سینیٹ اجلاس،مردم شماری کو پیشگی غیر شفاف قرار دینا افسوسناک ہے :حکومت

سینیٹ اجلاس،مردم شماری کو پیشگی غیر شفاف قرار دینا افسوسناک ہے :حکومت

اسلام آباد (آئی این پی)سینیٹ میں اسلام آباد پولیس کی طرف سے دو لڑکوں پر تشدد کے حوالے سے فنکشنل کمیٹی ،وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے مالی سال 2016۔17ء کیلئے بجٹ کی تخصیص اور استعمال سے متعلق قائمہ کمیٹی ، مردم شماری اور فاٹا کے آئی ڈی پیز کو اسکا حصہ بنانے سے متعلق قائمہ کمیٹی خزانہ و اقتصادی امور کی رپورٹس بھی پیش گئیں جبکہ ایوان بالا میں وزیر مملکت بلیغ الرحمن کی طرف سے پنجاب سے داعش کی بھرتیوں اور فرقہ وارانہ منافرت کے حوالے سے تحریک التواء پر بحث کی مخالفت پر سینیٹر شیری رحمان غصے میں آ گئیں اور کہا کہ حکومت ایک طرف فوجی عدالتوں کے معاملے پر تعاون مانگ رہی ہے اور دوسری طرف دہشت گردی پر بات نہیں کرنے دی جا رہی ہے ، ہم دہشت گردی کیخلاف سب سے آگے کھڑے ہیں ہماری زبان بند نہیں کرائی جا سکتی۔پینل آف پریزائیڈنگ آفیسرز کے رکن سینیٹر احمد حسن نے سینیٹر شیری رحمان کے احتجاج کے بعدتحریک التوا ء کو بحث کیلئے منظور کرلیا۔ کارپوریٹ بحالی بل 2017ء پر قائمہ کمیٹی خزانہ و اقتصادی امور کی رپورٹ پیش کرنیکی مدت میں 30 دن کی توسیع کی بھی ایوان نے منظوری دیدی۔ ایوان بالا میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ مردم شماری کیلئے قومی شناختی کارڈ لازمی دستاویز نہیں ،مردم شماری کے طریقہ کار کی مشترکہ مفادات کونسل نے منظوری دے رکھی ہے اسے پیشگی غیر شفاف قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے ، پاک فوج کی خدمات کا مقصد مردم شماری کو شفاف بنانا ہے ، جہاں شک ہو گا وہاں نادرا سے تصدیق کروائی جائیگی ،مردم شماری کے طریقہ کار پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا جبکہ سینیٹر نگہت مرزا کی طرف سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانیز پیر صدر الدین راشدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر سعودی عرب کے شہر دمام اور عزیزیہ میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے گئے جبکہ تمام پاکستانیوں کی واپسی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں چھوڑیں گے ، ،سینیٹر اعظم سواتی کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں جہاں بھی قانون کی خلاف ورزی ہوگی ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ پی او ایف کے معاملات کے حوالے سے تحقیقات سے مطمئن نہیں دوبارہ انکوائری کا حکم دیا ہے۔ دو ہفتے میں ایوان میں رپورٹ پیش کردی جائے گی۔ جبکہ وقفہ سوالات میں سینٹ کوبتایاگیا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے او پی ایف ہاؤسنگ اور تعلیم کے آٹھ منصوبوں پر کام کر رہی ہے‘ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے سے صوبے کے ترقیاتی فنڈز بھی ان علاقوں میں خرچ ہو سکیں گے ٗ جامعات تحقیقی سرگرمیوں کا کام کر رہی ہیں جن سے معاشرے کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی ٗ بھارہ کہو بازار میں فلائی اوور بنانے کا این ایچ اے کا کوئی منصوبہ نہیں ٗ رواں مالی سال کے بجٹ میں کھاد پر خصوصی سبسڈی کا اعلان کیا گیا‘ حکومت کے امدادی پیکج سے کسانوں کی حالت میں بہتری آئیگی ٗملک میں سرکاری شعبے میں ایک بھی ہومیو پیتھک میڈیکل کالج کام نہیں کر رہا۔

مزید : علاقائی


loading...