بچپن کی شادی اور گھر یلو تشدد کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے :ضیاء احمد خان

بچپن کی شادی اور گھر یلو تشدد کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے :ضیاء احمد خان

  



پشاور(پ ر) حکومت خیبر پختونخوا نے جہیز پر پابندی کا بہت اچھا قانون بنایا ہے مگر اسے خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لئے قانون سازی میں دوسرے صوبوں کی طرح اور اقدامات اٹھانے چاہیءں۔ ان خیالات کا اظہار مددگار نیشنل ہیلپ لائن کے بانی اور نیشنل کمشنر فار چلڈرن، ضیاء احمد اعوان نے منگل کے روز مددگار پشاورکے دفترمیں خیبر پختونخوامیں خواتین اور بچوں پر تشدد کے موضوع پر بات کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ 2016کے دوران مددگار نیشنل ہیلپ لائن نے 8887افراد کی مدد کی جنہوں نے بذریعہ فون،ہیلپ لائن کے دفاتر میں آکریا بذریعہ SMS، ای میل اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس ہم سے رابطہ کیا۔ ان میں 6294خواتین اور بچیاں تھیں جن کی عمریں 5-75 سال کے درمیان تھیں۔باقی افراد میں نوجوان اور لڑکے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس میں صرف 6% کیس خیبر پختونخوا میں آئے اور اس میں بھی 418 کیس خواتین اور بچیوں کے تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سب سے زیادہ (7561)مقدمات سندھ سے ہیلپ لائن کو رپورٹ ہوئے اور سب سے کم 306مقدمات بلوچستان سے رپورٹ ہوئے۔اس فرق کے پیچھے کارفرما عوامل پر بریفنگ دیتے ہوئے ضیا احمد اعوان نے بتایا کہ مجموعی طور پرسماجی،ثقافتی اور مذہبی رکاوٹیں وہ وجوہات ہیں جو افرادبا لخصوص خواتین اور بچوں کو تشدد کرنے والوں کے خلاف رپورٹ کرنے اور آگے آنے سے روکتے ہیں۔ضیاء احمد اعوان نے کہا کہ بچوں پر تشدد کے معاملے میں بہت اہم مسئلہ گم شدہ اور اسٹریٹ چلڈرن کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں مسائل آپس میں منسلک ہیں کیونکہ کئی گم شدہ بچے سڑک پر پہنچ جاتے ہیں۔ایدھی فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 79%بچے اپنی زندگی میں تشدد کا شکار بنتے ہیں۔ انہی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اپریل سے ستمبر 2016کے درمیان 600بچے خیبر پختونخوا میں گم شدہ ہوئے۔ ضیاء احمد اعوان (ایڈووکیٹ) نے اس مسئلہ کے حل کے لئے درج ذیل سفارشات پیش کیں۔

۔ پولیس اسٹیشنز پر تعینات افسران کی خواتین اور بچوں پر تشدد، گم شدہ اور اسٹریٹ چلڈرن کے کیسز کی تحقیقات اور ان سے نمٹنے کے حوالے سے اور حساسیت کے لئے ہنگامی بنیاد پر ٹریننگ ہونی چاہئے۔

۔ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھنا چاہئے اور ان سے احترام اور پیار سے پیش آنا چاہئے جیسا کہ ان کا حق ہے۔ انہیں بچوں کے مسائل کو غور سے سننا اور جتنا ہو سکے انہیں حل کرنا چاہئے۔ مزید یہ کہ حکومت کے سوشل ویلفیئر کے اداروں کے ذریعے UNCRC کے آرٹیکل پانچ کے تحت والدین کی رہنمائی اور تربیت کا انتظام کرنا چاہئے۔

UNCRC کے آرٹیکل سات اور آٹھ کے تحت، نادرا کے ادارے فوری طور پر تمام اسٹریٹ چلڈرن، شیلٹرز میں اور ھاف وے ہاؤسز میں موجود بچوں کا اندراج کرنا چاہئے تاکہ ان کا پتا لگایا جا سکے اور ان کے والدین کے ساتھ ملاپ یا مستقبل میں کھونے یا اغوا ہونے سے بچاؤ کیا جا سکے۔

۔صوبائی سطح پر ایک ایسا معلومات کے انتظام، بچوں کو ڈھونڈنے اور والدین سے ملاپ کا نظام بمع ایک مضبوط بین الصوبائی ربط کا دائرہ کار برائے محکماتی تعاون بچوں کی حفاظت کے حساب سے تشکیل دیا جائے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے UNCRC کے آرٹیکل تین ، چار اور انیس کے تحت بچوں کے بہترین مفاد، ان کی تمام تشدد سے حفاظت اور ان کے تمام حقوق کی حفاظت کے لئے حکومت کو پیروں، فقیروں، بھکاری مافیا اور اسٹریٹ گینگ لیڈرز کے خلاف سخت ایکشن لینا پڑے گا۔ مددگار نے ہزاروں بچوں کو ان سے بچایا ہے جب وہ گم یا اغوا ہوئے۔

۔ حکومت خیبر پختونخوا کی قائم کردہ اسٹریٹ چلڈرن پر ٹاسک فورس کو مزید فعال بنایا جائے۔

اس موقعے پر ضیاء احمد اعوان نے کہا کہ اسٹریٹ چلڈرن کے مسئلے کو ہین الاقوامی تسلیم شدہ حکمت عملیوں اور امثال کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا سڑک کی زندگی کی ہولناکیاں اور ان بچوں کا شکار کرنے والے مذموم عناصر کی پہلے ہی نشان دہی کر چکا ہے۔ زمنگ خور جیسے ادارے اسٹریٹ چلڈرن کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہیں، ضیاء احمد اعوان نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا کو چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کا نیٹ ورک پھیلانا چاہئے، ٹرانزٹ کئیر کی سہولیات مہیا کرنی چاہیءں، کیس مینیجمنٹ اور گھر والوں کی تلاش اور ان کے ساتھ بچوں کے ملاپ کا نظام بہتر بنانا چاہئے اور اس سلسلے میں دوسرے صوبوں کی حکومتوں سے بہتر روبط استوار کرنے چاہیءں۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت خیبر پختوخوا ضرور ایک بچوں کی ترقی، نشونما اور ان کے حقوق کی حفاظت پر جامع پالیسی ترتیب دے جو صوبے کے تمام بچوں کے لئے ہو۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ نیشنل ایکشن پلان برائے اطفال 2008 کو صوبائی حوالے سے اپناتے۔

مددگار نیشنلہیلپ لائن پاکستان کی پہلی ہیلپ لائن ہے جو پچھلے 17سالوں سے خواتین اور بچوں کے مسائل کے لئیے کراچی ،لاہور ،پشاور اور کوئٹہ میں کام کررہی ہے۔ہم خواتین اور بچوں کو شخصی اور ورچوئل مشاورت ،رہنمائی ،قانونی مدد اور ریفرل کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

urgent -news

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...