کالا باغ ڈیم بننے سے بجلی کا شارٹ فال ختم ہو سکتا ہے،سردار شیر علی

کالا باغ ڈیم بننے سے بجلی کا شارٹ فال ختم ہو سکتا ہے،سردار شیر علی

لاہور( نمائندہ خصوصی)توانائی کے صوبائی وزیر سردار شیر علی خان نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم بنائے جانے سے ملک سے بجلی کا شارٹ فال بھی دور ہو سکتا ہے، اور پانی کی کمی کو بھی دور کیا جا سکتا ہے، تاہم اس سے پہلے صوبوں کے درمیان اتفاق رائے بہت ضروری ہے، اس وقت پنجاب میں بجلی کا شارٹ فال3000ہزار میگا واٹ ہے جبکہ کالا باغ ڈیم سے 4ہزار میگا واٹ بجلی حاصل ہو سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا، اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ15مٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا، اجلاس میں محکمہ انرجی اور سپیشل ایجوکیشن کے بارے میں سوالوں کے جوابات دئے گئے ،محکموں اورممبران کی ایوان کی کارروائی میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایوان میں35سوالوں کی بجائے دو محکموں کے صرف 7سوال ایوان میں پیش کئے گئے اور ان 7سوالوں کا ایک ہی محرک ایوان میں موجود تھا،سردار وقاص حسن موکل کے سردار کے ضمنی سوال کے جواب میں انرجی کے وزیر نے مزید کہا کہ پنجاب پہلے ہی کالا باغ ڈیم کے حق میں ہے تاہم دیگر صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے اقدامات ہونے چاہیے، جس پر رکن اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کے سلسلہ میں ایک کمیٹی پہلے سے تشکیل پا چکی ہے تاہم دو سال گزرنے کے باوجود اس کمیٹی کی ایک بھی میٹنگ نہیں ہو سکی، جس پر ڈپٹی سپیکر نے اسمبلی حکام کو ہدایت کی کہ وہ کالاباغ ڈیم پر بنائی گئی کمیٹی کی مٹنگ فوری طور پر بلائیں ۔چوہدری اشرف علی کے سوال کے جواب میں انرجی کے وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کے شارٹ فال کو ختم کرنے کے لئے بجلی پیدا کرنے کے تمام ذرائع استعمال کرنا ہوتے ہیں،18ویں ترمیم کے بعد پنجاب میں صوبائی حکومت نے بجلی کے5میگا پراجیکٹ شروع کئے ہوئے ہیں جن میں قائد اعظم سولر پراجیکٹ،بھکھی پاور پلانٹ، چھوٹے پن بجلی کے چار منصوبے،ساہیوال کول پاور پلانٹ اور زونرجی پاور پراجیکٹ شامل ہیں،میاں محمود الرشید کے سوال پر انرجی کے وزیر نے پہلے تو اپوزیشن لیڈر کو کھری کھری سنادیں کہ وہ بات کرتے وقت اسمبلی ممبر کے استحقاق کو ملحوظ خاطر رکھا کریں، جب ایک بات کا جواب حقائق پر مبنی دیدیا پھر اس پر کہنا کہ جواب غلط ہے،سارا پراجیکٹ نہیں اپوزیشن لیڈر غلط تصویر پیش کررہے ہیں اور کنٹریکٹر سے حکومت نے تیار پراجیکٹ اور اپریشن حالت میں لینا ہوتا ہے اور اس تاخیر کا ذمہ دار بھی کنٹریکٹر ہی ہوتا ہے،پھر میاں طاق کے سوال کے جواب میں سپیشل ایجوکیشن کے وزیر چوہدری محمد شفیق نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ میں جن سپیشل سکولز میں ٹرانسپورٹ نہیں تھے وہ مہیا کردی گئی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز نے24نئی بسوں کی نہ صرفر منظوری دیدی ہے بلکی اس کے لئے 158ملین روپے جاری بھی کردئے ہیں،فائزہ ملک کے سوال کے جواب میں سپیشل ایجوکیشن کے وزیر نے مزید ایوان کو بتایا کہ لاہور میں جتنی بھی خلای آسامیاں ہیں انہیں فل کرنے کے لئے اشتہارات دیدیے ہیں،دو ماہ تک انہیں فل کر لیا جائے گا۔

شیرعلی

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...