ڈاکٹر مبشر حسن کی وفات

ڈاکٹر مبشر حسن کی وفات

  

پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی رکن، بائیں بازو کے دانشور ڈاکٹر مبشر حسن وفات پا گئے، ان کی عمر 98برس تھی، نمازِ جنازہ ان کی رہائش گاہ پر ادا ہوئی اور ان کو مقامی قبرستان میں سپردِخاک کیا گیا، پسماندگان میں بیوہ ڈاکٹر زینت حسن ہیں، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ڈاکٹر مبشر حسن ان دِنوں علیل تھے اور چیسٹ انفیکشن کے باعث اپنی رہائش پر ہی صاحب ِ فراش تھے۔ مرحوم پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی اور ان کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے۔پیپلزپارٹی کی تاسیس ان کی رہائش گاہ گلبرگ میں ہوئی۔ 30اکتوبر1967ء کو یہاں ہونے والے دو روزہ کنونشن میں پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔1970ء میں ہونے والے انتخابات میں وہ ریلوے مزدور لیڈر مرزا ابراہیم کے مقابلے میں مزدور اور محنت کش حلقے سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ذوالفقار علی بھٹو حکومت میں وزیر خزانہ بنے۔ جنوری1922ء میں پانی پت کے پیدائشی مرحوم ڈاکٹر نے ابتدائی تعلیم آبائی شہر سے حاصل کی، پھر لاہور سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی کی۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی تجویز پر بھٹو دور میں بڑی صنعتیں اور تعلیمی ادارے قومی تحویل میں لئے گئے اور روپے کی قدر120فیصد تک کم کی گئی تھی۔ مرحوم جے اے رحیم کی جماعت سے علیحدگی کے بعد وہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنائے گئے اور علیحدگی تک اس عہدے پر رہے، بعد میں اختلافات کی بناء پر بھٹو شہید پیپلزپارٹی میں چلے گئے تھے اور بالآخر جماعتی سیاست سے الگ ہو کر انسانی حقوق کے لئے دانشور اور تھنک ٹینک کے طور پر کام کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق دے۔

مزید :

رائے -اداریہ -