چنگیز،ہلاکو اور ہٹلر سے نریندر مودی تک

چنگیز،ہلاکو اور ہٹلر سے نریندر مودی تک
چنگیز،ہلاکو اور ہٹلر سے نریندر مودی تک

  

چنگیز خان کے ہاتھوں تباہی کی داستان بڑی طویل اور دلدوز ہے۔ تاریخ کا علم رکھنے والے جانتے ہیں چنگیز خاں نے تباہیوں کے مہیب سایوں میں زندگی گزاری ہے۔ ’خان‘ ہونے کی وجہ سے یہ مسلمانوں کی آپس میں جنگ محسوس ہوتی ہے، لیکن تاریخ کے ماہرین سے معلوم ہوتاہے کہ چنگیز غیر مسلم تھا جس کی سلطنت اتنی وسیع ہوگئی تھی کہ اس کی حدیں علاؤ الدین خوارزم شاہ کی عظیم سلطنت سے جاملی تھیں۔چنگیز خان نے چین کو فتح کرنے کا ارادہ کیا اور چین کو دو بار تاراج کیا۔ 1214ء تا2018ء میں دو چینی ریاستوں ہیا اور کن پر قبضہ کر لیا، چنگیز خان ایک طاقت بن کر ابھرنا چاہتا تھا، اس کے راستے میں جو آیا اس نے روند دیا، چنگیز خان نے دو نئے جنگی اسلوب ایجاد کئے جن میں تیز ترین سفر، جس میں یہ لوگ گھوڑے کی پیٹھ پر نیند پوری کر لیتے، پھر یہ دوڑتے گھوڑے کی پیٹھ پر سے تیر چلا لیتے۔ ان مہارتوں کے سبب آدھی دنیا فتح کر لی۔ اس کی سلطنت چین سے جارجیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ شہر کے شہر جلاڈالتے اور کھوپڑیوں کے مینار بناتے۔

چنگیز خان یہ بڑا خونریز اور سفاک تھا جو ہر وقت خون کا پیاسا رہتا، قتل و غارت اور لوٹ مار اس کا شوق تھے۔ ہلاکو خان اس کا پوتا تھا، جس کی تاریخ بھی سفاکیت سے بھری پڑی ہے۔ بغداد امن و سکون کی وجہ سے دنیا میں جانا جاتا تھا، علم و دانش کا گہوارہ یہ شہر خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔ منگولوں نے بخارا، سمر قند، رائے، ہیرات اور ہمدان کو تخت و تاراج کرنے کے بعد ادھر کا رخ کیا۔ منگولوں نے ظالمانہ اور طائرانہ نگاہوں سے بغداد کا بھی جائزہ لیا،پھر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ بغداد منگولوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن گیا۔ منگولوں نے ہیرات،، رائے، بخارا، سمر قنداور ہمدان کو روندتے ہوئے بغداد کا رُخ کر لیا اور اسے تخت وتاراج کردیا۔ بغداد میں جس بے رحمی سے لوگوں کا قتل عام کیا گیا، لوٹ مار کی گئی، تحریر اسے سمیٹنے سے گریز کرتی ہے شفاخانوں میں بیمار، مدرسوں کے بچے، عورتیں ذبح کر دی گئیں،ان کی عصمتوں کو پامال کیا گیا خواتین بچے قرآن کریم اٹھائے باہر نکلے، ان کے آگے ہاتھ باندھے، منتیں کیں، لیکن ان کی گردنوں پر بھی تلواریں چلا دی گئیں۔ تین روز شہر خون سے رنگین اور دجلہ کا پانی میلوں تک سرخ ہوگیا۔ آج یہ لوگ قبر کے اندھے کنوئیں میں ہیں، ان کی طاقت کا غرور اور دُنیا پر حکومت کا خواب دو گز زمین میں سمٹ چکا ہے۔

ایڈوولف ہٹلر 20 اپریل 1889ء کو آسٹریا کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا، تعلیم کم تھی۔ 1913ء میں ہٹلر جرمنی چلا آیا،جہاں پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی طرف سے ایک عام سپاہی کی حیثیت سے لڑا،قائدانہ صلاحیتوں کافقدان تھا، اِس لئے فوج میں ترقی نہ کر سکا ۔ 1919ء میں ہٹلر جرمنی کی ورکرز پارٹی کا رکن بنا جو 1920ء میں نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (نازی) کہلائی۔ 1921ء میں وہ پارٹی کا چیئرمین منتخب ہوا۔ 1930ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں نازی پارٹی جرمنی کی دوسری بڑی پارٹی بن گئی۔ 1933ء میں ہٹلر چانسلر بنا اور نازی پارٹی کو فروغ دیا۔اس مقصد کے لئے اس نے اپنے مخالفین کو زچ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد کا قاتل ہٹلر قوم اور نسل پرست نظریاتی تھا۔

