تیسویں قسط۔ ۔ ۔ فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز

تیسویں قسط۔ ۔ ۔ فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز
تیسویں قسط۔ ۔ ۔ فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز

  


ان کی اس عادت کی وجہ سے بھی اداکار غلطیاں کر دیا کرتے تھے۔ اس لیے کہ سین کی ضرورت اورمکالمے کے بجائے اداکار کا دھیان نذیر صاحب کے ہاتھوں کی طرف لگا رہتا تھا کہ کب غلطی ہو گی اور وہ چپل پیر سے اتار کر لپکیں گے۔امداد کے ساتھ چند بار یہ واردات ہو چکی تھی۔ ایک دن نذیرصاحب ذرا خوش گوار موڈ میں تھے اور امداد سے کہہ رہے تھے کہ بیٹا‘ تم لوگ آخر سمجھتے کیوں نہیں ہو۔ میں تمھیں اداکاری سکھاتاہوں اور تم نہیں سیکھتے۔ کتنے بد قسمت ہو۔

انتیسویں قسط۔ ۔ ۔فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ، پچھلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

امداد نے کہا ’’ سر جی۔ اگر آپ ناراض نہ ہو ں تو ایک بات کہوں ؟‘‘

بولے ’’ ہاں ہاں۔ کہو۔‘‘

اس نے کہا ’’ نذیر صاحب۔ کیا آپ چپل کے بجائے تسمے والی جوتی نہیں پہن سکتے ؟‘‘

نذیر صاحب نے حیران ہو کر پوچھا ’’ ارے بے وقوف اداکاری سے اس سوال کا کیا تعلق ہے ؟‘‘

امداد نے کہا ’’بہت بڑا تعلق ہے سر۔ بات یہ ہے کہ آپ چپل پہنتے ہیں اس لیے ایک منٹ میں اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں۔ اگر تسمے والی پہنیں گے تو اسے اتارنے میں کچھ دیر تو لگے گی۔ ایسے میں اداکار کو بچنے کا موقع مل جائے گا۔ اب یہ ہوتا ہے کہ ہماری توجہ ایکٹنگ اور مکالموں کی بجائے آپ کے ہاتھ اور چپل پر لگی رہتی ہے۔ تو پھر ہم اداکاری کیسے سیکھیں گے؟‘‘

نذیر صاحب ہنسنے لگے۔

نذیرصاحب کا ایک اور واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ بابا عالم سیاہ پوش پنجابی کے بہت اچھے شاعر اور نثر نگار تھے۔ نذیر صاحب کی ایک فلم کی انہوں نے کہانی لکھی اور ایک ایسا کردار تحریر کیاجو مخصوص قسم کی بہت مشکل زبان بولتا تھا۔ شوٹنگ کا آغاز ہوا تو نذیر صاحب نے مختلف اداکاروں کو بلایا اور آزمایا مگر باباعالم سیاہ پوش نے کسی بھی اداکار کو پسند نہیں کیا۔یہی کہتے رہے کہ یہ مکالموں اور کردار کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے گا۔

اس کردار کا حلیہ یہ تھا کہ سر منڈا ہوا تھا۔ سر منڈانے کے لیے بھی بہت سے ادا کار رضامند نہیں تھے۔ نذیرصاحب تنگ آ گئے۔ شوٹنگ میں مزید تاخیر بھی نہیں ہو سکتی تھی۔آخر انہوں نے ایک دن ضروری مشورے کے لیے باباعالم سیاہ پوش کو بلایا اور انہیں لے کر ایک علیحدہ کمرے میں چلے گئے۔ کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔ اندر سے کچھ عجیب و غریب قسم کی آوازیں بلند ہوئیں اور پھر خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر بعد نذیرصاحب اور بابا عالم سیاہ پوش کمرے سے باہر نکلے تو ایک حجام بھی ان کے پیچھے برآمد ہوا۔ باباعالم سیاہ پوش کا سر منڈا ہوا تھااور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

انہوں نے نذیرصاحب سے شکایت کی ’’ یہ آپ نے بہت زیادتی کی ہے میرے ساتھ۔‘‘

نذیر صاحب نے کہا ’’ بابا جی۔ زیادتی تو آپ نے کی ہے میرے ساتھ۔ ایسا کریکٹراور ایسی زبان لکھی ہے کہ کوئی اداکار نہیں کر سکتا۔ اب آپ ہی اس کے ساتھ انصاف کریں۔‘‘

بعد میں باباعالم سیاہ پوش نے یہ کردار کیا اور بہت خوب کیا۔ اس فلم کانام ’’ لارے ‘‘ تھا۔ یہ بھی کامیاب رہی مگر پہلی فلم ’’ پھیرے ‘‘ جتنی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

