مسلم لیگ(ن) کو جاوید ہاشمی کی ضرورت ہے، مگر……؟

مسلم لیگ(ن) کو جاوید ہاشمی کی ضرورت ہے، مگر……؟
مسلم لیگ(ن) کو جاوید ہاشمی کی ضرورت ہے، مگر……؟

  



ایک طویل خاموشی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) ملتان میں بولتی نظر آئی۔ اگرچہ مخدوم جاوید ہاشمی مسلم لیگ(ن) کی آواز کو زندہ رکھے ہوئے تھے، لیکن ملتان کے مسلم لیگی ان کے اردگرد نظر نہیں آتے تھے۔ وہ تن تنہا پریس کانفرنس کر کے اپنا غبارِ دِل نکالتے اور نوازشریف نیز مریم نواز کے خلاف حکومتی کارروائیوں پر آوازِ احتجاج بلند کرتے۔ ان کا روئے سخن عمران خان کو لانے والوں کی طرف بھی ہوتا اور اس وقت بھی کسی مصلحت یا خوف کا شکار ہوئے بغیر بہت کچھ کہہ جاتے، جو ٹی وی چینلوں پر کم ہی چلتا،البتہ اخبارات میں تھوڑا بہت ضرور شائع ہو جاتا۔ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال رہائی کے بعد تھوڑا متحرک ہوئے ہیں تو انہوں نے کارکنوں کو بھی متحرک کرنے کا آغاز کیا ہے۔ وہ مسلم لیگی کارکن جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب ان کا کوئی والی وارث نہیں،انہیں جب معلوم ہوا کہ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال ملتان آ رہے ہیں اور آئیں گے بھی جاوید ہاشمی کے گھر تو گویا ایک بار پھر جاوید ہاشمی کا گھر سیاسی سرگرمی کا مرکز بن گیا۔

اگرچہ مخدوم جاوید ہاشمی اپنا قدیمی قاسم روڈ والا گھر بیچ چکے ہیں، جو سیاست کے حوالے سے ایک تاریخی مقام تھا، تاہم نئے گھر میں بھی دونوں رہنماؤں کے آنے سے بھرپور رونق لگی۔ کارکنوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا…… پس ثابت ہوا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس آج بھی ملتان میں جاوید ہاشمی سے بڑا کوئی لیڈر نہیں۔ان کی موجودگی جہاں کارکنوں کا لہو گرما رہی تھی، وہیں جاوید ہاشمی بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔مَیں نے جاوید ہاشمی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میرا خیال ہے جاوید ہاشمی خود کو جتنا آسودہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں محسوس کرتے ہیں،اتنا کسی دوسری جماعت میں نہیں کرتے۔ مَیں اس وقت بھی ان کے بہت قریب تھا، جب وہ تحریک انصاف کے مرکزی صدر بن گئے تھے، لیکن ان میں وہ تحرک اور تڑپ موجود نہیں تھی، جو ان کا خاصا رہی ہے۔ وہ عمران خان کی بجائے نواز شریف کو اپنے دل کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کو چھوڑ کر اپنی نشست بھی چھوڑدی اور یکطرفہ اعلان کر کے گھر بیٹھ گئے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ساتھ ہیں۔اگرچہ انہیں ایک عرصے تک نظر انداز کیا گیا،مگر وہ ثابت قدم رہے اور بالآخر نواز شریف نے ایک دن خود اُنہیں اسلام آباد بُلا لیا۔

جاوید ہاشمی کی پارٹی میں مرکزی حیثیت ہے …… اس کا اندازہ اس وقت بھی ہوا جب جاوید ہاشمی کے گھر ہونے والی پریس کانفرنس میں ان کے ایک طرف شاہد خاقان عباسی اور دوسری طرف احسن اقبال بیٹھے۔ پریس کانفرنس کا سماں جاوید ہاشمی نے اپنے آغاز سے باندھا۔ وہ سب باتیں کہہ دیں،جو ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے اس بیانیہ کو دہرایا کہ پاکستان کے بحرانوں کا حل صرف نواز شریف کے پاس ہے۔اگر آج نواز شریف اقتدار میں ہوتے تو ملک موجودہ معاشی تباہی سے دوچار نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو لانے والے بھی اب پچھتا رہے ہیں، کیونکہ ملک کی کوئی سمت ہی متعین نہیں، بے لگام اور بے مہار چلا جا رہا ہے۔نیب کو ایک آلہ  کار کے طور پر مسلم لیگ(ن) کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، تاہم شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی رہائی نے ثابت کر دیا ہے کہ نیب نہ تو مسلم لیگی رہنماؤں کو اپنے ہتھکنڈوں اور حربوں سے جھکا سکا ہے اور نہ ہی مسلم لیگ(ن) میں دراڑ ڈال سکا ہے۔

مخدوم جاوید ہاشمی کے چہرے پر اُس وقت خوشی و آسودگی دیدنی تھی،جب شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی میرے لیڈر اور بڑے بھائی ہیں۔ان کی ثابت قدمی، بہادری اور جرأت سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کی موجودگی میں ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور قید و بند کی صعوتیں مسلم لیگ (ن)کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔انتقامی کارروائی کرتے ہوئے مجھے اور احسن اقبال کو گرفتار کیاگیا، مقصد ہم پر دباؤ ڈال کر مسلم لیگ(ن) کو توڑنا تھا،مگر سب نے دیکھا کہ ہم نواز شریف کی قیادت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد رہیں۔

