’’ملاوٹ کا خاتمہ ۔۔۔۔۔۔ فرض اور ذمہ داری ‘‘

’’ملاوٹ کا خاتمہ ۔۔۔۔۔۔ فرض اور ذمہ داری ‘‘
 ’’ملاوٹ کا خاتمہ ۔۔۔۔۔۔ فرض اور ذمہ داری ‘‘

  


غذا ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے جس سے مفر ممکن نہیں۔حتیٰ کے فانی زندگی کے بعد ابدی زندگی میں بھی لذیذغذا کا ذکر خالق کائنات نے انسان کے لئے ضروری سمجھا۔جانداروں میں انسان برتر مخلوق ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس کی خوراک تنوع پایا جاتا ہے۔چرند ،پرند اور آبی جانوروں کا گوشت ہمہ قسم پھل،سبزیاں اور مختلف مائع خوراک حضرت انسان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کوپیدا کئے گئے۔ایک وقت تھا کہ انسانی خوراک ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا تر اور صحت مند سمجھی جاتی تھی لیکن صنعتی انقلاب کے ساتھ ماحولیاتی بربادی کا جو سلسلہ شروع ہوا،اس سے خوراک کا معیار بھی متاثر ہوا۔انسانی آبادی میں بے محابا اضافے کے بعد خوراک کی ضروروت بڑھنے لگی تو انسانوں ہی میں درندگی کے اوصاف رکھنے والوں نے خوراک کو تختہ مشق بناکر زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی دوڑ میں انسانی خوراک کو آلہ کار بنانا شروع کر دیا۔ملاوٹ اور ملاوٹ کے بعد غیر معیاری اجزاء کے استعمال سے خوراک کی تیاری کا سلسلہ اس قدرآلودہ ہو گیا کہ ہر باشعور معاشرے میں خوراک کی تیاری اور فروخت کرنے والوں کے لئے قوانین کی تیاری اور ان پر عملدرآمد کے لئے باقاعدہ ادارے تشکیل دینے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔

وطن عزیز بھی ملاوٹ کے بے رحم اثرات سے محفوظ نہیں۔ مستند اعدادوشمار کے مطابق44فیصد بچوں کا غذائی اجزاء کی کمی کا شکارہونا انتہائی تشویشناک امر ہے۔66فیصد مائیں اورنوزائیدہ بچے جسمانی نشوونما کے لئے ضروری وٹامن اے کی کمی شکار ہیں۔اگر اس صورتحال کا فوری تدارک نہ کیا گیاتو خاکم بدہن آئندہ آنے والی نسل کو تباہی کے لئے کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہے گی۔غذائی ہنگامی صورتحال (Food Emergency) کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قیام کی ضرورت کو محسوس کیا اور جنگی بنیادی پر میعاری خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بہترین ٹیم میدان میں اتاری۔

پنجاب میں خادم پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011نافذ کیا گیا اور اسی ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے2012میں خوراک کی تیاری اور فروخت کو ریگولرائزکرنے کے لئے کاروائیوں کا آغاز کیا۔صرف پانچ سال کے قلیل عرصے میں پنجاب کے مختلف شہروں میں 42ہزار فوڈ آپریٹرز کو لائسنس جاری کئے گئے۔خوراک کی تیاری اور فروخت کا بزنس کرنے والے فوڈ آپریٹرز کو دائرہ کار کا پابند کرنے کے لئے سینکڑوں کارروائیاں کی گئیں۔خوراک میں ملاوٹ اور فوڈایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 6کروڑ روپے سے زائد جرمانے عائد کئے گئے۔

لاہور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کامیاب اور موثر کاروائیوں کے بعد پنجاب فوڈ اتھارٹی کا دائرہ کار صوبہ بھر میں پھیلانے میں کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی اور ابتدائی طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کا دائرہ کار لاہور کے بعد گوجرانوالہ،فیصل آباد،ملتان او رراولپنڈی تک پھیلایا جا چکا ہے۔وزیراعلی کی صوبہ بھر کے عوام کو مساوی طور پر بہترین خوراک کی فراہمی کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی پنجاب کے تمام اضلاع میں توسیع کی سمری بلاتاخیر منظور کر لی اور 63کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ فوری طور پر جار ی کر دی گئی۔توسیع کے پہلے مرحلے میں امسال جون تک پانچ ڈویژن کے 17اضلاع میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے دفاتر قائم کئے جارہے ہیں۔دوسرے مرحلے میں دسمبر 2016تک پنجاب فوڈ اتھارٹی صوبے کے تمام اضلاع میں کام شروع کر دے گی۔