بابا سیاہ عالم پوش کی بات چل نکلی ہے تو ان کے بارے میں بھی سن لیجئے۔ وہ پنجابی کے بہت اچھے شاعر اور نثر نگار تھے۔ بہت بڑے عالم تھے۔ اردو فارسی کے بھی ماہر تھے۔ کہتے ہیں کہ نوجوانی میں انہیں ایک لڑکی سے پیار ہو گیا تھا۔ اس کی شادی کہیں اور ہو گئی۔ عالم نے اس دن کے بعد سیاہ پوشی اختیارکر لی اوردنیا ترک کر دی۔ نتیجہ یہ کہ جوانی میں ہی باباعالم سیاہ پوش کے نام سے مشہور ہو گئے۔ جب ہماری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ نہ سیاہ پوش تھے اور نہ ہی ترک دنیا کے قائل رہے تھے۔ لیکن باباعالم سیاہ پوش کے نام ہی سے جانے پہچانے جاتے تھے۔انہوں نے بہت سی فلموں کی کہانیاں لکھیں اور داد حاصل کی لیکن پیسے نہ کما سکے۔ اس زمانے میں فلمی صنعت میں پیسے ہی کہاں تھے جو انہیں ملتے۔ کافی کام کیا مگر خالی ہاتھ ہی رہے۔بابا سیاہ عالم پوش تھوڑے سے ہکلاتے تھے۔ جملہ شروع کرنے سے پہلے ذرا اٹکتے تھے اور ایک انگلی اپنے جبڑے پر مارتے تھے تو بالکل روانی سے بولنا شروع کر دیتے تھے۔ بہت رکھ رکھاؤ والے خلیق انسان تھے۔ ہم سے تو بہت سینئر تھے مگر بہت عزت دیتے تھے۔ پیار سے ’’ آفاق ملت ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ کبھی شعروشاعری اور ادب کی بات چھڑجاتی تھی تو وارث شاہ سے لے کر غالب و ذوق اور عرفی و بیدل تک کے اشعار سنادیتے۔ افسوس کہ فلمی صنعت میں خوشحالی کا دور آنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔

نذیر صاحب نے جو ان کے ساتھ سلوک کیا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ دیتے تھے اور جب تک پوری طرح مطمئن نہ ہو جاتے آگے قدم نہ بڑھاتے۔ مثال کے طور پر ایک اور واقعہ سنئے۔

نذیرصاحب نے پاکستان میں آکر سب سے پہلے ’’ ہیر رانجھا ‘‘ کے نام سے ایک فلم شروع کی تھی۔ یہ فلم اردو زبان میں بنائی جا رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ اور میڈم سورن لتا اس فلم میں’’ہیررانجھا ‘‘ تھے۔ ایم اسماعیل صاحب کیدو کا بد نام زمانہ کردار ادا کر رہے تھے۔ یہ فلم مکمل تو ہو گئی تھی مگر تقسیم کار سے تنازع کے باعث ریلیز نہ ہو سکی۔ بعد میں لیبارٹری میں آ گ لگ گئی اور فلم کا نیگیٹو جل کر راکھ ہو گیا۔ اس طرح یہ فلم کسی نے بھی نہ دیکھی۔

’’ ہیر رانجھا ‘‘ کے لیے اسٹوڈیو کے باہر والی نہر پر شوٹنگ ہو رہی تھی۔ پل کی جگہ نہر پر ایک شہتیر ڈال دیا گیا تھاجیسا کہ دیہات میں عموماً ہوتا ہے۔ فلم کی ہیروئن سورن لتا کو اس شہتیر سے گزر کر نہر کے پار جانا تھا۔ ریہرسل میں وہ جب بھی شہتیر سے گزرنے لگتیں توغیر ارادی طور پر نیچے شہتیر کی طرف دیکھنے لگتیں۔ نذیرصاحب نے انہیں بتایا کہ بھئی آپ کا ہیرو دوسری جانب سامنے کھڑا ہے۔ آپ کو اس کی طرف دیکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے مگر آپ نیچے شہتیر کو دیکھتی رہتی ہیں۔ جب شاٹ ہونے لگا تو میڈم سورن لتا نے پھر شہتیر کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ نذیر صاحب کو غصہ آ گیا اور انہوں نے انہیں خوب ڈانٹا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی دیر کے لئے شوٹنگ رک گئی اور میڈم سورن لتا ناراض ہو کر ایک طرف بیٹھ گئیں۔ جب غصہ اترا تو نذیر صاحب نے انہیں سمجھایا کہ دیکھو فلم میں تم اسی گاؤں کی رہنے والی لڑکی ہو اور بچپن ہی سے اس شہتیر سے گزرتی رہی ہو۔ تمہیں تو اس پر سے گزرنے کی عادت ہونی چاہیے۔ اس لئے تمہارا نیچے دیکھنا بہت غیر فطری اور برا لگتا ہے۔ کچھ دیر بعد پھر شوٹنگ شروع ہو گئی اور میڈم نے صحیح شاٹ دے دیا۔ اگلے وقتوں کے فلم بنانے والے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی بہت اہمیت دیا کرتے تھے تاکہ فلم میں حقیقت کا رنگ پیدا ہو جائے۔