پریس کانفرنس سے پہلے اور اس کے دوران کارکن نواز شریف زندہ باد، جمہوریت زندہ باد اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔مَیں سوچنے لگا کہ آج ملتان میں مسلم لیگ(ن) کے تن ِ مردہ میں پھر جان پڑ گئی ہے اور اس کا سہرا بھی جاوید ہاشمی کے سر جاتا ہے، بالکل اُسی طرح جب 2000ء میں انہوں نے مسلم لیگ(ن) کو زندہ رکھا تھا اور اُن کی آواز اتنی بلند ہو گئی تھی کہ پرویز مشرف کو اُن پر غداری کا مقدمہ بنوا کر انہیں جیل میں ڈالنا پڑا۔ کیا آج مسلم لیگ(ن) کو پھر جاوید ہاشمی کی اشد ضرورت نہیں؟…… ایک بہادر اور جرأت مند لیڈر ہی مسلم لیگ(ن) کے بیانیہ کو آگے لے جا سکتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اِس وقت مسلم لیگ (ن) میں قیادت کا جو بحران نظر آتا ہے، وہ جاوید ہاشمی کو باقاعدہ عہدہ دے کر آگے لانے سے ختم ہو سکتا ہے۔ لمحہ  موجود میں جاوید ہاشمی سے زیادہ سینئر، زیرک، جمہوریت پسند اور بہادر سیاسی رہنما پورے سیاسی اُفق پر کوئی دوسرا نظر نہیں آتا،مگر مسلم لیگ(ن) کے معاملات سے انہیں دور کیوں رکھا ہوا ہے،اس کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے…… جاوید ہاشمی چودھری نثار علی خان کی طرح عین موقع پر نواز شریف کو چھوڑنے والوں میں سے کبھی نہیں رہے۔انہوں نے چودھری نثار علی خان کی طرح نواز شریف پر کبھی تنقید بھی نہیں کی، حتیٰ کہ اُن دِنوں میں بھی نہیں،جب وہ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔ اُن کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہیں پارٹی میں رہ کر گروپ بندی کرنا نہیں آتی،نہ ہی وہ نواز شریف کے دوسروں کے خلاف کبھی کان بھرتے رہے ہیں۔ وہ خود اپنی کتابوں میں لکھ چکے ہیں کہ کس طرں سازش کے تحت اُنہیں نواز شریف سے دور کیا گیا اور ایک پورے گروپ نے پارٹی کے اندر اُن کا راستہ روکنے کے لئے محاذ بنائے رکھا۔

وہ مسلم لیگ(ن) میں شاید واحد رہنما ہیں، جنہوں نے نواز شریف کی بے اعتنائی کو دِل پر لیا اور فالج کا شکار ہو کر بستر پر جا لیٹے۔ایسی محبت اور کمٹمنٹ والا شخص ہمیشہ کاریگر قسم کے لوگوں کی نگاہ میں کھٹکتا ہے،لیکن شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے دیکھ لیا ہے کہ پورے ملتان میں جاوید ہاشمی سے بڑھ کر سیاسی قد کاٹھ والا ایک رہنما بھی موجود نہیں۔اگر جاوید ہاشمی ملتان میں بیٹھ کر مسلم لیگ(ن) کے بیانیہ کو زندہ رکھ سکتے ہیں، جب مرکز میں انہیں یہ ذمہ داری ملے گی، تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) جو اِس وقت قیادت کی عدم موجودگی کے باعث بحران کا شکار ہے، کس قدر فعال ہو جائے گی……مگر ایسا ہو گا نہیں،جاوید ہاشمی جیسے نظریاتی رہنماؤں کے لئے سیاسی جماعتوں میں گنجائش کم ہی پیدا ہوتی ہے۔

یہاں تو اُن لوگوں کا چراغ جلتا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ داؤ پیچ بھی تبدیل کرتے ہیں، جن میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ لیڈر شپ کو اپنی وفا داری کا یقین دِلا کر شیشے میں اُتار سکیں۔ مسلم لیگ(ن) کو فی الوقت ایک بلند آہنگ سیاسی آواز کی اشد ضرورت ہے،جو نواز شریف کے اُس بیانیہ کو زندہ رکھ سکے،جس کی پاداش میں انہیں سب کچھ دیکھنا پڑا۔یہ بیانیہ مریم نواز شریف جاری رکھ سکتی تھیں، مگر مصلحتیں اُن کے پاؤں کی زنجیر بن گئیں۔ اب اگر یہ ذمہ داری کسی عہدے پر متمکن کر کے مسلم لیگ(ن) جاوید ہاشمی کو سونپ دے، تو جو خلاء اِس وقت نظر آتا ہے،پُر ہو جائے گا،مگر یہ اتنا آسان نہیں، کیونکہ شہباز شریف سمیت دیگر رہنما جاوید ہاشمی کو اپنا بڑا کہنے والے جاوید ہاشمی کو اپنی صف ِ اول میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

مزید : رائے /کالم