دائرہ کار میں توسیع کے ساتھ گزشتہ پانچ ماہ میں پنجاب فوڈاتھارٹی قوانین کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ریگولیشن 2017کے تحت پروڈکٹ رجسٹریشن کے نئے اور بین الاقوامی میعار ، کسی بھی پروڈکشن اوروئیر ہاؤس کو ہنگامی طور پر بند کرنے کا اختیار،ناقص اشیاء خوردونوش کی فوری تلفی، کسی بھی ناقص پراڈکٹ کی تمام سپلائی مارکیٹ سے واپس منگوانے سمیت پیکنگ کے بغیرتمام کھلی اشیاء خوردونوش کی فروخت پرمرحلہ وار پابندی لگانے کی بھی منظوری دی جا چکی ہے ۔ کھلے مرچ مصالحے کی فروخت بند کرنے کے لیے صوبہ بھر کے تاجران کو 18ماہ کی مہلت اور کھلے کوکنگ آئل کی فروخت بند کرنے کے لیے تاجران کو 2سال کی مہلت دی گئی ہے۔کھلے دودھ کی فروخت 5 سال کے اندر مکمل بند کر نے کے لئے لائحہ عمل بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ کھلے دودھ کے مکمل خاتمے کے لیے پاسچرائزیشن قانون لانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی لیبارٹریوں میں جدید آلات کی تنصیب کر نے کے علاوہ موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں جس سے ملاوٹ کی فوری نشاندہی ممکن ہوئی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ٹیموں میں ڈسپلن اور شفافیت فروغ دیا گیا ہے اور چھاپے مارنے کے لیے مخصوص لائحہ عمل اور ڈریس کوڈ پر عمل درآمدکروایا جا رہا ہے۔خوراک کی صنعت سے منسلک افراد کی تربیت کے لیے ٹرینگ سکول کے قیام کی منظوری کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی سینٹر، طلباء کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اجراء اور لائسنس کے آسان حصول کے لیے ای لائسنس اور موبائل اپلیکیشن کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ مافیا کی نشاندہی کے لیے پروفیشنل ماہرین کی نگرانی میں ویجیلنس ونگ قائم کیا ہے جس کی مدد سے گلی محلوں میں چھپ کر ملاوٹ کا گھناونا کاروبار کرنے والوں کی نشاندہی کی جاتی ہے ۔ ویجیلنس سیل نا صرف ملاوٹ مافیا پر نظر رکھتا ہے بلکہ ادارے کے اندر موجود افسران اور عملے کی کارکردگی اور اختیارات کے جائز حد میں رہ کر استعمال کو بھی یقینی بناتا ہے ۔ملٹری انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی سے ریٹائرڈکرنل یا اس کے برابر عہدے دار کو ویجیلنس سیل کے سربراہ کے طور پر بھرتی کرنے کا عمل بھی حتمی مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ پانچ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں سے ہر ایک کے لئے دو جونیئر کمیشنڈ افسران کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ۔

حکومت پنجاب ملاوٹ مافیا کے خا تمے کے لیے پر عزم ہے ۔ تاہم پنجاب فوڈ اتھارٹی کا دائرہ کار وسیع کرنے، قوانین میں جدت، چھاپہ مار کاروائیوں، جرمانے، سزاؤں اور مربوط جاسوسی کے نظام کے باوجود ملاوٹ مافیا کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم میں سے ہر شہری ملاوٹ مافیا کے خلاف اپنا کردار ادا نہیں کرتا۔جس طرح صحت مند خوراک ہر شہری کا بنیادی حق اور اس کی فراہمی یقینی بنانا پنجاب فوڈ اتھارٹی کا فرض ہے بالکل اسی طرح صحت مند خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مد د کرنا ہر شہری کی ذمہ داری اور خلاقی فرض ہے۔ باشعور معاشرے کا ہر شہری قوانین کا محافظ ہوتا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی میں اداروں کی مدد کرتا ہے ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قوانین کا براہ راست تعلق ہر شہری کے ساتھ ہے اور ہر فرد فوڈ اتھارٹی کا سپاہی بن کر ملاوٹ مافیا کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ مافیا کی خبر دینے والوں کے لیے5لاکھ تک انعام کا اعلان مختص کیاگیا ہے اور معلومات دینے والے کا نام بھی مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

عوام اپنے اردگراشیاء خوردونوش کا کاروبار کرنے والوں پر کڑی نظر رکھ کر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مدد کر سکتے ہیں۔ د ودھ، چائے کی پتی، کیچپ، دیسی گھی، مرچ مصالحے اور دیگر اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ آپ کے اردگرد گلی محلوں میں چھپے سماج دشمن عناصر کر رہے ہیں جن تک پہنچنے میں شہری فوڈ اتھارٹی کو اطلاع کرکے اپنا فرض ادا کر سکتے ہیں۔ ملاوٹ کرنے والااگرقانون کا مجرم ہے تو اس کی پردہ پوشی کرنے والا بھی مجرم کہلائے گا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ مل کر ملاوٹ مافیا کی سر کوبی کر کے آپ

قوم پر وہ احسان کر سکتے ہیں کہ ناصرف موجودہ بلکہ آنے والی نسل بھی آپ کی احسان مند رہے گی۔ ہم سب ایک ایک کڑی کی مانند مل کر ایسی مضبوط زنجیر بنا سکتے ہیں کہ جو پنجاب اور پورے پاکستان میں ملاوٹ مافیا کو جکڑکر جڑ سے اکھاڑ پھینک سکتی ہے ۔

مزید : کالم


loading...