رواج یہ ہے کہ شوٹنگ کے دوران میں فلم ساز کی طرف سے کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ نذیر صاحب کی شوٹنگ میں کھانا ان کے گھر سے پک کر آتا تھا اور سب کو خود تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی میں دوبارہ مانگنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔

’’آفاق‘‘ ہی کے زمانے میں ہماری شباب کیرانوی سے ملاقات ہوئی۔ اس وقت وہ بھی ہماری طرح صحافی تھے۔ فرق یہ تھا کہ ہم ایک روزنامہ میں کام کرتے تھے اور وہ ایک فلمی ماہنامہ ’’ڈائریکٹر‘‘ کے مدیر تھے۔ ڈائریکٹر اپنے وقت کا بہت مقبول اور بااثر فلمی میگزین تھا۔ اس کے مینجنگ ایڈیٹر چوہدری فضل حق صاحب تھے۔ کافی عرصے تک لوگ انہیں اور شباب صاحب کو شریک کار اور حصے دار ہی سمجھتے رہے تھے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ شباب صاحب صرف ان کے ملازم تھے۔ لیکن جس انداز سے شباب کیرانوی دفتر میں براجمان ہوتے تھے اور ادارتی امور میں انہیں جو اختیارات حاصل تھے اس کے پیش نظر دیکھنے والے یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ وہ چوہدری فضل حق کے پارٹنر ہیں۔ چوہدری فضل حق ایک باغ و بہار شخصیت تھے۔ چھ فت سے نکلتا ہوا قد، بھرا ہوا جسم‘ گہرا سانولا رنگ‘ جب ہم نے انہیں دیکھا تو غالباً پچاس پچپن کے پیٹے میں ہوں گے لیکن صحت مند اور توانا تھے۔ وہ تھوڑے سے ہکلاتے تھے مگر بہت دلچسپ باتیں کرتے تھے۔ مال روڈ پر کمرشل بلڈنگ اس زمانے میں لاہور کا بہترین شاپنگ سینٹر سمجھی جاتی تھی۔ اس لمبی سی دو منزلہ عمارت کی نچلی منزل میں دکانیں تھیں‘ بالائی منزل پر دفاتر وغیرہ تھے۔ ان ہی میں سے ایک دفتر ’’ڈائریکٹر‘‘ کا بھی تھا۔ اول تو لاہور کی مال روڈ پر کمرشل بلڈنگ جیسی جگہ پر کسی فلمی پرچے کا دفتر ہونا ہی ایک تعجب اور اعزاز کی بات تھی۔ مگر جب سیڑھیاں چڑھ کر دفتر میں پہنچتے تو دفتر کا ٹھاٹ باٹ دیکھ کر کچھ اور مرعوبیت ہو جاتی۔ دفتر میں ایک بڑے کمرے میں چوہدری فضل حق کا دفتر تھا۔ اس میں اور بھی بہت سے کارندے بیٹھا کرتے تھے۔ چوہدری صاحب کے اور بھی بہت سے کاروبار تھے جن میں زمین کی خریدوفروخت کا کاروبار بھی شامل تھا۔ وہ کافی خوشحال بلکہ پیسے والے آدمی تھے۔ تعلیم یافتہ اور ذہین تھے۔ میل جول اور بات چیت کا ڈھنگ بھی جانتے تھے۔ اس لئے ایک کامیاب انسان تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بھی بہت اچھی تعلیم و تربیت دی تھی جو دفتر بہت کم آتے تھے۔

’’ڈائریکٹر‘‘ کے دفتر میں شباب کیرانوی کا کمرہ چوہدری صاحب کے کمرے سے زیادہ سجا ہوا تھا۔ صوفہ سیٹ بھی بچھے ہوئے تھے اور فرنیچر بھی بہت اچھی قسم کا تھا۔ اس کے برابر والے کمرے میں خوش نویس اور عملے کے دوسرے ارکان بیٹھا کرتے تھے۔

جاری ہے۔ اکتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...