کورونا وائرس سے تحفظ کے لئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت

کورونا وائرس سے تحفظ کے لئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت

  

امریکی محکمہ خارجہ نے واشنگٹن میں چینی سفیر کو طلب کر کے چینی دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان پر سخت احتجاج کیا اور اسے مضحکہ خیز قرار دیا،جس میں کہا گیا تھا کہ ہو سکتا ہے کورونا وائرس امریکی فوج ووہان میں لائی ہو، امریکہ کے ایشیا کے اعلیٰ سفارت کار ڈیوڈ سٹل ول نے کہا کہ چین عالمی وبا شروع کرنے اور دُنیا سے چھپانے میں اپنے کردار پر تنقید روکنے کی کوشش کر رہا ہے، سازشی نظریہ پھیلانا خطرناک اور مضحکہ خیز ہے۔ امریکہ چینی حکومت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہے کہ ایسے بیانات چینی عوام اور دُنیا کی بھلائی کی خاطر برداشت نہیں کئے جائیں گے۔

چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کورونا وائرس ووہان شہر میں لانے کی بات کا محض امکان ظاہر کیا تھا اور قطعیت کے ساتھ امریکہ پر کوئی الزام نہیں لگایا تھا، سفارتی دُنیا میں ایسے احتجاج تو ہوتے رہتے ہیں،لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے اور جب دُنیا وائرس کے خوف و ہراس سے نکلے گی تو اِس سوال کا جواب تو تلاش کرنا پڑے گا کہ ووہان میں یہ وائرس کس طرح پہنچا۔چمگادڑوں کے ذریعے پھیلنے کا نظریہ چین رد کر چکا ہے۔ بائیولوجیکل وار فیئر تو آج کے دور کی ایجاد ہے،اِس لئے ایسی الزام تراشی قطعی طور پر بے بنیاد بھی نہیں ہو سکتی،لیکن چین نے جس طرح ہمت و حوصلے کے ساتھ اس وائرس کے عذاب کا مقابلہ کیا دُنیا کا شاید ہی کوئی ملک اس کی مثال پیش کر سکے، دس دس دن میں ہزاروں بستروں کے ایمرجنسی ہسپتال بنا لئے گئے، جہاں ہزاروں لوگوں کا علاج کیا گیا، جو مریض زیر علاج رہے وہ تقریباً سو فیصد صحت یاب ہو گئے اور اِس وقت چین میں نئے مریض سامنے نہیں آ رہے۔ ایمرجنسی میں بننے والے ہسپتال بھی خالی ہو گئے ہیں اور چینی صدر نے ووہان کا بنفس ِ نفیس دورہ کیا ہے۔

