فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر381

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر381
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر381

  


ہمیں یاد ہے کہ فلموں کی شوقین رشتے دار خواتین چوری چُھپے ہم سے ’’شمع‘‘ یا ’’آریہ ورت‘‘ نامی فلمی میگزین منگایا کرتی تھیں اور انہیں چھپ کر پڑھتی تھیں۔ فلمی رسالے شریف گھرانوں میں لائے جانے کے قابل نہیں سمجھے جاتے تھے۔

اب ذرا سوچئے کہ اُس زمانے میں اگر نگار سلطانہ اور بیگم پارہ جیسی ایکٹریسیں یکایک فلم اسکرین پر نمودار ہو جائیں گی تو اس کا کیا ردّعمل ہوگا؟ ہم چھوٹے تھے اس لیے ہمارے ہم عمروں کے سامنے بڑے لوگ بیگم پارہ اور نگار سلطانہ کا تذکرہ بھی نہیں کرتے تھے کہ مبادا نوعمر لوگ ان کی باتیں سن کر گمراہ ہو جائیں۔ ان دونوں کا تعلّق متوسط‘ شریف مسلمان گھرانوں سے تھا اس لیے ان کی آزاد خیالی اور بے راہ روی سارے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ندامت کا باعث تھی۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر380 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

غیرمنقسم ہندوستان میں کہنے کو تو ہندو اور مسلمان ساتھ رہتے تھے مگر ان کے درمیان کشیدگی اور نفرت کا رشتہ بھی قائم تھا۔ ہندو لڑکے مسلمانوں کو شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ مسلمان بھی جوابی کارروائی کے طور پر انہیں شرمندہ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے تھے۔ مسلمان اداکاروں کا تذکرہ مسلمان بڑے فخر سے کرتے تھے اور ان کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے۔ ہندو ان میں نقص اور عیب نکالتے رہتے تھے اور اپنے ہندوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے۔ دلیپ کمار‘ راج کپور اور دیو آنند اس زمانے کے سُپراسٹارز تھے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اداکار کی حیثیت سے دلیپ کمار کا ان دونوں سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود ہندو پریس اور ہندو فلم بین انہیں دلیپ کمار کے مقابلے میں برتر ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

دلیپ کمار کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ متعصّب ہندو بھی ان کی فلمیں دیکھنے پر مجبور تھے لیکن جب بھی موقع ملتا تھا‘ راج کپور یا دیو آنند کو دلیپ کمار کا مدمقابل ثابت کرنے میں مصروف ہو جاتے تھے۔

اس پس منظر میں جب نگار سلطانہ بمبئی کی فلمی دنیا میں وارد ہوئیں اور ان کی داستانیں عام ہونے لگیں تو ہمارے ہندو ساتھیوں اور دوستوں کو ایک نادر موقع مل گیا کہ وہ ان کے حوالے سے مسلمانوں کو شرمندہ کریں۔ نگار سلطانہ نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اس لیے مدافعت میں کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہ تھی۔ اس طرح بیگم پارہ جب چمک دمک کے ساتھ فلموں میں جلوہ گر ہوئیں تو ہندو پریس نے اس بات کو بہت اچھّالا کہ فلم ’’چاند‘‘ میں وہ اپنے بھائی کے مقابلے میں ہیروئن کا کردار کررہی ہیں۔حالانکہ وہ انکے کزن تھے فلمی مصلحتوں اور غالباً فلم ساز کے مطالبے پر بیگم پارہ نے اس خبر کی تردید بھی نہیں کی جس کی وجہ سے سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو ہزاروں باتیں سننی پڑیں۔ یہ ایسا مسئلہ تھا جس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ہمیں آج بھی اچھّی طرح یاد ہے کہ ان کی وجہ سے ہم سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہندو دوستوں کو ایک دل پسند موضوع ہاتھ لگ گیا تھا۔ یہ صدمہ ہم کبھی فراموش نہ کر سکیں گے۔ اور پھر جب فلم ’’چاند‘‘ اور بیگم پارہ کی دوسری فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں تو رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی۔ فلم میں ٹب میں غسل کرنے کے مناظر ہالی ووڈ کی فلموں کے انداز میں فلمائے گئے تھے اور ان مناظر میں عریانی اور بے باکی کا ایسا مظاہرہ کیا گیا تھا جو اس زمانے میں ہندوستانی فلموں میں نظر نہیں آتا تھا۔ خود سوچ لیجئے کہ ہم لوگوں کو کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی ہوگی لیکن مجبور تھے۔

ایسی ہی ندامت بلکہ ذلّت اس وقت اٹھانی پڑی تھی جب نرگس نے راج کپور کے عشق میں گرفتار ہوکر کُھلے بندوں اس کے ساتھ رہنا شروع کردیا تھا۔ اُس زمانے میں بھی فلمی دنیا میں اس قسم کی مثالیں بہت کم تھیں اور نرگس نے بھی حد کردی تھی۔ نرگس اور راج کپور میاں بیوی کی حیثیت سے قریب قریب دس سال تک ایک ساتھ رہے اور یہ تمام عرصہ ہندوستان کے مسلمانوں نے کانٹوں پر گزارا۔ یہ تصوّر ان کے لیے تسلّی بخش نہ تھا کہ نرگس نے دلیپ کمار کی طرف سے انکار ہونے کے بعد راج کپور کی طرف توّجہ دی تھی۔ ہندو راج کپور اور نرگس کے تعلقات کے حوالے سے شرمندہ کرتے رہتے تھے اور مسلمان شرم سار ہوتے رہتے تھے۔ ستم یہ کہ جب نرگس نے بالکل مجبوری کے عالم میں راج کپور سے علیحدگی اختیار کی تو انہیں اپنا جیون ساتھی بنانے کے لیے ایک ہندو ہی ملا۔خیر سنیل دت بطور انسان بہت اچھّے ثابت ہوئے۔ وہ شوہر بھی مثالی تھے مگر مسلمانوں کو نرگس کی اس شادی کی بنا پر مستقل ندامت اٹھانی پڑتی تھی۔

مدھو بالا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ دلیپ کمار کے ساتھ مدھو بالا کی منگنی ہوچکی تھی۔ دلیپ کمار کے گھر والے اس شادی کے لیے تیار تھے مگر مدھو بالا کے لالچی اور خودغرض والد عطا الرحمن خاں کی وجہ سے ایسی غلط فہمیاں اور شکر رنجیاں پیدا ہوئیں کہ یہ تعلّق ٹوٹ گیا۔ مدھو بالا دل کی مریضہ تھیں۔ ان کے دل میں سوراخ تھا جس کی وجہ سے وہ بہت دھان پان اور نازک اندام تھیں۔ ان کے لیے ذرا سا صدمہ بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر حالات و واقعات نے ایسا رُخ اختیار کیا کہ مدھو بالا نہ چاہتے ہوئے بھی دلیپ کمار سے دور ہوگئیں۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر382 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...