پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتوں کی توسیع پر متفق ہوگئی ہیں

پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتوں کی توسیع پر متفق ہوگئی ہیں
پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتوں کی توسیع پر متفق ہوگئی ہیں

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتوں کی توسیع پر متفق ہوگئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی نو میں سے چار شرائط جبکہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم پر بھی اتفاق کر لیا گیا۔ فوجی عدالتوں کی توسیع کا بل پیر کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے آئینی ترمیمی بل کی تیاری کے اعلان پر پھنس گئی کیونکہ ۔ ۔۔

اسلام آباد میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماﺅں کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پارلیمانی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق رائے کر لیا۔پیپلز پارٹی نو میں سے چار شرائط پر متفق ہوگئی ہے جبکہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) بل میں موجود لفظ مذہب کے استعمال پر ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ ترمیم میں مذہب کے استعمال کی بجائے مذہب کے غلط استعمال لکھا جائے گا۔

تمام پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتوں کی توسیع پر رضامند، کل مسودہ پیش کریں گے، اسحاق ڈار، پی پی نے حکومتی تجاویز کے کسی مسودے پر اتفاق نہیں کیا: فرحت اللہ بابر

اسپیکر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق بل پرپیرکوپارلیمانی رہنمابات کریں گے۔ بل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائےگا۔ تمام جماعتوں نے ذاتی مفادات سے بالاترہوکرقومی مفادمیں فیصلہ کیا۔ فوجی عدالتوں میں 2 سال کی توسیع پرتمام جماعتیں متفق ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ بار نے فوجی عدالتوں کے دوبارہ قیام کی مخالفت کردی

میڈیا بریفنگ کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنماءاعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پارلیمانی رہنما فوجی عدالتوں میں توسیع پرمتفق ہوئے۔توقع کرتے ہیں کہ کمیٹی بنے گی توبلاول کے مطالبے کے مطابق ہوگی۔اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے تحفظات کو دور کردیا گیا ہے۔پی پی پی نے ملٹری کورٹس میں سیشن ججزکےلئے اصرار نہیں کیا۔ بلاول نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی تجویزدی تھی۔اعتزاز احسن کے مطابق بل کی عبارت طے ہوچکی ہے،اسے ا یکٹ میں تبدیل کرناہے ۔

جماعت اسلامی کا پیپلز پارٹی کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان ،سراج الحق کی قیادت میں 3 رکنی وفد شریک ہو گا :امیر العظیم

تحریک انصاف کے رہنماءشاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کے اتفاق رائے نے ثابت کیا کہ جمہوریت کے ہمیشہ اچھے نتائج ثابت ہوئے ہیں۔اتفاق رائے سے بل پاس ہو تو اس کی خوبصورتی زیادہ ہوتی ہے اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ کسی خاص مذہبی طبقے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

مزید : قومی


loading...