پاکستان کی سڑکوں پر دندناتے پھرتے رہے اور اس حوالے سے بھی تفصیلات جاری کی جائیں کہ کتنے ویزے پاکستان اور کتنے دوبئی سے جاری ہوئے۔ سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت 4اکائیوں پر مشتمل فیڈریشن کو توڑنا چاہتی ہے۔،گزشتہ4سال میں وزیر اعظم کے پاس لندن ،ترکی اور دسرے ممالک جانے کا ٹائم تھا مگر غریب کیلئے ٹائم نہیں تھا،آجالیکشن نزدیک آرہے ہیں تو وزیراعظم کو غریب عوام کا درد محسوس ہورہا ہے ،وفاق ترقیاتی منصوبوں پر تفریق کر رہا ہے،حکومت چاہتی ہے کہ آدھا پاکستان بھوکا رہے کیونکہ وہ ان کا سیاسی مخالف ہے یہ جمہوریت نہیں ڈکٹیٹر شپ ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ وزیراعظم نواز شریف گزشتہ چار سال کے دوران صرف اٹھارہ دن ایوان میں آئے ایک سو سات دن ملک سے باہر رہے۔ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں دوسری جانب ہماری عوام دہشت گردی کے خلاف لڑرہی ہے مگر اس کے باوجود دنیا کی جانب سے ہم پر شک کیا جارہا ہے اور ہم پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ پیپلز پارٹی چالیس سال ڈکٹیٹروں کے ساتھ لڑی اس ملک میں دہشت گردی سویلین حکومت نہیں بلکہ ایک ڈکٹیٹر لے کر آیا۔ پاکستان میں ضیاء الحق نے دہشت گردی کا پودا لگایا اور اس پودے کا ایک حصہ آج حکومتی بنچوں میں بھی ہے۔ اب الیکشن نزدیک آرہے ہیں تو وزیراعظم نواز شریف کو غریب عوام کا درد محسوس ہورہا ہے جو چار سال محسوس کیوں نہیں ہوا۔ غریب صرف ووٹ لینے کے وقت یاد آتا ہے پیپلز پارٹی نے اپنے گزشتہ پانچ سال میں صوبوں کو اپنے حصے کے فنڈز کاٹ کر این ایف سی ایوارڈ دیا مگر موجودہ حکومت گزشتہ تین سال سے این ایف سی ایوارڈ دینے کو تیار نہیں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نوے دن کے اندر بلانا ضروری ہے مگر حکومت نے گزشتہ چار سال کے دوران مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس صرف چار دفعہ بلا کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ حکومت نے اپنے ارکان کے علاوہ صرف مولانا فضل الرحمن ‘ اکرم خان درانی اور بلوچستان میں دو ارکان کو گیس منصوبے دیئے ہیں۔ سندھ کو جو 72 فیصد گیس پیدا کرتا ہے ان کو گیس کے منصوبے نہیں دیئے جارہے۔ فاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ ملک میں جو بھی بڑا منصوبہ اٹھاؤ گے نیچے سے نواز شریف کا نام نکلے گا، آج بے نظیر بھٹو کی روح خوش ہوگی کہ نواز شریف نے ان سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا،نواز شریف کے ہر دور اقتدار میں ملک میں ترقی کا نیا سفر شروع ہوا،سی پیک سے دنیا کا فوکس پاکستان پر ہوا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ اپوزیشن ہم پر کیچڑ اچھالتی رہے اور ہم خاموشی سے سنتے رہیں، حقائق پر پردہ پڑھا رہنے دیں تو اچھا ہے پردہ اٹھ گیا تو کچھ بھی نہیں بچے گا وزیراعظم نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کی لاش پر کھڑے ہو کر جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردکھایا۔ آج بینظیر بھٹو کی روح بھی خوش ہوگی کہ ان سے کئے گئے وعدے پورے کئے گئے۔

مزید : صفحہ اول


loading...