مقبوضہ کشمیر میں کرونا پھیل گیا، بھارت لاک ڈاؤن ختم، طبی سہولتیں فراہم کرے: پاکستان، مقبوضہ وادی میں مزید 4نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر میں کرونا پھیل گیا، بھارت لاک ڈاؤن ختم، طبی سہولتیں فراہم کرے: ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ڈاکٹر ظفر مرزا نے سارک کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کشمیریوں کیلئے آواز بلند کرتے ہوئے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ اور بغیر روک ٹوک امداد کی فراہمی پر بھی زور دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی درخواست پر کرونا وائرس سے متعلق سارک کانفرنس میں وزیر مملکت کی سطح پر شرکت کی۔کرونا وائرس پر منعقدہ سارک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور سارک کے دیگر سربراہان مملکت کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے اطلاعات کی ترسیل ناگزیر ہے۔ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاؤن ختم کرے اور اطلاعات کی ترسیل پر پابندیاں اٹھائے۔خیال رہے کہ سات ماہ سے زائد عرصے سے لاک ڈاؤن کا شکار مقبوضہ کشمیر میں کرونا کے پانچ کیسز سامنے آ گئے ہیں۔ مقبوضہ وادی کے لاکھوں مظلوم مکین پانچ اگست 2019ء سے بھارتی افواج کے نرغے میں ہیں۔کشمیریوں کو صحت کی سہولیات میسر ہیں نہ ہی مقبوضہ وادی میں موذی وائرس سے نمٹنے کیلئے مودی حکومت نے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں۔مسلسل لاک ڈاؤن کے باعث کرونا وائرس سے ہلاکتوں کاخدشہ بڑھ گیا ہے۔ دنیا بالخصوص ورلڈ ہیلتھ ا?رگنائزیشن کو ہنگامی طور پر صورتحال کا نوٹس لینا ہوگا۔یاد رہے کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی کے باعث ماضی میں سارک فورم کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ ہمسایہ ملک نے پاکستان میں سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت سے بھی انکار کیا تھا اب جبکہ نریندر مودی کا تکبر ٹوٹا ہے تو امید ہے کہ عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے خطے کے ممالک سے تعاون کا خواہشمند بھارت مقبوضہ وادی میں بھی طویل لاک ڈاؤن ختم کرے گا تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل پر بھی پیشرفت ہو سکیدریں اثنا بھارتی درخواست پر پاکستان نے وزیر مملکت کی سطح پر شرکت کی رضا مندی کا عندیہ دیا ہے۔ بھارت کا سارک کے پلیٹ فارم کو ماننا پاکستان کے موقف کی فتح ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کچھ عرصے سے مسلسل کہتا چلا آرہا ہے کہ سارک ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور اس پلیٹ فارم کو مشترکہ مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہیے لیکن بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا اور اسلام آباد میں سارک سمٹ اجلاس کے راستے میں رکاوٹ بنا رہا، تاہم آج بھارت نے جو پیشکش کی ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سارک ممالک کو ملکر حکمت عملی بنانی چاہیے اور پاکستان بھی اس اجلاس میں شامل ہو تو ہم انسانیت اور انسانی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے سارک اجلاس میں ضرور حصہ لیں گے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کا اس حوالے سے ماضی کا رویہ بھی سب کے سامنے ہے مگر پاکستان وہ سب ایک سائیڈ پر رکھ کر حصہ لے گا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں اور ہم اپنی ذمہ داری نبھائیں گے، وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم نے اجلاس میں یہاں تک تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان سارک ممالک کے جیتنے بھی وزراء صحت ہیں ان کی میزبانی کرنے کیلئے بھی تیار ہے اور فی الفور یہ اجلاس بلائے تاکہ سارک ممالک ایک دوسرے کی مثبت اور فائدہ مند تجاویز سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے خطے کے اہم ملک چین سے رہنمائی لینی چاہیے کیونکہ چین سب سے زیادہ اس وباء سے متاثر ہوا اور اس وائرس پر قابو پانے کے لئے سب سے زیادہ مؤثر اقدامات بھی کیے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، میں اور ڈاکٹر ظفر مرزا(آج) چین روانہ ہورہے ہیں تاکہ ان سے بھی تجاویز حاصل کریں اور چین سے اس وباء پر یکجہتی کا اظہاربھی کریں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ڈبلیو ایچ او کی ہدایات اور حکمت عملی پربھی غور کرنا چاہیے، ہم اپنے خطے کو جتنا محفوظ رکھ سکتے ہیں رکھیں گے۔

سارک کانفرنس

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع آننت ناگ میں قابض بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران 4 کشمیری نوجوانوں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا، شہید ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت طارق احمد کے نام سے ہوئی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن شروع کیا، اس دوران گھر گھر چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی جب کہ گھر گھر تلاشی کی آڑ میں کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بڈگام ضلع میں اتوار کوصبح سے ہی انٹرنیٹ سروسزمعطل کر دی گئیں، جس سے لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔۔ گذشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا گیا تھا۔ اسی سال جموں وکشمیر میں مواصلاتی پابندیاں ہٹائی گئی ہیں۔ ایک جانب کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ فکرمند ہیں تو وہیں اچانک انٹرنیٹ کی معطلی نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہیمقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع کپواڑہ سے دونوجوانوں کوگرفتار کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق نذیر احمد وانی اور بشیر احمد وانی نامی نوجوانوں کو ضلع کے علاقے ہندوارہ میں ایک فوجی چوکی سے گزرتے وقت گرفتارکیاگیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جموں کی ایک ٹاڈا عدالت نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور دیگر آزادی پسند کشمیری رہنماؤں کے خلاف لگ بھگ 30 سال قبل درج جعلی مقدمے میں فرد جرم عائد رکردی ہے۔۔جج نے دہلی کی تہاڑ جیل میں نظربند محمد یاسین ملک اور دیگر کشمیری رہنماؤں کو مقدمے کی آزادانہ طورپر پیروی کا موقع فراہم کیے بغیر کہاکہ بظاہر سی بی آئی نے ملزمان کے خلاف عائد الزامات کے حق میں دستاویزی اور زبانی شواہد پیش کئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے اضلاع بڈگام اور شوپیاں میں اتوار کی شام دیر گئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایک آرڈر جاری کیا جس میں 31 مارچ تک پورے ضلع میں دفعہ 144نافذ کی گئی ہے۔یہ قدم اس لئے عمل میں لایا گیا تاکہ کروناوائرس سے لوگوں کو بچایا جائے۔اس کے علاوہ ضلع میں لوگوں کو کسی بھی قسم کے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ اول -