سافٹ ویئر انجینئر کی پراسرار کہانی

سافٹ ویئر انجینئر کی پراسرار کہانی
سافٹ ویئر انجینئر کی پراسرار کہانی

  


نظام الدولہ

میں ڈیلی پاکستان کے مافوق الفطرت سلسلہ میں شائع ہونے والی خوفناک اور حیرت انگیز کہانیاں شوق سے پڑھتا ہوں۔ میں سافٹ ویئر انجینئر ہوں۔ میں بھی آپ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔ میں حیدر آباد میں اپنے والدین اور چھوٹی بہن کے ساتھ رہتا ہوں۔ بہن کی عمر20سال اور میری 24سال ہے۔ آپ کو شاید یہ بات عجیب لگے مگر یہ بات صدق دل سے بیان کر رہا ہوں کہ مجھے اور میری بہن کو اپنے گھر میں بہت سے حیرت انگیز واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ خاص طور پر پُراسرار سائے اور آوازیں عام سنائی اور دکھائی دیتے ہیں۔ کئی بار تو بہن نے چھوٹے سے بچے کے سائے کو برتنوں کی الماری میں اور کپڑوں کی الماری کے اوپر بھی بھاگتے دیکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ میں اور نہ میری بہن نے کبھی ان باتوں کو اہمیت دی ہے۔ مجھے کبھی ڈر خوف بھی نہیں لگااور یہ معمول کی بات ہے ہمارے لئے ۔

اس واقعہ سے پہلے مجھے نیند بڑی گہری اور پرسکون آتی تھی۔ جب سے مجھے خواب میں ڈروانی شکلیں نظر آنے لگی ہیں میں بے خوابی کا شکار ہوگیا ہوں۔ کئی بار میں ایک لمبے اور سیاہ سے ہیولہ نما آدمی کو بھاگتے دیکھتا ہوں جس نے سر پر بڑی سی پگڑی باندھ رکھی ہوتی ہے۔ اس کی مونچھیں بھی لمبی لمبی ہوتی ہیں اور آنکھیں بھی سرخ انگارہ۔ کبھی اس کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھ سکا۔

ایک روز مجھے دفتر میں نائٹ شفٹ کے لیے رکنا پڑ گیا۔ اس روز میرا ایک کزن روحان گھر آیا اور رات کو میرے کمرے میں ہی سو گیا۔ میں اس کو یہ بات بتایا کرتا تھا کہ ہمارے گھر میں کس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں اور وہ میرا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ دیوٹی کے دوران مجھے نیند آنے لگی سو میں نے بھی کچھ دیر آرام کرنے کا سوچا لیکن دفتر میں سونے کی جگہ نہیں تھی لہٰذا میں نے اپنی کار کی پچھلی سیٹ پر کمر سیدھی کرنے کا ارادہ کیا اور کار میں جا کر سو گیا۔

یہ سحری کا وقت ہوگا جب ایک انتہائی ڈرؤانے خواب سے میری آنکھ کھل گئی۔ میرا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا اور سانس پھولی ہوئی تھی۔

میں خواب کی حالت میں دیکھتا ہوں کہ میں اور میرا کزن روحان کار میں کہیں جا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے۔ وہ اچھل کر گاڑی سے باہر کود جاتا ہے جبکہ میں اگلی سیٹ پر پھنس جاتا ہوں۔ اس لمحہ مجھے پچھلی سیٹ سے قہقہہ لگانے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ پلٹ کر دیکھتا ہوں تو وہی مونچھوں والا پگڑ باندھے ہیولہ مجھے سرخ آنکھوں سے گھور بھی رہا ہوتاہے اور مکروہ و خوفناک قہقہہ بھی لگا رہا ہوتاہے۔ میں چیخ پڑتا ہوں۔ ’’کوئی ہے جو میری مدد کرے۔۔۔‘‘ اس اثناء میں کار کا شیشہ ٹوٹ جاتا ہے اور روحان مجھے کار سے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو اس وقت مجھے گردن کے پاس کھروچ آجاتی اور خون بہنے لگتا ہے۔ روحان مکا مار کر شیشہ توڑتاہے تو اس کی انگلیوں پر بھی زخم آجاتا ہے۔ جیسے ہی میں کار سے باہر نکلتا ہوں تو وہ ہیولہ ہم دونوں پر جھپٹ پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

یہ خواب تھا۔۔۔نہیں۔۔۔تو پھر کیا تھا۔یہ خواب ہی تھا لیکن میں تو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ہی پڑا ہوا تھا اور میری گردن سے خون رس رہا تھا۔ اس دوران میں نے گھڑی پر وقت دیکھتا۔ سحری کے چار بج رہے تھے۔ اس لمحہ میرے موبائل پر ایک میسج آگیا۔ لکھا تھا ’’بھائی ۔۔۔آئندہ میں آپ کے کمرے میں نہیں سونا چاہوں گا۔۔۔‘‘

یہ روحان کا میسج تھا۔ میں نے اسے فون کیا تو اس کی بات سن کر میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے ۔اس نے مجھے وہی خواب سنایا اور پراسرار ہیولے کا بھی ذکر کیا۔ اس کے ہاتھ پر بھی کھروچیں آئی تھیں۔

کیا یہ بات حیرت ناک نہیں کہ ایک ہی وقت میں ہم دونوں نے ایک ہی خواب دیکھا اور ہمیں زخم بھی آئے۔۔۔اسے اتفاق تو نہیں کہا جا سکتا ۔ اس کا مطلب ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی کوئی اور مخلوق ہمارے اردگرد موجود ہے جو کبھی کبھار انسانوں کو تنگ کرکے اپنے وجود سے آگاہ کرتی رہی ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت


loading...