ماہ رواں کے 15روز،پشاور میں جرائم کا گراف بڑھ گیا،31افراد ہلاک

ماہ رواں کے 15روز،پشاور میں جرائم کا گراف بڑھ گیا،31افراد ہلاک

پشاور(عمران رشید خان)صوبائی دارلحکومت پشاور میں رواں ماہ کے پہلے 15دنوں کے دوران قتل کے20، چوری،ڈکیتی رہزنی،جیب تراشی اور نوسر بازی کے 30واقعات میں شہری ڈیرھ کروڑ روپے سے زائد کے طلائی زیورات، نقدی،گاڑیوں ،موٹر سائیکلوں اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم ہوگئے ،جبکہ خودکشی اور اقدام خودکشی کے 6واقعات پیش آئے جن میں خاتون اور حوالات میں مبینہ خودکشی کے واقعہ سمیت 3افراد جاں بحق 3زخمی ہوئے،اس دوران پراسرار طور پر ایک ڈاکٹر اور خاتون سمیت 3افراد مردہ حالت میں پائے گئے ،ٹریفک حادثات میں 3خواتین اور بچے سمیت 6افراد لقمہ اجل بنے ،مختلف مقامات پر حادثات اور لڑائی جھگڑوں میں کم از کم 35افراد زخمی ہوئے ،اغواء کی 4وارداتیں ہوئیں،دوسری جانب پولیس گردی کے بھی تین واقعات منظر عام پر آئے اور پولیس اہلکاروں کی دکانداروں اور گنڈا ماروں سے رشوت لینے کی ویڈیوز می سے پولیس میں تبدیلی کا فقدان ایک بار پھر کھل کر سامنے آیا، ادھرپولیس رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران قتل اقدام قتل ،رہزنی ،ڈکیتی ،اغواء اور دیگر جرائم میں مطلوب 37اشتہاری ملز مان سمیت 499 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرکے اسلحہ و منشیات برآمد کی گئیں تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور میں رواں ماہ کے پہلے پندرہ دنوں میں مختلف مقامات پر پولیس اہلکار ،پاک بحریہ کے ملازم،ایف سی اہلکار ،پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے اور محنت کش سمیت 20افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا،چوری کی 7وارداتیں رپورٹ ہوئیں جن میں نامعلوم چوروں نے چمکنی کے ریٹارئرڈ وارنٹ آفیسر کے گھر کے تالے توڑ کر چھ ہزار امریکی ڈالر،تین لاکھ روپے مالیت کے انعامی بانڈز اور دیگر اشیاء چوری کیں، اسی طرح تھانہ غربی کی حدود میں واقع زمان اورکزئی نامی شخص کے فلیٹس سے 120تولے سونا ،لاکھوں کی نقدی اور دیگر سامان چوری کرلیا گیا، تھانہ داؤدزئی کی حدود سے چوروں نے شہری کی 12لاکھ روپے مالیت کی لکڑی چوری کرلی جبکہ حیات آباد سے گاڑی، فقیرآباد اور بھانہ ماڑی سے نامعلوم چور 3موٹر سائیکل اور یونیورسٹی کے طالبعلم سے ہزاروں روپے مالیت کی گھڑی لے اڑے،15دنوں میں دن دیہاڑے ڈکیتی کی 5وارداتیں ہوئیں، تھانہ گلفت حسین شہید ہشت نگری میں نامعلوم ڈاکوؤں نے دن دیہاڑے ٹافیوں کے تاجر کی دکان میں گھس کر اسلحہ کی نوک پر 2لاکھ روپے کی نقدی لوٹ لی، یکہ توت کے علاقے کاکشال میں نجی ٹی وی کے ملازم کے گھر میں سرچ آپریشن کے بہانے سے گھسنے والے ڈاکوؤں نے 11تولے سونا،3لاکھ کی نقدی اور دیگر اشیاء لوٹ لیں، اسی طرح دوران پور میں خوبرو لڑکیوں کے گینگ نے شہری کا گھر لوٹ لیا اور یوسف آباد میں مسلح ڈاکو گھر میں گھس کر نقدی زیورات اور دیگر اشیاء سمیٹ کر اطمینان سے چلے گئے۔ شہر کے قریبی علاقوں میں رہزنی کی6وارداتیں رونماء ہوئیں، بھانہ ماڑی میں رہزنوں نے ٹیکسی ڈرائیور سے گاڑی چھین کر اسے قتل کر دیا، دوسری واردات بھی تھانہ بھانہ ماڑی کی حدود میں ہی ہوئی جس میں رہزنوں نے اشرف روڈ کے تاجر سے دو لاکھ روپے چھیننے کے بعداسے چلتی گاڑ ی سے نیچھے پھینک دیا جبکہ تھانہ تاتارا کی حدود میں گورنر کے پروٹوکول آفیسر مسرت رضا سے رہزنوں نے اسلحہ کی نوک پر گاڑی چھین لی تاہم پولیس نے رہزنی کے واقعہ کو چھپانے کی غرض سے چوری کا مقدمہ درج کرلیا، ادھر پھندو کے علاقے