…… اور اس کے بعد محفل برخواست کرناپڑی!

…… اور اس کے بعد محفل برخواست کرناپڑی!
…… اور اس کے بعد محفل برخواست کرناپڑی!

  



آج کل دنیا بھر میں کرونا وائرس کا شور برپا ہے۔ دنیا کے جن ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے یا پھیل رہا ہے، ان میں اس وائرس سے ہونے والی اموات اور اس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد کے تشویشناک اعداد وشمار آ رہے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن متحرک تو ہے لیکن بے بس بھی ہے۔ کرونا کو ایک عالمگیر وباء ڈکلیئر کیا جا چکا ہے۔ جدید ترین اور امیر ترین ممالک میں اموات واقع ہو چکی ہیں۔ کیا الیکٹرانک اور کیا غیر الیکٹرانک میڈیا کروناکی ہر طرح کی تفصیلات بتا اور دکھا رہا ہے۔ ماڈرن ایشیائی اور یورپی ممالک کے وزرائے صحت تک اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ افواہوں کا تانتا بندھا ہوا ہے اور مین سٹریم میڈیا میں مین سٹریم موضوع یہی کرونا وائرس ہے۔ ماضی ء بعید و قریب میں مختلف وبائی امراض کے پھیلاؤ اور اس کرونا کے پھیلاؤ کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر احتیاطی تدابیر آ جا رہی ہیں۔ شاہ و گدا یکساں متاثر ہو رہے ہیں۔ ہمارے ایک مغربی ہمسائے میں اس کا بہت زور ہے لیکن الحمدللہ تادمِ تحریر پاکستان میں کرونا کے مجروحین کی ایک قلیل تعداد تو موجود ہے لیکن کسی کی موت کی اطلاع ابھی تک نہیں آئی…… صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہے۔

نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہو چکا ہے۔ سرحدات سیل کر دی گئی ہیں، بین الاقوامی پروازیں محدود کر دی گئی ہیں، صرف اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے پروازیں جا رہی ہیں اور وہیں لینڈ ہو رہی ہیں۔ 23مارچ کی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں، تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں، رائے ونڈ کا سالانہ اجتماع مختصر کر دیا گیا ہے، سیاسی جلسے جلوس معطل کر دیئے گئے ہیں جو سیاسی لوگ مارچ میں ”کوئیک مارچ“ کا ڈھول پیٹ رہے تھے، وہ اچانک منقار زیرِ ریش ہو گئے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر کرونا وائرس سے متعلق عالمی خبروں کی عاجل تفصیلات دی جا رہی ہیں، لوگوں کو پُرہجوم مقامات میں جانے سے روک دیا گیا ہے، عالمی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، سٹاک مارکیٹیں کریش ہو رہی ہیں اور ہر آنے والا لمحہ کرونا کی زد میں ہے…… اسی طرح کے بعض اقدامات اور بھی ذہن میں آ رہے ہیں جن کے نفاذ پر اربابِ اقتدار کو غور کرنا چاہیے…… ذیل کی سطور میں ان کا مختصراً تذکرہ کر رہا ہوں۔ انسان اشرف المخلوقات بھی ہے اور ارزل المخلوقات بھی ہے۔ بعض احباب میری ان معروضات پر چیں بہ جبیں ضرور ہوں گے لیکن اس مختصر سے کالم میں کسی ایک بھی اہم موضوع پر کماحقہ بحث اور ردِ بحث نہیں کی جا سکتی۔ صرف اشارتاً چند نکات کی طرف توجہ دلائی جا سکتی ہے:

اولاً کیا ایسی صورت حال میں کہ پُرہجوم مقامات میں شرکت کرنے کے ہولناک نتائج سے بار بار آگہی دی جا رہی ہے، پانچ وقت کی باجماعت نماز، مسجدوں میں جا کر ادا کرنے کا کوئی جواز ہے؟…… جہاں تک پانچ وقت وضو کرنے میں کرونا کی احتیاطی تدابیر کا کوئی حصہ شامل بتایا جا رہا ہے تو میرے خیال میں یہ ایک دور کی کوڑی ہو گی۔ صبح سے لے کر شام تک اگر 12گھنٹے ہوں تو ان میں کم از کم 24مرتبہ صابن سے ہاتھ صاف کرنے چاہئیں اور ہاتھ دھو کر تولیہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کرنا بھی ہو تو دن میں کم از کم چھ بار دھوئے اور دھوپ میں سکھائے ہوئے تولیوں کو باری باری استعمال کیا جائے وگرنہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔

