جب تک چین پاکستان اور افغانستان کے مابین ضامن نہیں بنتاکشیدگی ختم نہیں ہو گی :اسفند یار ولی

جب تک چین پاکستان اور افغانستان کے مابین ضامن نہیں بنتاکشیدگی ختم نہیں ہو گی ...

چارسدہ (بیورو رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پا ک افغان سرحد کی بندش سے نہ صرف اربوں روپے کی تجارت متاثر ہو رہی ہے بلکہ دونوں اقوام کے مابین فاصلے اور نفرتیں بھی بڑھ رہی ہے ۔ پاکستان کے حکمران بھارت پر افغانستان کے راستے وطن عزیز میں دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں مگر یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ بھارت کے ساتھ نہ صرف سرحد کھلی ہے بلکہ تجارت بھی جاری ہے ۔ جب تک چین ،پاکستان اور افغانستان کے مابین ضامن نہیں بنتا دونوں طرف امن اور کشیدگی ختم نہیں ہو گی ۔ اپریشن ردالفساد کے آڑ میں پنجا ب میں پختونوں کا استحصال ہو رہا ہے جس پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے ۔ وہ دوسہرہ میں 1ارب روپے کی لاگت سے سوئی گیس منصوبے کے افتتاح کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر سنیٹر زاہد خان ، محکمہ سوئی گیس کے حکام ، اے این پی کے قاسم علی خان ، نہایت خان ، خلیل بشیر خان عمر زئی ، سابق ایم پی اے شکیل بشیر خان عمر زئی ، مر زا احسان اللہ ،عالمگیر خان ایڈوکیٹ ، محمد احمد خان اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے ۔ اسفندیار ولی خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں اور جے یوآئی کے ایم این اے مولانا سید گوہر شاہ پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ان کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ انہوں نے اے این پی کے فنڈز سے مکمل ہونے والے گیس منصوبے کے افتتاح کا ڈرامہ رچاکرعوام کو دھوکہ دینے کی کو شش کی ۔ چار سال مر کز اور صوبے میں اقتدار کے باوجود تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ن) اور جے یوآئی نے حالی ہو لی نعروں کے علاوہ قوم کو کچھ نہیں دیا ۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے دعویدا روں نے خزانہ حالی کیا اور اب پنشنرز کے فنڈز سے قرضہ لیکر صوبائی حکومت چلا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت اس بات کا جواب دیں کہ صوبے میں ایک اینٹ کا ترقیاتی کام نہیں ہو ا مگر خزانہ کیوں خالی ہے ۔ اے این پی دور حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے جا رہے ہیں مگر اے این پی نے اپنے دور حکومت میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے 67سالہ محرومیوں کا آزالہ کیا اور آج بھی اے این پی دور حکومت کے جاری منصوبوں پر صوبائی حکومت سیاست چمکا رہی ہے ۔انہوں نے قومی وطن پارٹی ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف پر تنقید کر تے ہو ئے کہاکہ تینوں پارٹیاں عوام کو سبز باغ دکھاکر ایک دوسرے کی کرپشن کو چھپا رہے ہیں مگر حکومت ختم ہو تے ہی قوم دیکھ لی گی کہ ان لوگوں کا انجام انہتائی خطرناک ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ خطے میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے باچا خان اور ولی خان نے چالیس سال پہلے پیشن گوئی تھی مگر اس وقت کے حکمرانوں نے افغانستان میں جاری فساد کو جہاد کہا اور آج جب دہشت گردی کا بیچ تناور درخت بن کر پوری دنیا میں دہشت گردی کا سایہ پھیلا چکا ہے تو اس کو فسا د کہہ کر کاٹنے کی ناکام کو ششیں ہو رہی ہے ۔ اسفندیار ولی خان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اپریشن رد الفساد کے نام پر پنجاب میں پختونوں کا استحصال ہو رہا ہے مگر وزیر اعظم اور وزیرا علی پنجاب اس پر خاموش ہے ۔ کل کلاں ہم بھی پنجابیوں کے خلاف آواز اٹھائیں تو لازمی با ت ہے کہ اس سے نفرتیں بڑھے گی۔انہوں نے کہاکہ صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ایم پی اے اور وزراء پر ویز خٹک پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے صوبائی وزیر کے خلاف کرپشن کا اشتہار بھی چھپا مگر عمرا ن خان سب پر خاموش ہیں ۔ انہوں نے لندن میں پاک آفغان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا مگر واضح کیا کہ جب تک چین دونوں ملکوں کے مابین ضامن نہیں بنتا خطے میں پائیدار امن نہیں آسکتا ۔ اسفندیار ولی خان نے پاک افغان سرحد کی بند ش پر تنقید کی اور کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین اربوں روپے کی تجارت متاثر ہو نے کے ساتھ ساتھ دونوں اقوام کے مابین نفرتیں بھی بڑھ رہی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے حکمران بھارت پر الزام لگا رہے ہیں کہ افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے مگر یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت اور سرحد دونوں کھلی ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...