چین میں کرونا زیادہ دیر ٹھہرا تو علاقائی معیشتوں کا جنازہ نکل جائیگا: افتخار علی

چین میں کرونا زیادہ دیر ٹھہرا تو علاقائی معیشتوں کا جنازہ نکل جائیگا: افتخار ...

  



لاہور(این این آئی)سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نامزد صدر افتخار علی ملک نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے متحد ہو کر کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس عالمی معیشت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جنوبی ایشیائی خطے کے عوام کو اس وبا سے بچانے اور ان کی حفاظت کے لئے مشترکہ حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔ ایک بیان میں افتخار علی ملک نے کہا کہ اس بیماری کا مرکز چین ہے جس کا عالمی جی ڈی پی میں حصہ 17فیصد، عالمی تجارت میں 11فیصد، عالمی سیاحت میں 9 فیصد اور متعدد اشیا ء کی عالمی طلب میں اس کا حصہ 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس سے قطع نظر کہ کرونا وائرس اب کہاں پھیلے گا، اس کے منفی اثرات نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے جبکہ تجارتی جنگوں اور سیاسی تناؤ کی وجہ سے عالمی معیشت کو پہلے ہی سخت دھچکا لگا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک ایک نئے عزم کے ساتھ آگے آئیں اور اپنے تمام اختلافات کو پس پشت ڈال کر دنیا کے لئے مثال قائم کریں اور صحت مند کرہ ارض کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔ جنوبی ایشیا ء کے تمام ممالک افغانستان، بھوٹان، مالدیپ، بنگلہ دیش، نیپال، بھارت، سری لنکا اور پاکستان میں کرونا وائرس کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اگر چین کی معیشت زیادہ سست روی کا شکار ہوئی یا کرونا کی وبا ء طویل عرصے تک جاری رہی تو علاقائی معیشتوں کو اندازے سے کہیں زیادہ نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ جنوبی ایشیائی حکومتیں اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہیں لیکن انہیں بہت سی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ ملک کے تمام صوبوں میں معیاری قرنطینہ یونٹوں کے قیام، حفاظتی سامان کی وافر مقدار میں فراہمی اور مکمل طور پر لیس بائیو سیفٹی لیول لیبارٹریوں جیسے خصوصی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

افتخار علی

مزید : علاقائی