ثانیاً کیا رائے ونڈ کا اجتماع بالکل ہی ختم نہیں کیا جا سکتا؟ علماء کرام سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلے میں فتویٰ جاری کریں کہ اس اجتماع کا ان ایام میں کوئی مذہبی جواز بنتا ہے یا نہیں۔

ثالثاً کہاجا رہا ہے کہ ویزے (برائے عمرہ) بند کئے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے تو اقامہ ہولڈرز کے لئے بھی صرف تین دن کی مہلت دی تھی اور جب یہ سطور آپ پڑھ رہے ہوں گے تو وہ تین دن گزر چکے ہوں گے۔ اس لئے جو حضرات / خواتین عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں ان کو اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے کہ جب یہ وائرس ساری دنیا سے نابود ہو جائے۔ سائنس دانوں نے اعلان کر دیا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین 18ماہ سے پہلے ایجاد / تیار نہیں کی جا سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان 18ماہ میں عمرہ اور حج کے اجتماعات کے بارے میں کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے اچھا کیا ہے کہ مذہبی اجتماعات بالخصوص رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے اجتماع، ویزے اور حج کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا۔ وگرنہ ساری کمیٹی کے خلاف احتجاجات کا کہرام مچ جاتا کہ دیکھئے حکومت عوام کو عمرہ و حج جیسی سعادت سے روک رہی ہے۔ اب یہ بات آپ کے اپنے اختیار و صوابدید پر منحصر ہے کہ آپ حج و عمرہ پر جائیں یا نہ جائیں۔

ماہِ رمضان سر پر کھڑا ہے اور اس ماہِ مبارک میں عمرہ کرنے کا ثواب بھی کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ ہاں ایک سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہیے کہ اسلام میں جان بچانا سب سے اول فریضہ ہے یا عمرہ و حج کی ادائیگی اولیٰ تر ہے۔ قرآن حکیم میں تو جان بچانے کے لئے حرام اشیائے خورد و نوش کی اجازت بھی ہے۔ علماء حضرات کو فتویٰ دینا چاہیے کہ کرونا وائرس کی یہ وباء اس قرآنی حکم کے تحت آتی ہے یا نہیں۔ کیا حج کرنا یا ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا یا آخری عشرۂ رمضان میں مسجد نبوی میں معتکف ہونا اولیٰ ہے یا جان بچانا اور ان عبادات کی عدم ادائیگی اولیٰ ہے؟…… زندگی ہے تو حج بھی ہے اور عمرہ بھی ہے اور زندگی نہیں تو پھر کون سا حج اور کون سا عمرہ؟…… اگر پی ایس ایل کے میچ ختم کر دیئے گئے ہیں اور سٹیڈیم خالی ہو گئے ہیں اور غیر ملکی کھلاڑی واپس جا رہے ہیں تو میچ کروانے کا فائدہ؟…… آج نہیں تو کل، یہ میچ ختم کرنے پڑیں گے۔بہتر ہے پاکستان کرکٹ بورڈ ان کو خود ختم کرنے کا فیصلہ کرے…… خالی سٹیڈیم اور میچ؟…… اور ٹی وی پر خاموش ماحول میں چیختی چنگھاڑتی روائتی کمنٹری اور چوکے چھکے لگا کر عوامی داد کی بجائے ایک گہرا سکوت؟…… کیا یہ کرکٹ ہوگی یا کوڑا کرکٹ؟

