سنجیدگی، سْکون کی ماں ہے!

سنجیدگی، سْکون کی ماں ہے!
سنجیدگی، سْکون کی ماں ہے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حقیقی معنوں میں اچھا وہ ہے جو بدترین حالات میں بھی اَوچھا نہیں ہوتا۔ پھر ، یہ دنیا ابھی اچھی کہاں ہے! اَلمختصر، یہ دنیا ابھی اَوطان سے مل کر بنتی ہے اوروطن کوئی ہو ، جونہی بدترین حالات میں گھرتا ہے، اپنی بقا کے لئے کچھ بھی کر جاتا ہے مگر کسی بھی وطن کے لئے بدترین صورتحال جنگ ہوتی ہے۔ پھر جونہی کوئی ملک جنگ سے دوچار ہو جاتا ہے وہ بہرطور جیتنا ہی چاہتا ہے۔ جنگ میں ہار کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے خسارہ سے بچ رہنے کی خاطر وطن پھر ہر چارہ برت جاتا ہے یعنی جنگ میں ، واقعتاً سب جائز ہی سمجھا جاتا ہے۔ ہر ایسا وار جو دشمن کو دُھول چٹا  سکتا ہے،جنگ میں اُلجھے کسی بھی ملک کی انتہائی ضرورت ہوتا ہے مگر جنگ کو جاری وساری رکھنا تو اِس دُنیا کا سب سے محال کام ہے۔۔۔
اِس دنیا کا ہردیس پھر حتیٰ الامکان کوشش یہی کرتا ہے کہ وہ جنگ سے ہرممکن بچتا ہی جائے اور کہیں کوئی جنگ میں پھنس ہی جائےتو پھر وہ ملک دن رات یہی سعی کرتا ہے کہ جلد اَزجلد فاتح ہو جائے اور اول تو جنگ کی نوبت ہی نہ آئے، ہر ملک بس یہی چاہتا ہے۔ طاقتور ترین ممالک بھی یہی چاہتے ہیں کہ اپنے کم سے کم سپاہیوں کی موت کے عوض ہی زیادہ سے زیادہ فوائد ہتھیاتے جائیں۔ اپنے بچے مروانے کا یارا جمہوریت میں بالخصوص زیادہ نہیں ہوتا کہ جمہوری راج میں مائیں پھر سوال بہت کرتی ہیں۔ میڈیا کی زبانی وہ پوچھتی جاتی ہیں کہ ہمارے لخت ہائے جگر جس راہ میں قربان ہوتے جاتے ہیں ، اُس راستہ کی منزل واقعی اِتنی اعلیٰ ہے نا کہ جس کی خاطر اَنمول انسانی حیات بھی بے دریغ لٹائی جا سکتی ہے؟؟؟ تو، سیاسی قائدین بہرصورت اپنی قوم کے سامنے جنگ کا معقول جواز پیش کرنے کے پابند رہتے ہیں گویا۔
جنگ کا معقول ترین جواز ہوتا ہے پھر دَرپیش خطرہ اور کسی بھی ملک کو حقیقی خطرہ لاحق ہو جائے، کوئی اُس پر حملہ آور ہو جائے تو اُس وطن کا بچہ بچہ مادرِوطن کے دفاع کے لئے دل وجان سے تیار ہو سکتا ہے۔ بے شک، انسان جانتا ہے کہ اپنا دفاع تو اُس کا اَٹل حق ہے۔۔۔ ہاں مگر جو ملک حملہ آور ہوتا ہے، اُس کا بچہ بچہ بھی جنگ پر ویسا ہی بے دار و تیار ہو، یہ لازم نہیں۔ جارح ملک میں کئی آوازیں اُٹھ سکتی ہیں جو عسکری حملہ جیسی انتہائی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی وجہ آخر کیا ہے؟ جیسے انتہائی اَہم سوال زوروشور سے اْٹھا سکتی ہیں اور ایسے سوالات سے بچنے کی خاطر بھی، ہر جارح پہلے اپنے ہدف کو بلا کا بدنام کرتا ہے اور پھر ہی اْس پر اپنے زبردست ہتھیار آزماتا ہے۔۔۔
باقاعدہ حملہ مگر وہی وطن کرتا ہے جو بہرحال کہیں طاقتور ہوتا ہے۔ اَلبتہ اپناہرممکن بچاؤ تو کمزورترین ملک بھی اپنی طرف سے لازمی کرتا ہےلیکن وہ حملہ کرنے والا ہو یا دفاع کرنے والا، جنگ زَدہ ملک اپنے دشمن کے خلاف پھر کوئی بھی چال چل سکتا ہے، وہ عسکری اعتبار سے طاقتورترین ہو  تو پھر حریف کی سرحدوں پر ہی کیا ، اْس کے شہروں پر بھی بم برسا سکتا ہے، ایٹم بم تک گرا سکتا ہے۔ قصہ مختصر، وطن ایک اپنی خاطر، کچھ بھی کر سکتا ہے۔اَوچھا ترین وار بھی۔۔۔ پھر، جیسے کبھی امریکہ نے ایک جاپان کو جھکانے کے لئے اْس کے دو شہروں کو شہریوں سمیت جلا کے راکھ کر دیا تھا۔
اور یہیں ایک بڑا مسئلہ رہتا ہے۔ دراَصل، انسان آج بھی  زیادہ تر اور کہیں زیادہ توجہ سے  اپنے اَصل حکمران ہی سے سیکھتا ہے۔ عام آدمی، خاص اپنے حکمران سے سیکھتا ہے اور دنیا بھر کے حکمران  اپنی اپنی جگہ، پھر بخوبی جانتے ہیں کہ اِس دنیا میں دَرپردہ حکمرانی مگر قوتِ عظمیٰ یا سْپر پاور ہی کی رہتی ہے جسے اْردو میں پھر طاقتِ عالیہ ، وغیرہ بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔ خیر،دنیا کے سب حکمران کہیں نہ کہیں سْپر پاور کے اَندازواَطوار سے شدید متاثر ہوتے ہیں اور خود سے کمزوروں کے ساتھ پھر حتیٰ الامکان ویسا ہی برتاؤ کرتے ہیں جیسا وہ سْپر پاور کا ریاستوں کے ساتھ رویہ دیکھا کرتے ہیں اور سْپر پاور کا رویہ باقی دنیا کے باب میں بیشتر اوقات جارحانہ ہوتا ہے، منصفانہ نہیں۔ ہاں یہ ایک بڑا ہی مسئلہ ہے!

