وکلاءکے یونیفارم میں سیاہ رنگ طاقت ، سفید رنگ خالص پن اور معصومیت کی علامت ، سوگ کی علامت کے طورپر اپنایاگیا

وکلاءکے یونیفارم میں سیاہ رنگ طاقت ، سفید رنگ خالص پن اور معصومیت کی علامت ، ...
وکلاءکے یونیفارم میں سیاہ رنگ طاقت ، سفید رنگ خالص پن اور معصومیت کی علامت ، سوگ کی علامت کے طورپر اپنایاگیا

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں بہت کم لو گ اس بات سے واقف ہیں کہ وکلاءسیاہ اور سفید یونیفارم کیوں پہنتے ہیں تاہم اب اس کا جواب بھی سامنے آگیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان  سمیت برصغیر میں وکلاءکے یونیفارم میں کالے رنگ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ رنگ طاقت جبکہ سفید رنگ خالص پن ، معصومیت اور روشنی کی علامت ہے جبکہ ابتداء میں سوگ کی علامت کے طورپر اپنایاگیا۔ 

دنیا نیوز کے مطابق پوری دنیا میں وکلاءکیلئے مختلف ڈریس کوڈ موجود ہیں، کینیڈا میں وکلاءلال اور سفید رنگ کا یونیفارم زیب تن کرتے ہیں۔دنیا کے بیشتر علاقوں میں وکلاءکا لباس کالے رنگ کا ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی وکلاءسیاہ پینٹ کورٹ اور سفید شرٹ زیب تن کرتے ہیں ۔

عمران خان اور جہانگیر ترین کی ناہلی کیلئے دائر ریفرنسز پر فیصلہ آج سنایا جائے گا

وکلاءکیلئے مخصوص لباس کا آغاز 16ویں صدی میں ہوا جب 1685ءکے اوائل میںکنگ چارلس دوم کی موت کے وقت وکلاءکیلئے اس لباس کا انتخاب کیا گیا۔ یہ اقدام کنگ چارلس کی موت کے سوگ میں کیا گیا۔ اس لباس کے ساتھ وگ اور گاو¿ن پہننے کی تجویز بھی پیش کی گئی جسکا مطلب تھا کہ وکلاءاور ججز کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔ اس ڈریس کوڈ کو 1961ءکے وکلاءایکٹ کا حصہ بھی بنایا گیا۔ طویل عرصہ تک تاج برطانیہ کے تسلط میں رہنے کی وجہ سے آج بھی برصغیر میں یہ ڈریس کوڈ رائج ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...