گاڑیوں کے استعمال شدہ درآمدی پارٹس کی مد میں سالانہ اربوں روپے ٹیکس چوری

گاڑیوں کے استعمال شدہ درآمدی پارٹس کی مد میں سالانہ اربوں روپے ٹیکس چوری

لاہور (ارشد محمود گھمن /سپیشل رپورٹر ) ڈرائی پورٹس سے گاڑیوں کے استعمال شدہ پرانے پرزہ جات پر حکومتی خزانے کو ڈیوٹی کی مد میں سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی کی بندرگاہوں پر بیرون ملک سے درآمد شدہ اولڈ آٹو پارٹس بانڈڈ کیریئرز کے ذریعے اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر بھیجے جاتے ہیں۔کراچی سے اسلام آباد ڈرائی پورٹ جانے والی گاڑیوں کے استعمال شدہ پرانے پرزہ جات (اولڈ آٹو پارٹس ) پر فی کنٹینر 8 لاکھ روپے کی درآمدی ڈیوٹی کے چوری ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے ، در آمدی ڈیوٹی کی چوری کسٹم کے بعض افسران کلیئرنگ ایجنٹوں سے ملکر کررہے ہیں ، اس معاملے پر کسٹم انٹیلی جنس یونٹ نے معلومات جمع کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ در آمد کئے جانے والے اولڈ آٹو پارٹس سے بھرے ہوئے 40 فٹ کے ایک کنٹینر پر کسٹم کی در آمدی ڈیوٹی 18 لاکھ روپے تک ہوتی ہے ، تاہم جب یہی کنٹینرز اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر پہنچتے ہیں تو ان پر وصول کی جانے والی درآمدی ڈیوٹی 8 لاکھ روپے تک رہ جاتی ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی برس سے جاری ہے ۔ کرپشن میں کلیئرنگ ایجنٹس شامل ہیں جنہیں اعلیٰ افسران کی مکمل معاونت حاصل ہے۔ اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر سامان کے معائنہ کے دوران پارٹس کی تعداد کم ظاہر کردی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ڈیزل انجن کو پٹرول انجن ظاہر کر دیا جاتا ہے کیونکہ ڈیزل انجن کے مقابلے میں پٹرول انجن پر درآمدی ڈیوٹی کم ہوتی ہے ۔ کسٹم افسران کی ملی بھگت سے امپورٹرز اور کلیئرنگ ایجنٹس آنے والی کنسائنمنٹس کو کراچی میں کھلوانے کے بجائے ڈرائی پورٹس پر بھیج دیتے ہیں ، جہاں کسٹم ایجنٹس ملی بھگت کر کے سامان کلیئر کراتے ہیں ، فی کنسائنمنٹ 4 سے 5 لاکھ روپے رشوت لی جاتی ہے جس پر کسٹم انٹیلی جنس نے تحقیقات شروع کردی ہے۔

مزید : علاقائی


loading...