اساتذہ کی مردم شماری پرڈیوٹیوں سے سکولوں کا تعلیمی نظام متاثر

اساتذہ کی مردم شماری پرڈیوٹیوں سے سکولوں کا تعلیمی نظام متاثر

لاہور(حافظ عمران انور )صوبائی دارالحکومت میں اساتذہ کی مردم شماری ، میٹرک امتحانات اور پیپر مارکنگ میں ڈیوٹیوں کے باعث سرکاری سکولوں میں طلبہ کا تعلیمی عمل متاثر ہونے لگا ،لاہور میں 4500 سے زائد میل اور فی میل ٹیچرز مردم شماری ،4000سے زائد اساتذہ کی میٹرک امتحانات اور ایک ہزار سے زائد اساتذہ کی آٹھویں جماعت کے امتحانات کی پیپر مارکنگ میں ڈیوٹیوں کے باعث سرکاری سکولوں میں طلبہ علم کی پیاس بجھائے بغیر گھروں کو واپس لوٹنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں بڑے پیمانے پر اساتذہ کی مردم شماری اور میٹٍرک امتحانات میں ڈیوٹیوں کے باعث سکولوں میں طلبہ علم کی پیاس بجھائے بغیر گھروں کو واپس لوٹنے لگے ۔واضح رہے ایک ہی وقت میں بڑے پیمانے پر اساتذہ کی مختلف غیر تدریسی امور انجام دینے سے طلبہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں ۔طلبہ نے کہا ہے کہ کلاسز میں اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے اور آئندہ امتحانات میں ان کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ایک ہی وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر اساتذہ کی غیر تدریسی امور میں شمولیت پنجاب حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن لاہور طارق رفیق نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میٹرک امتحانات ،مردم شماری اور آٹھویں کے امتحانات کی پیپر مارکنگ کی ڈیوٹیوں پر تعینات اساتذہ کے خلاء کو پر کرنے کے لئے ان سکولوں میں دوسرے سکولوں سے عارضی طور پر اساتذہ کوتعینات کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی حرج کم سے کم ہو ۔دوسری طرف اساتذہ کی نمائندہ جماعتوں کے اتحاد یونائیٹڈٹیچرز الائنس نے اپ گریڈیشن اور اساتذہ کو غیر تدریسی امور میں الجھانے پر حکومت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے 17مارچ کواحتجاج کی کال دے دی ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...