مہنگائی، پانامہ لیکس کے 450 ادارے اور افراد

مہنگائی، پانامہ لیکس کے 450 ادارے اور افراد

  

کسی بھی شعبہ زندگی میں مثبت انداز کی کارکردگی دیکھنے میں آئے تو مشاہدہ کرنے والے حضرات و خواتین اکثر و بیشتر بلا پس و پیش اور بلا تاخیر اس کی تعریف و توصیف کر دیتے ہیں، کیونکہ وہ کسی ادارے، طبقے یا مقصد کے حصول کی خاطر بہتر نتائج کا سبب بھی بن سکتی ہے، جبکہ مخالف اور حریف عموماً اپنی تنگ نظری، تعصب اور حاسدانہ کارروائی سے مغلوب ہو کر مذکورہ بالا نوعیت کے الفاظ و کلمات کے اظہار سے بھی گریز کرتے ہیں۔ یہ انسانی مزاج کی منفی روش ہے، جس بنا پر متعدد افراد محض اپنی محدود سوچ و فکر کے باعث کسی اچھے کام کو سراہنے سے انکار یا گریز کر کے معاشرے کی تعمیر و ترقی کے فروغ میں رکاوٹ ڈالنے کا افسوس ناک کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر موجودہ قومی و سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو ٹی وی چینلوں اور قومی اخبارات و جرائد میں بسا اوقات برسر اقتدار حضرات اپنے حریف راہنماؤں پر تنقید کرتے رہتے ہیں،جو اصل حقائق کی صحیح عکاسی کی بجائے، بے بنیاد الزامات کی اختراع پر مبنی ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے انہیں کسی غیر جانبدار ادارے، پلیٹ فارم یا عدالت میں ثابت کرنا بہت مشکل معاملہ ہوتا ہے۔

کیا ایسی رائے زنی کو مثبت کہا یا قرار دیا جا سکتا ہے؟ جس کے حقائق کو ٹھوس شہادت کے مواد کی طاقت سے درست ثابت نہ کیا جا سکے؟ الزام تراشی میں زیادہ تر بد زبانی،حریفوں کو غلط القابات سے پکار کر بدنام کرنے اور ان کی حتی المقدور تذلیل و تضحیک کرنے کی کوشش پر زور دینے اور اصرار کرنے کا منفی رجحان بدقسمتی سے وطن عزیز میں تا حال جاری ہے۔ کیا مندرجہ بالا انداز تنقید اپنے حریف حضرات و خواتین کو بلا جواز اشتعا ل دلانے، ان کی عزت و شہرت کو عوام و خواص کی نظروں میں کم یا خراب کرنے کے ساتھ ان کو جوابی کارروائی پر مائل و راغب کر کے، سیاسی کشیدگی سے ملکی تعمیر و ترقی کے بہتر اقدامات کی توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں؟ حالانکہ برسر اقتدار وزراء اور نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کے حالات کو مشکلات اور مروجہ تکالیف اور پریشانیوں سے ممکنہ طور پر جلد نجات دلانے کی تجاویز، اصلاحات اور عملی اقدامات بروئے کار لانے والی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ فلاح عامہ کی کسی قابل ذکر کارکردگی کے بغیر، سیاسی حریفوں پر مسلسل کردار کشی اور دھمکیوں کی طعنہ زنی، منفی کارروائی ہے۔

پاکستان میں اشیائے خورونوش کی مہنگائی سے عام لوگوں کی غالب اکثریت گزشتہ کئی ماہ سے بہت اذیت اور کوفت کے حالات سے دو چار ہے۔ اگر کسی گھر کے مکینوں کو اپنی روز مرہ کی ضروریات اپنے عام ذرائع آمدنی سے دستیاب نہ ہو سکیں تو وہ یقینا حکومت وقت کے وزیراعظم اور دیگر وزراء اور متعلقہ حکام کی عدم کارکردگی پر حرف گیری کرنے پر مجبور ہو جائیں گے؟ جبکہ یہ حقیقت آج کل بھی اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان ماشاء اللہ ایک بڑا زرعی ملک ہے،جو گندم، چاول، چینی، دالوں، سبزیوں، گوشت، دودھ اور انڈوں وغیرہ کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہے، بلکہ مذکورہ بالا اشیائے خور و نوش کی فراوانی کی بنا پر بعض بیرونی ممالک کو برآمد بھی کرتا ہے۔ ایسے حالات میں تادم تحریر، عوام کو ملک کے کئی علاقوں اور حصوں میں خوراک کی مذکورہ بالا ضروریات کی کمیابی کی شکایات کیوں پیدا ہو رہی ہیں؟ وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل اس مشکل کے سدباب کے لئے ملک کے یوٹیلٹی سٹورز پر آئندہ پانچ ماہ کے عرصے کے دوران ہر ماہ کے لئے قومی خزانے سے مبلغ دو ارب روپے کی رقم بطور سبسڈی یا خصوصی امداد مختص کرنے کا حکم جاری کیا تھا، لیکن ان یوٹیلٹی سٹورز پر اطلاعاً عوام کی محض چار فیصد تعداد ہی جا کر اشیائے خور و نوش خرید کر سکتی ہے، کیونکہ ان کی تعداد شہروں کے پھیلاؤ اور انسانی آبادی کی کثرت کے لحاظ سے بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر کافی حد تک کم اور ناکافی ہے۔

