سینتیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

سینتیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ...
سینتیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

  


دربار شریف سے واپسی پر انکی جانب پشت بھی نہیں کرتے تھے اور جب آپؒ وہاں قیام کرتے تو چارپائی الٹی کرکے اس پر بیٹھتے۔ایک زمانہ آپ کا عقیدت مند تھا لیکن جب آپؒ اپنے مشائخ کے پاس حاضر ہوتے تو وہاں ان مشائخ کے مریدین کرسیوں ،چارپائیوں پر بیٹھتے مگر آپؒ نیچے زمین پر بیٹھنا پسند کرتے۔ایک بار میں نے قبلہ والد صاحب سے کرسی بیٹھنے کی درخواست کی ۔اس روز میں آپؒ کے ساتھ خوشاب شریف گیا ہوا تھا ۔آپؒ کی طبیعت سخت خراب تھی۔پیٹ میں ایک پھوڑا بن گیا تھا اور ڈاکٹروں نے اسے لاعلاج قرار دے دیا تھا۔حالانکہ آپؒ خود طبیب تھے لیکن آپؒ نے ازراہ فقروتقویٰ خود علاج سے گریز کیا ۔

 سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان۔۔۔۔۔چھتیسویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آپؒ نے کہا تھا کہ میں سید سخی معروف خوشابی ؒ کی بارگاہ میں جاؤں گا تو مجھے شفا ملے گی۔اللہ کے کرم سے آپؒ کو وہاں سے شفا مل گئی۔ جو واقعہ مین بیان کررہا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے جب قبلہ پیر صاحب کو کرسی پیش کرنا چاہی تو آپؒ نے پہلے تو میری طرف نگاہ ڈالی اور پھر کہا’’ تم چاہتے ہو میں اگر تکلیف میں ہوں تو اپنا عجز چھوڑ دوں‘‘

قبلہ پیر صاحب فرمایا کرتے تھے کہ فقیری کی اصل سادگی اور عاجزی میں پنہاں ہوتی ہے۔فقیروں کو کرسیوں اور ہتھیاروں سے دور ہی رہنا چاہئے۔

نوشہؒ سرکار کے صاحبزادے سیدبرخوردارؒ نے ایک بار تلوار کمر میں لٹکا کر اپنی سسرال میں جانے کے لئے اجازت مانگی تو آپؒ نے فرمایا’’صاحبزادے تلوار اتاردو۔کیونکہ فقیر کی زبان ہی تلوار ہوتی ہے بلکہ فقیر کے دل کی دلیل ہی تلوار ہوتی ہے‘‘ ان واقعات سے ہم لوگوں کو بہت کچھ سیکھنا چاہئے۔میں دیکھتا ہوں پیر فقیر بھی ہتھیاروالوں کے جھرمٹ میں چلتے ہیں اور اپنے لئے تخت و تاج بنواتے اور عالی شان کرسیوں پر بیٹھتے ہیں لیکن یہ سادگی اور اعتقاد ہمارے آبا ء کی وراثت ہے جسے ہم سب کو اختیار کرنا ہے۔والد گرامی کی سادگی کی ایک مثال آپ کو سناتا ہوں ۔ایک بار میں آپ کیساتھ خوشاب شریف گیا ہواتھا،قبلہ والد صاحب سے کچھ اسباق لیکر میں بھی وہاں مجاہدہ کرتا تھا اور آپؒ کی ظاہری و باطنی حاضری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا تھا ۔مجھے معلوم تھا کہ جب وقت کا ولی اپنے مشائخ کی بارگاہ میں آتا ہے تو فیوض توجہات کا نور منتقل ہونے لگتا ہے لہذا اہل طریقت ان ساعتوں میں فیض حاصل کرنے میں مستغرق ہوجاتے ہیں ۔میں بھی ان میں شامل ہوجاتا تھا۔اس رات وہاں کو محفل سماع ہورہی تھی۔اتفاق سے قوال حضرت برقؒ کا یہ کلام سنا رہا تھا

