ملک بھر میں خانہ ومردم شماری شروع،عوام نمائندوں سے مکمل تعاون کریں:آصف باجوہ

ملک بھر میں خانہ ومردم شماری شروع،عوام نمائندوں سے مکمل تعاون کریں:آصف باجوہ

لاہور، اسلام آباد (جنرل رپورٹر،این این آئی)ملک بھر میں 19 سال بعد خانہ و مردم شماری کا آغاز ہوگیا ہے جو 25 مئی تک مکمل ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں بدھ سے خانہ و مردم شماری کا آغاز ہو گیا ہے جو 2 مراحل میں 25 مئی تک مکمل ہو گا، مختلف شہروں میں شمار کنندگان کو متعلقہ سامان فراہم کر دیا گیا ہے ٗصبح 8 بجے ملک بھر کے منتخب اضلاع میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کے دوران ایک لاکھ 18 ہزار سے زیادہ شمارکنندگان پہلے 3 روز تمام عمارتوں کی گنتی کریں گے اور پھر 18 مارچ سے افراد کی گنتی شروع ہو گی، فوج کے 2 لاکھ جوان سیکیورٹی کیلئے بھی موجود ہوں گے ٗ14 اپریل تک جاری رہنے والے مردم شماری کے پہلے مرحلے میں خصوصی فارم اور جدید ترین مشینری استعمال ہوگی تاکہ کوئی بھی مردم شماری کے نتائج پر اعتراض نہ کر سکے ٗپہلے مرحلے میں پنجاب سے جو اضلاع شامل ہیں اْن میں لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے نام اہم ہیں ٗ سندھ میں کراچی کے 6 اضلاع کے علاوہ حیدرآباد اور گھوٹکی میں بھی مردم شماری ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سید مر دم شماری کے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز،محکمہ شماریات کے افسران اور پاک فوج کے افسران تحصیل لیول پراس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سید نے ما ڈل ٹا ؤن جی بلاک کا دورہ کیا اور وہاں پرخانہ شماری کی ٹیموں کے کام کا جا ئزہ لیا اور انہوں نے خود ما ڈل ٹا ؤن کے ایک گھر پر خانہ شماری کا نمبر بھی لگا یا۔خیبرپختونخوا کے ضلع پشاور، مردان، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور فاٹا میں اورکزئی ایجنسی جیسے اضلاع میں لوگوں کی گنتی ہوگی۔ بلوچستان سے کوئٹہ، نصیرآباد، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے اضلاع مردم شماری کے پہلے مرحلے کا حصہ ہیں اسی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 5، 5 اضلاع میں مردم شماری پہلے مرحلے میں ہی ہوگی۔مردم شماری کیلئے کراچی کو 14 ہزار 552 بلاکس میں تقسیم کر کے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، فوج اور رینجرز کے علاوہ 16 ہزار پولیس افسران اور اہلکار سیکورٹی فرائض سرانجام دینگے۔ شہرقائد کو اس مقصد کے لیے 365 چارجز، 2 ہزار 412 سرکلز اور 14 ہزار552 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک شمار کنندہ 2 بلاکس کا ذمہ دار ہوگا، ایک بلاک کی خانہ شماری 15 سے17 مارچ تک جاری رہے گی اور پھر 18 سے27 مارچ تک اسی بلاک کی مردم شماری ہوگی ٗ 28 مارچ کا دن بے گھر افراد کی شماری کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ خانہ اورمردم شماری کیلئے 16 ہزار افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے جن میں سے 10 ہزار500 اہلکار کراچی جبکہ ساڑھے 5 ہزار اہلکار اندرون سندھ سے بلائے گئے ہیں۔

مردم شماری

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے کہا ہے کہ مردم شماری آئینی عمل ہے ٗ عوام مردم شمار ی کے نمائندے سے مکمل تعاون کریں ٗ مردم شماری کو شفاف بنانے کیلئے اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی حمایت حاصل ہے ان کی زیر نگرانی بین الاقوامی اور مقامی مبصرین آ رہے ہیں جو اس عمل کا جائزہ لیتے رہیں گے۔بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ ان کو اِس وقت درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عوام کو اِس بات پر مائل کیا جائے کہ وہ مردم شماری کا نمائندہ ان کے پاس جائے تو اس سے تعاون کریں اور اْس وقت کریں جب وہ آپ کے گھر پر آئے نہ کہ کسی اور وقت آنے کا کہیں۔انہوں نے بتایا کہ اِس کے علاوہ دوسرا چیلنج ادارے کا انتظامی ہے جس میں عملے کے ایک لاکھ 18 ہزار افراد کی تربیت اور انہیں پونے دو لاکھ بلاکوں میں تقسیم کر کے اندراج کروانا اور پر کیے گئے فارمز کی واپسی شامل ہے۔آصف باجوہ نے بتایا کہ مردم شماری کو شفاف بنانے کیلئے اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی حمایت حاصل ہے اور اْن کی زیر نگرانی بین الاقوامی اور مقامی مبصرین آرہے ہیں جو اِس عمل کا جائزہ لیتے رہیں گے اور ادارہ برائے شماریات اْن کو ملک کے طول و عرض میں جانے میں مدد فراہم کریگا۔انہوں نے بتایا کہ غلط معلومات فراہم کرنے پر جرمانے اور سزائیں دینے کا زیادہ دآرومدار شمار کیے جانے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے پر ہے۔اْنھوں نے بتایا کہ ہم نے شناختی کارڈ کو سکین کر کے خاندان کی تفصیلات نکالنے کا انتظام بھی کیا ہوا ہے تو اِس طرح بھی معلومات کی پڑتال ہو سکے گی۔ ا س کے علاوہ فارم عام نہیں بلکہ مشین ریڈایبل فارمز ہیں۔

آصف باجوہ

مزید : علاقائی


loading...