رابعاً گھر سے باہر نکلنا، دفتروں، بینکوں، ڈاک خانوں، ریلوے سٹیشنوں، شادی ہالوں، ہوائی اڈوں پر جانا، بزرگانِ دین کے مزاروں پر حاضریاں، قابلِ دید اور صحت افزاء مقامات کی سیاحتیں، ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کے لئے جانے کی مجبوریاں …… آخر کن کن چیزوں سے اجتناب کیا جائے گا؟ اشیائے صرف لانے کے لئے بازاروں کا رخ تو ناگزیر ہو گا لیکن اس کے علاوہ اس کا متبادل کیا ہو گا؟ کیا جب آپ یہ خریداریاں کرکے گھر لوٹیں گے تو ہاتھوں اور لباس پرکرونا کے جراثیم کی تعداد اور شدت کس کیف و کم کی ہو گی؟ یہ ساری باتیں سوچ سوچ کر انسان پاگل ہونے لگتا ہے۔ چین کے صوبے ہوبی کے صدر مقام ووہان میں گوشت اور مچھلی بازار وغیرہ تو پہلے بھی تھے، چمگادڑیں، چوہے، سانپ، بلیاں، کتے وغیرہ پہلے بھی کھائے جاتے تھے۔ چین، جاپان، تھائی لینڈ، ویت نام، فلپائن وغیرہ میں تو یہ سپیشل ڈشیں ہزارہا برس سے کھائی جا رہی تھیں …… لیکن کیا اب بھی وہاں ایسا ہے؟…… کیا اب بھی یہ مارکیٹیں آباد ہیں؟…… کیا اب بھی ان میں کوئی کرونا وائرس موجود ہے؟……

خامساً اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر انسان نے 18ماہ بعد کرونا کا کوئی ٹیکہ دریافت کر ہی لیا اور اس دوران لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اتر بھی گئے تو آنے والے برسوں میں کرونا کی طرح کا یا اس سے بھی زیادہ خوفناک کوئی اور وائرس منظر عام پر نہیں آئے گا؟ اور اس کی ویکسین تیار کرنے میں 18ماہ لگیں گے یا 118ماہ درکار ہوں گے؟…… فاعتبرو یا اولیٰ الابصار!

سادساً، پولیس اور فوج میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے احتیاطی تدابیر کا کیف و کم کیا ہے؟ افواجِ پاکستان کے تینوں ہیڈ کوارٹروں سے تفصیلی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ اس وائرس کی روک تھام کے لئے تحریری، تقریری اور عملی اقدامات کی بجا آوری کی روزانہ ڈرل کیا ہوگی؟ پولیس کے ہیڈکوارٹروں میں بھی یہی کچھ کیا جا رہا ہے۔ لیکن خدا نہ کرے اگر کرونا عسکری،نیم عسکری یا دوسرے سیکیورٹی اداروں میں پھیل گیا تو قرنطینہ کے انتظامات کیا ہوں گے اور لاتعداد آئسولیشن وارڈوں کا پیشگی انتظام و انصرام کیا ہو گا؟

کل ایک محفل میں ایک دوست نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ جب بلاوا آئے گا تو کیا کرونا یا کیا کوئی اور وائرس، ہم چپ چاپ اپنے آپ کو تقدیر کے حوالے کر دیں گے…… موت کا پَل ٹل نہیں سکتا اس لئے اس سے خوف کھانا اور زیادہ ڈر کر زندگی گزارنا چہ معنی دار؟…… لیکن اسی محفل میں بیٹھے ایک اور دوست نے اس کی شدت سے نفی کی اور کہا کہ جب آپ کو معلوم ہی نہیں کہ کب مرنا ہے تو پھر جب تک زندہ ہیں تب تک زندہ رہنے کا انتظام عینِ فطرت اور عین اسلام ہوگا! انہوں نے قربِ قیامت کی نشانیوں کا بھی ذکر کیا اور کرونا کو ان نشانیوں میں سے ایک بتا کر ایک اور بحث کا دروازہ کھول دیا……

آخر میں نے مداخلت کی اور عرض کیا کہ آیئے فی الحال یہ بحث کریں کہ جیو اینڈ جنگ گروپ کے مالک کو 12روز تک جو ”اندر“ کر دیا گیا ہے ان پر اگر خدانخواستہ کسی بھی توسط سے کرونا وائرس کا اٹیک ہو گیا تو کیا ہوگا؟……

……اور اس کے بعد محفل برخواست کرنا پڑی!……

مزید : رائے /کالم