سخی سید معروف خوشابیا وے

ملک فَقر دا بدرمنیر اے تُوں

اس تو وَد کی ہور کی شان ہووی

نوشہ پیر دے پیردا پیر ہیں تُو

جھولی اڈ کے کھلی دربار تیرے

میں کنگال منگتی تے امیر اے تُوں

برق کی حاجت مونہوں بولنے دی

میرے صاحبا روشن ضمیر اے تُوں

قوال اس شعر’’نوشہ پیر دے پیردا پیر ہیں تُو‘‘ کو غلط انداز میں پڑھ رہا تھا۔پیر صاحب مجمع میں بیٹھے ہوئے تھے۔آپؒ اٹھے اور قوال کے پاس جا کر اسے کہا کہ اس شعر کو تم غلط انداز میں پڑھ رہے ہو، دراصل یہ شعر کچھ یوں ہے۔آپؒ نے اسکی اصلاح کرکے اسے سمجھانا چاہا مگر قوال کو آپؒ کی بات ناگوار لگی۔اس نے پہلے حیرت پھر جھنجلاہٹ سے آپؒ کو دیکھا۔آپؒ نے چادر کی بکل ماری ہوئی تھی اور ایک عام سے لباس میں تھے۔وہ بولا’’بابا جی آپ بیٹھیں، میں برق صاحب کا کلام پڑھ رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ ٹھیک پڑھ رہا ہوں‘‘ آپؒ نے اسے دوبارہ سمجھایا تو وہ بولا’’ بزرگو آپ تو ایسے سمجھا رہے ہیں جیسے آپ برقؒ ہوں‘‘ آپؒ نے تبسم فرمایا اور کہا’’ہاں او یارا۔میں برق ہی ہوں‘‘ قوال یہ سُن کر بہت پشیمان ہوا اور آپؒ سے معافیاں مانگنے لگا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قبلہ برقؒ صاحب اپنے دور کے قطب الارشاد تھے ،منصب ولایت پر متمکن تھے لیکن آپ ؒ کی درویشی رعونت و رعنائی سے پاک تھی۔

حضرت قطب الارشاد قدس سرہٗ العزیز کو بچپن ہی سے عبادت و ریاضت کا شوق تھا۔ آپ اکثراوقات ذکرِ الٰہی اور نوافل میں مشغول رہتے۔ آپ بیعت طریقت کے بعداپنے والد گرامی کے ارشاد کے مطابق خصوصی اورادو وظائف میں مشغول ہو گئے۔

بیعت کے بعدآپ کو شب بیداری، خاموشی، ذکر اسم ذات اور نوافل کی ادائیگی میں ایک خاص لذت محسوس ہونے لگی۔جبکہ تنہائی میں ذکر الٰہی کا شوق اس قدر بڑھ گیاکہ شعبان المعظم 1359ھ میں جب آپ کی عمر سولہ سال تھی آزاد کشمیر کے موضع گوہند، تحصیل کوٹلی کے مضافات میں آبادی سے دور جنگل میں ایک حجرہ تعمیر کروایا اوراس میں قیام پذیر ہوکر طویل عبادت و ریاضت کی۔ اس عرصہ میں آپ روزہ دار ہوتے۔ ایک پیالی چائے سحری کے وقت لیتے اور ایک دانہ کھجور سے افطاری کرتے۔ ان دنوں آپ کو غذا کی طرف رغبت نہ تھی ۔دن رات عبادت الٰہی میں مصروف رہتے ۔

