شاہ سلمان نے چینی صدر سے ایسی چیز مانگ لی کہ جان کر امریکہ کے ہاتھوں کے طوطے اُڑجائیں گے

شاہ سلمان نے چینی صدر سے ایسی چیز مانگ لی کہ جان کر امریکہ کے ہاتھوں کے طوطے ...
شاہ سلمان نے چینی صدر سے ایسی چیز مانگ لی کہ جان کر امریکہ کے ہاتھوں کے طوطے اُڑجائیں گے

  


بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ کی خصوصی دعوت پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان چین کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے ایک ماہ پر محیط ایشیائی ممالک کے دورے کا اہم ترین حصہ چین کا دورہ ہے، جس کے دوران نہ صرف باہمی تجارت پر بات کی جائے گی بلکہ اسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے دور کا آغاز بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا کے دورہ چین کو سٹریٹجک اہمیت کا اہم ترین دورہ کہا جارہا ہے ، جو ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب سعودی عرب تیل پر انحصار ختم کر کے اپنی معیشت کو دوست ممالک کے ساتھ ملک کر متنوع کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کی بات چیت میں تجارت اور توانائی بنیادی موضوعات ہوں گے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اب چین اور سعودی عرب کے تعلقات تجارت اور معیشت سے آگے بڑھ کر دفاع اور سلامتی کے میدان میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔

’سعودی شہریوں کے ساتھ غیر ملکیوں کو بھی یہ کام کرنے کی ہم نے اجازت دے دی ہے‘

سعودی عرب تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ چین تیل خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ چین میں تیل کی یومیہ کھپت تقریباً سوا کروڑ بیرل ہے، اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آئندہ ایک دہائی کے دوران چین میں تیل کی طلب 2.4 فیصد کی اوسط سے بڑھتی رہی گی۔ چینی آئل مارکیٹ میں سب سے آگے رہنا سعودی عرب کی بنیادی ترین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ اس مارکیٹ میں سعودی عرب کو روس ، عراق ، ایران ، وینزویلا اور برازیل جیسے ممالک کی جانب سے مقابلے کا سامنا ہے۔

مشرقِ وسطی میں سعودی عرب پہلے ہی چین کا سب سے بڑا تجاری شراکت دار بند چکا ہے۔ چین کی 160 سے زائد کمپنیاں سعودی معیشت کے مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں اور مملکت میں چینی منصوبوں کی تعداد 175 سے زائد ہو چکی ہے۔ چینی کمپنیاں ٹیلی کمیونیکیشن اور کنسٹرکشن کے شعبوں میں نمایاں نظر آتی ہیں۔

جنوری 2016 ءمیں جب چینی صدر شی جن پنگ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو دونوں ممالک کے درمیان جامع سٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد رکھی گئی۔ اب دونوں ممالک ایک دوسرے کیلئے مضبوط حماتی کی حیثیت رکھتے ہیں ، جس کی ایک مثال گزشتہ سال اکتوبر میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب چین نے نام نہاد امریکی قانون ’جسٹس اگینسٹ سپانسرز آف ٹیررازم‘ کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ’خودمختار استثنائ‘ موقف کی حمایت کر دی۔ گزشتہ سال نومبر میں دونوں ممالک نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ تعاون کی بنیاد رکھی اور مشترکہ فوجی مشقوں کی حکمت عملی بھی طے پا چکی ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...