میں رہزنوں نے پک اپ ڈرائیور کو نقدی اور موبائل سے محروم کرنے کے بعد گولی مار کر زخمی کرڈالا جبکہ گلبہار میں رہزنوں نے شہریوں سے 2 موٹرسائیکل چھینے،جیب تراشوں نے لیاقت بازار ،ہشت نگری سٹاپ،حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ،کوتوالی، بازار کلاں اور قصہ خوانی بازار میں شہریوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے انہیں ہزاروں روپے سے محروم کیا، نوسر بازی کی 2وارداتیں ریکارڈ ہوئیں جن میں حاجی کیمپ اڈہ میں ایک شخص کو نشہ آور مشروب پلا کر 8ہزار کی نقدی اور دوسری طرف گاڑی خرید کر مالک کو نوسر باز نے جعلی چیک تھما دیا، اس دوران خودکشی اور اقدام خودکشی کے 6واقعات ہوئے جن میں چوری کے الزام میں گرفتار الیکٹریشن نے تھانہ پشتہ خرہ کی حوالات میں مبینہ طور پر موجود لیٹرین میں اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی جبکہ بڈھ بیر میں گھریلو ناچاقی سے تنگ آکر خاتون نے خود پر فائر کھول کرزندگی کا چراغ گل کردیا، لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر اور سولہ سالہ دوشیزہ کی پراسرار ہلاکت بھی معمہ ہے، پشاور کی شہری علاقے گلبہار اعجاز آباد سے ٹرانسپورٹر نعمت اللہ اور پھندو سے بھی ایک شخص کو بھاری تاوان کی غرض سے جبکہ پھندو کے علاقے حافظ آباد ،چغر مٹی اور افغان کالونی سے تین لڑکیوں کو شادی کی غرض سے اغواء کرلیا گیا، یکم مارچ سے پندرہ مارچ تک دو تھانوں کی پولیس پر شہریوں کی جانب سے پولیس گردی کے الزام سامنے آئے پہلے واقعہ میں متھرا پولیس کے اہلکاروں نے مخالفین سے یاری نبھاتے ہوئے شہری کے گھر میں گھس کرخواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ دوسرے واقعے میں منشیات فروشی کے الزام پر پولیس نے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھر میں نہ صرف توڑ پھوڑ کی بلکہ گھر سے طلائی زیورات اور نقدی بھی لوٹ لی، رواں ماہ کے دوران پشاور پولیس کی جانب سے فوڈ آپریشن کے نام پر ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں پولیس اہلکار بطور بھتہ دکانداروں سے روٹیاں فروٹ اور دیگر اشیاء بٹورتے نظر آئے جبکہ پولیس اہلکار تھانہ تہکال کے علاقے میں گنڈا ماروں سے رشوت لیتے بھی دکھائی دیئے گئے، اس واردات کے مواقع پر گنڈا مار خواتین کی جانب سے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا گیا، واضح رہے کہ ایک جانب تو صوبائی حکومت اور پولیس افسران پولیس کی تعریفوں کے پل باندھے جارہے ہیں لیکن دوسری جانب پولیس نے شہریوں کو چوروں ،ڈکیتوں اور رہزنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ پشاور پولیس کے سربراہ محمد طاہر خان کے ترجمان کے مطابق پشاور پولیس نے رواں ماہ کے دوران امن و امان بر قرار رکھنے کیلئے مختلف تھانہ جات کی حدود میں کاروائیاں اور سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے، مختلف مقامات پر جرائم پیشہ اور اشتہاری ملزمان کے ٹھکانوں پر چھاپے بھی مارے گئے، جن چھاپوں کے دوران قتل، اقدام قتل، راہزنی، ڈکیتی، اغواء اور دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب 37اشتہاری مجرمان سمیت499 جرائم پیشہ اور منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے انکے قبضے سے 3میٹر پرائما کارڈ، 1 ڈیٹونیٹر ، 1 عدد G3، 5 عدد راکٹ شیل ، 1کلو گرام بارودی مواد ، 20عدد کلاشنکوف، 3 کلاکوف، 15 رائفل، 14 شارٹ گن ،193 پستول، 3755 کارتوس، 118کلو گرام چرس، 7کلو گرام ہیروئن ،68 بوتل شراب اور 36 گرام آئس برآمد کرلی گئیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...