1939ء میں ہٹلر کی جانب سے پولینڈ پر جارحیت دوسری جنگ عظیم کے آغاز کا باعث بنی۔ اس نے بھی ظلم کے…… نئے طریقے ایجاد کئے اور جنگی جنون لئے دوسری جنگ عظیم کے آخری ایام میں 30 اپریل 1945ء میں ہٹلر نے برلن میں اپنی زیرزمین پناہ گاہ میں اپنی نئی نویلی دلہن ایوان براؤن کے ساتھ خودکشی کرلی۔ ہٹلر کے انجام سے کسی دوسرے ہٹلر نے سبق نہ سیکھا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جب آٹھ سال کابچہ تھا تو انتہاء پسند دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس ”راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ“ میں شمولیت کی اور اس کا فعال ترین رکن رہا۔ اس تنظیم کا قیام 1925ء میں عمل میں آیا، جس کا مقصد بھارت کو خالص انتہاء پسند ریاست بنانا ہے۔اس تنظیم پر تقسیم سے پہلے انگریز نے پابندی لگائی، تقسیم کے بعد بھی کئی بار اسے ممنوع قرار دیا گیا، عالمی سطح پر اسے دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے۔

اندرا گاندھی نے اپنے دور میں اس پر پابندی لگائی بھارتی جنتا پارٹی اس تنظیم کی پیروکار جماعت ہے۔ہندوستان میں فسادات کی آڑ میں یہ مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا چکی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت اور سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بھی یہی تنظیم ملوث رہی۔2002ء میں مودی نے بطور وزیراعلیٰ گجرات میں سینکڑوں مسلمانوں کو آرایس ایس کے غندوں سے سرعام قتل کرایا۔مقبوضہ کشمیر میں اسی تنظیم کے کارکن کشمیریوں کا قتل، بچوں کا اغواء اور خواتین کی عزتیں تارتار کررہے ہیں۔

آج دلی کی گلیاں بغداد کی گلیوں کی طرح مسلمانوں کے خون سے لال ہورہی ہیں، مسلم نوجوانوں کو گھیر کر بھارتی پولیس، فوج اور بلوائی مل کر سرعام قتل کر رہے ہیں، مساجد کا تقدس پامال کررہے ہیں۔ گھروں کو آگ لگائی جارہی ہے، باپ نماز پڑھنے جاتا ہے تو واپس نہیں آتا، بچوں کو اس کی ٹانگ ملتی ہے۔نوجوان گھر سے نکلتے ہی دھر لیا جاتا ہے، کئی مسلح غنڈے اسے ڈنڈوں،پتھروں، تلواروں سے مار مار کے بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں، مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈکر مارا جا رہا ہے، یعنی بھارتی مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ایک بھارتی صحافی رعنا ایوب نے انکشاف کیا ہے کہ نئی دہلی فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا، جو منظم طریقے سے کیا گیا۔

ایک انٹر نیشنل میڈیا کو انٹرویو میں انہوں نے مودی کی گھناؤنی سازش بے نقاب کی کہ نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کا ایک منظم کھیل کھیلا گیا۔ رعنا ایوب نے مودی سرکار کی چالوں سے پردہ اُٹھا دیا،جس میں پولیس،انتہا پسندوں اور بلوائیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ مسلمانوں کا قتل عام کریں۔بھارتی صحافی نے مسلم کش فسادات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارتی دورے سے بھی منسوب کیا۔ ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو دنیا کے خداؤں کے ڈھائے جانے والے مظالم کا سلسلہ تقریبا ایک جیسا ہی دکھائی دیتا ہے،جیسے آج دلی میں امام مسجد کی آنکھوں میں تیزاب ڈالا گیا،ایسا ہی ایک واقعہ چنگیز خان یاہلاکو کے دور میں ہوا، جب ایک شخص کی آنکھوں میں چاندی پگھلا کر ڈالی گئی۔

یہاں خوف اس بات کا ہے کہ مسلمانوں پر بھارتی انتہاء پسندوں کے حملے پھیلتے ہوئے دُنیا کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔ بھارت ایک جوہری قوت رکھنے والا ملک ہے،جس کا حکمران ایک انتہاء پسند تنظیم کا رکن اور اس کا ہم خیال ہے، جس نے بچپن سے آج تک دہشت گردی کو فروغ دیا اور انتہاء پسندانہ اقدامات اٹھائے۔ دنیا کو چاہئے کہ بھارت کو دہشت گرد ملک قرار دے۔ بھارت کے ایٹمی ہتھیار ایک انتہاء پسند وزیر اعظم کے ہاتھوں میں غیر محفوظ ہیں،عالمی طاقتیں انہیں محفوظ بنائیں۔

مزید :

رائے -کالم -