تازہ اخباری اطلاعات کے مطابق بعض مقامات کے یوٹیلٹی سٹورز پر مختص کیا گیا آٹا، وہاں کے عام لوگوں کو فروخت کرنے کی بجائے بعض دکانوں پر بیچا جا رہا ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر ملازمین، اپنی غلط کاری سے دکانداروں کو زیادہ مقدار میں آٹے کے تھیلے فروخت کر دیتے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے وہ کئی تھیلے 50 یا 100 روپے مہنگے بھی دیتے ہوں جو پھر عام لوگوں کو مزید زیادہ قیمت پر خریدنا پڑتے ہیں۔حکومت ایسی شکایات والے ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کر کے عوام کو آٹا اور دیگر اشیائے ضرورت کی مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کو یقینی بنائے یہ امر افسوس ناک ہے کہ اشیائے خور و نوش کی مہنگائی پر مافیا کے لوگوں، سیاست کاروں اور افسروں کے خلاف کوئی نشاندہی اور سخت قانونی کارروائی تا حال عمل میں نہیں لائی گئی۔وزیراعظم عمران خاں بتائیں کہ کیا ملک میں اس بے تحاشا مہنگائی کے ذمہ دار کوئی غیر ملکی افراد ہیں؟یا ان کے اردگرد بیٹھنے والے متعلقہ وزراء، مشیر اور دیگر دوست احباب و قرابت دار؟ ان کو قانون و انصاف کے حوالے کرنے کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس معاملے پر حکومت کی مسلسل عدم توجہی اور پہلو تہی،دال میں کچھ کالا ظاہر کرتی ہے……

چند روز قبل پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خاں نے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ اس واقعہ پر قومی ذرائع ابلاغ میں مسلسل بحث اور تنقید ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان بار کونسل نے وفاقی وزیر قانون، نسیم فروغ سے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔اس معاملہ میں آف شور کمپنیوں کے بیرون ملک قیام کا ایک بار پھر تذکرہ قومی اخبارات کے اول صفحات کی اہم خبر بنا ہوا ہے۔ عرصہ دو یا تین سال قبل ایک اہم معاملے پانامہ پیپرز میں تقریباً 450 ملکی کمپنیوں یا افراد کی فہرست منظر عام پر آئی تھی، اس کی انکوائری کا مطالبہ راقم کے علاوہ ملک کے بعض دیگر راہنماؤں نے بھی کئی بار کیا تھا، لیکن چیئرمین نیب نے اس معاملے پر خاموشی اور چشم پوشی اختیار کرنے کو ترجیح دی،جس سے ان کی غیر جانبداری اور خود مختاری پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا۔ وہ اس مطالبے پر آج کل بھی توجہ دے کر اگر انکوائری کرائیں تو کئی دیگر بڑے لوگوں کی آف شور کمپنیوں کے قیام کی کارکردگی اور قومی ٹیکسوں کی عدم ادائیگی کے حقائق سے پردہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خاں اور صوبائی وزرائے خوراک، اگر گندم اور آٹے کی اچانک، ملک سے باہر ترسیل اور بین الصوبائی نقل و حمل سے لا علم اور بے بہرہ ہیں تو کون دیگر شخص اور ادارہ ایسی غیر قانونی کارروائی یا غلط کاری کی حرکت پر کڑی نظر رکھ کر عوام کو خوراک کی مطلوبہ ضروریات کی فراہمی کا بر وقت انتظام کرے گا؟ ان کی جانب سے ٹی وی چینلوں اور قومی اخبارات میں محض بلند بانگ دعووں اور اپوزیشن کی سرزنش سے عوام کی مشکلات حل نہیں ہوں گی،بلکہ عملی طور پر ملک کے تمام صوبوں، شہروں، مضافات اور دیہات میں عام لوگوں کو مہنگائی سے قبل کے مروجہ داموں اور نرخوں پر خوراک کی بیشتر اشیاء خالص حالت میں جلد فراہم کی جائیں، کیونکہ ایسا کرنا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -