پاک، بھارت تجارت کی بندش سے خطے کی معیشت پر منفی اثر پڑا

پاک، بھارت تجارت کی بندش سے خطے کی معیشت پر منفی اثر پڑا

  

اسلام آباد (این این آئی) ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت نہ ہونے کے سبب جنوبی ایشیا کی علاقائی تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے انسٹیٹیوٹ کے ورکنگ پیپر کے مطابق جنوبی ایشیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں یورپی یونین اور ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز کے تجربات سے سیکھ کر کثیرجہتی انسٹیٹیوٹ کو فروغ دیتے ہوئے علاقائی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔مربوط وسیع معیشت اور تجارت پر توجہ دینے کے لیے خطے کو علاقائی تعاون کے لیے ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشین کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے سیکریٹریٹ کو مضبوط اور معلومات افزا تجارتی، معاشی اور غیرروایتی سیکیورٹی خدشات سے پاک باڈی ہونا چاہیے۔اس سلسلے میں مشورہ دیا گیا کہ جنوبی ایشیا کو 2022 تک تمام اراکین کے لیے سارک کی سطح پر مفت تجارتی معاہدے پر عملدرآمد کرنا چاہیے اور نئے انفرااسٹرکچر کی تشکیل اور تمام سرحدی تنازعات کے حل کیلئے آپس میں تعاون کرنا چاہیے۔ چند کامیابیوں کے باوجود سارک کا ادارہ جاتی انتظام کے تحت جنوبی ایشیائی ملکوں کا معاشی انضمام زیادہ مضبوط نہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایشیا دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے خطے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں اوسطاً جی ڈی پی میں 7فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جس سے غربت اور بیروزگاری میں کمی کا امکان ہے۔ سارک معاشی ترقی کے اصل محرکات سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ملکوں کے اپنے پڑوسیوں سے زیادہ خطے کے باہر کے ممالک سے زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے سوا دیگر جنوبی ایشیائی ملکوں کی معیشت پیداواری نیٹ ورک میں حصہ لینے میں ناکام رہیں،جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کا پیداواری نیٹ ورک اور ویلیو چین پیداواری سرگرمیاں مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک یکساں ایشیائی مارکیٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرحدی رکاوٹیں ہٹا کر اشیا کی مفت نقل و حمل، سروسز، مزدوری، معلومات اور سرمائے کے لیے سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ترقیاتی بینک

مزید :

صفحہ اول -