پھر اَلمختصر، گذرتی ہر صدی کے ساتھ ،جہانِ انسانی میں رَواں اپنے عہد کی ، سْپر پاور جتنی سنجیدہ ،انصاف پسند اور انسان دوست ہوتی جائے گی، یہ دنیا اتنی ہی بہتر ہوتی جائے گی۔۔۔ گو ابھی کافی وقت لگے گااور شاید بہت خون بھی مزید بہہ جائے گا۔۔۔ گوناگوں نظریات وعقائد میں تقسیم دَر تقسیم انسانی دنیا مگر سنبھلتی سنبھلتی بالآخر سنبھل جائے گی اور جیسے ہزاروں قبائل میں بٹی نسلِ انسانی محض پانچ چھ ہزار سال میں صرف دو سو اَقوام تک آپہنچ گئی ہے۔وہ وقت بھی آئے گا پھر جب فکری الجھنیں اور بھی چھَٹتی جائیں گی اور نسلِ انسانی باہم قریب تر ہوتی جائے گی۔ اِس دنیا کا مستقبل بہرطور بڑا روشن ہے۔۔ تو پھر ، ہمیں بھی اپنی تمام توجہ اپنی دھرتی کی تعمیروترقی ہی پر مرکوز کر دینی چاہئے کہ اِس بدلتی جاتی دْنیا میں مسلسل بہتری لانے کے عظیم ترین عمل میں، ہماری ذہین ومحنتی نسلیں بھی تو اپنا کردار ، زیادہ سے زیادہ اَدا کرجانے کی فضا خوب ہی پایا کریں۔ مگر، اپنی آئندہ نسلوں کو وہ ماحول دینا کہ جس میں وہ اپنے بہترین اِمکانات کو تمام ہی روشن و اْجاگر کر سکیں، یہ تو ہمارا کام ہی۔ یہی تو ہمارا کام، بڑا کام۔۔۔ بے شک، بڑا ہی کام! 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں .

مزید :

بلاگ -