عبدالغفار ڈوگر کی اہلیت کیخلاف دائر رٹ خارج ، ن لیگی کارکنوں کا جشن

عبدالغفار ڈوگر کی اہلیت کیخلاف دائر رٹ خارج ، ن لیگی کارکنوں کا جشن

ملتان( خبر نگار خصوصی) ہا ئیکورٹ ملتان بینچ نے ممبر قومی اسمبلی عبدالغفار ڈوگر کے خلاف بوگس اسناد پیش کرنے اورحقائق چھپانے پر نااہل قراردینے کی درخواستیں خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔فاضل عدالت میں ملتان کے محمد نواز خان اورعابدجاوید نے درخواستیں دائر کی تھی وہ حلقہ این اے 148 کے رجسٹرڈ ووٹر ہیں اور اس حلقہ سیعبدالغفار ڈوگر کو منتخب ممبر قو می اسمبلی قرار دیا گیا جبکہ انھوں نے قبل ازیں یونین ناظم کے انتخابات میں اپنی تعلیمی قابلیت ایم اے عربی /اسلامیات ظاہر کی ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مدرسہ کی میٹر ک ، ایف اے، بی اے اور ایم اے کے برابرتعلیمی قابلیت کی اسنادپیش کیں جبکہ مہتمم مدرسہ نے 8 مئی 2001ء کو ان اسناد کے جعلی ہو نے کا مراسلہ جاری کیا جس پر الیکشن کمیشن نے انھیں سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں نااہل قرار دیا جس کے خلاف مذکورہ ممبر قومی ممبر اسمبلی نے نظر ثانی درخواست دائر کی کہ اس نے قانونی تقاضے کے مطابق ملتان بورڈ سے لازمی مضامین کا امتحان بھی پاس کیا ہے لیکن انٹر بورڈ کمیٹی کے پیش کر دہ لیٹر بھی جعلی ثابت ہوئے اور اب ا پنی تعلیمی قابلیت میٹرک اور دینی ظاہر کی ہے اورکوئی مقدمہ نہ ہونے کا حلف دیا جبکہ ان کیخلاف فوجداری استغاثہ زیر سماعت تھا اور علاقہ مجسٹریٹ نے انھیں اشتہاری قرار دیا ہوا تھا نیز اگر وہ میٹر ک تعلیمی قابلیت رکھتے توسندھ سے میٹرک کیوں کی اورحقائق کو جان بوجھ کرچھپایااس لئے آرٹیکل 62،63 اور113 پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے انھیں نااہل قرار د ینے کا حکم دیا جائے اور بطور ممبر قو می اسمبلی نوٹیفیکیشن منسوخ کیا جائے۔فاضل عدالت کی جانب سے متعلقہ مدارس اوربورڈز کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا۔اس ضمن میں ممبر قومی اسمبلی کے وکیل راناآصف سعید نے دلائل دئیے کہ منتخب ممبر قومی اسمبلی کے خلاف صرف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جا سکتاہے اوراس طرح رٹ درخواست دائر نہیں کی جاسکتی ہے اس لئے درخواست ناقابل سماعت ہونے کی وجہ سے خارج کرنیکا حکم دیاجائے اس کے علاوہ انھوں نے اپنی دینی تعلیم کی اسناد دارلعلوم انوارالعلوم ڈیرہ اسماعیل خان سے حاصل نہیں کیں بلکہ جامعہ اتحادالمدارس عربیہ پارہوتی مردان سے حاصل کی تھیں جبکہ میٹرک کراچی بورڈ سے کیاہے اورسال 2005 ء کے یونین کونسل 72 سے بطورناظم انتخابات میں حصہ لینے پر ان اسناد کو چیلنج کیاگیا لیکن مذکورہ اعتراض خارج کردیاگیا بعدازاں درخواست گذارکے خلاف الیکشن کمیشن سے نااہلی کے فیصلہ میں بھی ان اسناد کو متعلقہ تعلیمی قابلیت کے برابر نہ ہونا قراردیاگیا تھا اوربوگس نہیں کہا گیا جس کی وجہ سے سال 2006 ء کے انتخابات میں بھی حصہ لیا اس کے علاوہ ممبر قومی اسمبلی کے انتخاب میں بھی ان کے مدمقابل امیدوارسید موسیٰ گیلانی نے اعتراض داخل کیا جو ریٹرننگ آفیسر اورہائیکورٹ کی جانب سے خارج کردیاگیاتھا اس لئے اس سوال کو بار بار نہیں اٹھایاجاسکتاہے۔اس طرح ممبرقومی اسمبلی کو اپنے خلاف استغاثہ زیرسماعت ہونے کا علم ہی نہیں تھا اورکوئی نوٹس بھی موصول نہیں ہواہے نیز درخواست گذارمحمد نواز خان کے خلاف گینگ ریپ کے مقدمہ میں مذکورہ ممبر قومی اسمبلی کیایماء پر مقدمہ درج ہونے کا بیان دیاگیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ درخواست صرف زاتی رنجش کی بنیادپردی گئی ہے اس لئے کوئی مضبوط وجہ نہیں ہونے کی وجہ سے مذکورہ درخواست خارج کرنیکا حکم دیاجائے۔جس پر مسٹر جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں فیصلہ سنایا گیا جسمیں عدالت نے نواز خان کھیڑا کی جانب سے کی جانب سے دائر کی جانیوالی پٹیشن خارج کر دی جس پر پاکستان مسلم لیگ ن کے ورکرز نے پٹیشن خارج ہونے پر جشن منایا اور مٹھایاں تقسیم کی گئیں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم این اے ملک عبدالغفارڈوگر نے کہا کہ آج کے تاریخی دن حق سچ کی فتح ہوئی ہے اور جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والے ناکام ہوئے اس موقع پر پٹیشنر نواز خان کھیڑا نے کہا کہ فیصلہ کی تفصیلات آنے پر دوبارہ عدالت سے رجوع کروں گا اور انٹرا کورٹ اپیل دائر کروں گا ۔

عبدالغفار ڈوگر کیس

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...