اِس وقت کورونا وائرس کے حملے کا مرکز یورپ ہے اور بہت سے پورپی ممالک کے گلی کوچوں میں تو ہُو کا عالم ہے، ایسے وقت میں اس وائرس کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے ویکسین بنانے کی ضرورت تھی، جو ایک اندازے کے مطابق اگلے سال ڈیڑھ سال میں تیار ہو سکتی ہے، لیکن چین نے اپنے جن ہزاروں شہریوں کا تسلی بخش علاج کیا ہے، متاثرہ ممالک کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور چینی حکومت سے معلوم کرنا چاہئے کہ اتنے زیادہ مریض کس قسم کے علاج سے بھلے چنگے ہو گئے۔یہ الزام تراشی کا نہیں، باہمی تعاون کا وقت ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس کی تجویز پیش کی جو اتوار کے روز منعقد ہوئی اور پاکستان نے بھی اس میں شرکت کی۔ شرکاء نے اپنی اپنی تجاویز دیں اور خطے کے ممالک کو کورونا وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات پر زور دیا، لیکن ہمارے خیال میں اس سلسلے میں چین کا کردار قائدانہ حیثیت رکھتا ہے اور یورپی ممالک کو چین کے ساتھ رابطہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل بنانا چاہئے۔سارک ممالک بھی چین کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس کے نتیجے میں یہ ملک کوئی مشترکہ حکمت ِ عملی بنا اور چلا پاتے ہیں یا نہیں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے،کیونکہ یہ تنظیم اب تک خطے کو پُرامن بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکی۔ اسلام آباد میں ہونے والا سربراہ اجلاس ملتوی کیا ہوا اس کے بعد پاکستان اور بھارت میں تعلقات بگڑتے چلے گئے اور کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے مودی کے اقدامات کے بعد تو پاک بھارت تعلقات انتہائی نچلی سطح پر چلے گئے ہیں، دونوں ممالک نے اپنے اپنے سفیر واپس بُلا لئے ہیں اور سفارتی تعلقات بھی برائے نام ہی رہ گئے ہیں۔ایسے میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے جو اقدامات تجویز ہوں گے ان کو کس طرح باہم مربوط کیا جائے گا؟ اصل ضرورت تو اِس بات کی ہے کہ نریندر مودی اپنی اَنا کے بُت کو پہلے پاش پاش کریں، اپنے وطن کے شہریوں کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھنا بند کریں، دہلی کے مسلمانوں کے قتل عام پر شرمندہ ہوں اور متاثرین سے معافی مانگیں، خطے کے ممالک پر بھارتی بالادستی کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں اور کوئی بھی سارک ملک، بڑا ہو یا چھوٹا یکساں قابل ِ احترام سمجھا جائے، تبھی مشترکہ اقدامات کی کوئی حیثیت ہو گی، ورنہ جونہی کورونا وائرس کا خوف ختم ہو گا اور اس وبائی خطرے کا دباؤ کم ہو گا نریندر مودی پہلے کی طرح پاکستان مخالف رویئے کی لائن پر واپس آ جائیں گے۔ کورونا کے خلاف مشترکہ اقدامات اپنی جگہ قابل ِ تعریف ہیں،لیکن خطے کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو سارے ممالک کے باہمی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں، سارک کے بعد تعاون کی جو عالمی اور علاقائی تنظیمیں منظرِعام پر آئیں انہوں نے تیز رفتاری سے اپنے مقاصد حاصل کر لئے اور دُنیا کی نگاہ میں احترام و عزت کا مقام بنایا، لیکن سارک تنظیم آج تک بھارت کے منحوس سائے سے آزاد نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس کے معمول کے طے شدہ اجلاس بھی اپنے وقت پر نہیں ہو پاتے، اسلام آباد کا ملتوی شدہ سربراہ اجلاس اگر پاکستان میں منعقد ہو جاتا تو شاید پاک بھارت تعلقات پر جمی ہوئی برف پگھل جاتی، لیکن ایسا نہ ہو سکا، اب کورونا کے خلاف ہی سہی، اگر مودی کو سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس منعقد کرنے کی ضرورت پیش آ گئی تو انہیں آنے والے دِنوں میں ہمسایوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے پر بھی غور کرنا چاہئے۔ ویسے سارک ممالک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ اتنی شدت سے نہیں ہوا،جس طرح اٹلی، سپین یا دوسرے یورپی ممالک میں ہوا ہے، اور مزید پھیلتا جا رہا ہے وہاں کے حفاظتی اقدامات کو بغیر سوچے سمجھے اپنانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی وزیراعظم عمران خان کے بقول گھبرانے کی ضرورت ہے۔

امریکہ نے چینی سفیر کو طلب کر کے سفارتی سطح پر احتجاج تو کر دیا جو اس کا حق تھا،لیکن اب پوری دُنیا کو مل کر اِس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو گا کہ اس وائرس نے کیسے جنم لیا اور پھر آناً فاناً چین سے نکل کر پوری دُنیا میں کیسے پھیل گیا، اور اب اس کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اِس مقصد کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں تاکہ نہ صرف اِس وبا پر قابو پایا جا سکے،بلکہ اس کے مستقل سد ِباب کے لئے عالمی حکمت ِ عملی بھی وضع کی جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -