تھانوں میں کرایہ داروں کی رجسٹریشن عذاب بن گئی ,شہری خوار

تھانوں میں کرایہ داروں کی رجسٹریشن عذاب بن گئی ,شہری خوار

لاہور (ویب ڈیسک) کرایہ داری ایکٹ کے تحت کرایہ داروں کی تھانوں میں رجسٹریشن عذاب بن گئی ، شہری اندارج کیلئے گھنٹوں لائنوں میں لگ کر خوارہونے لگے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اور پولیس کی جانب سے کرایہ داروں کا ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے کرایہ داری فارم ، سٹام پیپر اور مالک مکان کاریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے فرنٹ ڈیسک قائم کئے گئے ہیں مگر نیشنل ایکشن پلان کے تحت مرتب کیا جانیوالے کرایہ داری ایکٹ پر عملدر آمد شہریوں کیلئے عذاب بن شکا ہے، متعلقہ تھانوں میں کرایہ نامہ درج کرانے کیلئے گھنٹوں خوار ہونا پڑ رہا ہے۔ پولیس سٹیشنوں میں قائم کئے جانیوالے فرنٹ ڈیسک پر لمبی قطاروں اور وہاں پر موجود کمپیوٹر آپریٹروں کے ناروارویے کے سبب کرایہ نامہ کا اندراج کروانے بیشتر افراد واپس لوٹ جاتے ہیں۔ ذرائع نے نئی بات کو بتایا کہ تھانوں میں صبح آٹھ سے ساڑھے آتھ بجے تک ٹوکن دیئے جاتے ہیں جس وجہ سے دفتروں کو جانے والے افراد کو وہاں ٹوکن کے حصول کیلئے اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر وہاں پہنچ کر قطار میں لگنا پڑتا ہے اور اگر ٹوکن لینے میں تاخیر ہو جائے تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو منتیں کرنا پڑتی ہیں اور اگر پھر بھی کام نہ بنے تو تین سے پانچ سو روپے رشوت دے کر کرایہ نامہ پولیس ریکارڈ میں رجسٹرڈ کرانا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ کرایہ داری فارم فرنٹ ڈیسک سے ملنے کی بجائے تھانے کے باہر پارکنگ سٹینڈٹھیکیدار سے بیس سے پچاس روپے تک بیچے جار ہے ہیں۔ یوں حکومت کی جانب سے شہریوں کیلئے فراہم کردہ سہولت زحمت میں تبدیل ہو چکی ہے۔

مزید : لاہور


loading...