آپ اس مجاہدہ سے فارغ ہوئے تو طبیعت پر تنہا رہنے کا غلبہ ہو گیاتھا۔چنانچہ گھر میں چند روز قیام کرنے کے بعد چکسواری شریف خاص کی مسجد سے ملحقہ حجرہ میں چالیس دن کا مجاہدہ کیا۔اس عرصہ میں آپ شب و روزذکر الٰہی ، تلاوت قرآن مجید اور نوافل میں مشغول رہے۔ ان ایام میں آپ کی خوراک تھوڑا سا دودھ تھی ۔ اس مجاہدہ میں آپ نے مکمل خاموشی اختیار کر لی اور ایک سال سات ماہ کا طویل عرصہ خاموش رہے ۔ ٹھل شریف میں سکونت کے دوران موسم گرما میں آپ نے ضلع سرگودھا کے علاقہ سون سکیسرکے جنگلات میں سات ماہ کاطویل مجاہدہ کیا۔

اس عرصہ میں آپ پابرہنہ رہے اور جنگلی بوٹیوں پر گزران کرتے تھے۔ اس طویل عرصہ میں آپ نے کوئی گفتگو نہ کی۔ آپ ہر دو ہفتے کے بعد 16؍میل سون سکیسر کے جنگلات سے پیدل چل کے خوشاب شریف ضلع سرگودھا میں مزار اقدس حضرت قطب الکونین سخی سیّد شاہ معروف خوشابی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر حاضری دیتے تھے۔ آپ اپنے احوال کا ذکراشعار میں یوں کرتے ہیں:

اساں وچ گوہند دے جنگلاں دے پڑھی بیٹھ توبہ استغفار دھیئے

وچ سون سکیسر دے جا کے تے کیتے یار دے اساں دیدار دھیئے

ڈیرے لائے جا وچ ویرانیاندے سب چھوڑ کے خویش پروار دھیئے

کھان پین دی رہی نہ ہوش کوئی آکے عشق کیتا مستوار دھئیے

دھپاں سِراں تے جھلیاں جیٹھ دیاں دتے سکھ آرام وسار دھیئے

سولاں میل ہر پندرھویں روز چل کے دتی حاضری وچ دربار دھیئے

آپ کے صاحبزادے سید محرم شاہ کمال نوشاہی کا کہنا ہے کہ حضرت سیدنا برقؒ نوشاہی قادری اپنے مریدین کو کلمہ طیبہ کا ورد کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ ایک روز ایک بے تکلف مرید نے فرمائش کر دی’’حضور کلمہ طیبہ کے علاوہ بھی کچھ ذکر عطاء کر دیجے‘‘

آپؒ نے برق نگاہی سے اسے دیکھا تو وہ بے چارہ لرز کررہ گیا۔

’’تو ابھی کلمہ طیبہ کا حق پورا نہیں کر سکا ، آگے کیا پڑھے گا‘‘ آپؒ نے موقع کی مناسبت سے مریدین کو سمجھایا’’میرے جدامجد حضرت سید نوشہ گنج بخش جن کی خاک کا میں سُرمہ ہوںؒ ،نے اپنے مریدین اور سلسلہ نوشاہی کے پیرو کاروں کو نماز فجر کے بعد کلمہ طیبہ کا ذکر کثرت سے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کیا تم جانتے ہو میرے جدامجد نے کلمہ طیبہ کثرت سے پڑھنے کا حکم کیوں دیا؟۔تم اس کی حقیقت سننا چاہتے ہو تو سنو اور یاد رکھو کہ کلمہ طیبہ میں فلاح نجات ہے اور لوح تقدیر سے ملاپ و مشاہدہ کے لئے یہ کلمہ طیبہ کتنے روحانی فیوض عطا کرتا‘‘۔

اس روززمرمہ فیض رواں تھا۔حضرت سید نا برق ؒ کے چہرے پرانوار کی بارش ہو رہی تھی۔لہجہ دھیما مگر الفاظ کی آنچ تیز تھی۔ اس لمحے ساعتوں کو وقت کی مٹھی میں قید کرنا دشوار تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے دربار نوشاہیہ میں ہر سننے والے کے دل کی سماعتیں کھل چکی ہیں اور ان پر کلمہ طیبہ کے روحانی فیوض کے اسرار و بھید اور خواص کھلتے جارہے ہیں۔

جاری ہے۔ اٹھتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ


loading...