آئندہ امریکی صدارتی انتخابات، ٹرمپ بامقابلہ جونائیڈن متوقع

  آئندہ امریکی صدارتی انتخابات، ٹرمپ بامقابلہ جونائیڈن متوقع

  

واشنگٹن(اظہرزمان، خصوصی رپورٹ)اس بات کا واضح امکان ہے کہ 3 نومبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کا جوبیڈن کیساتھ امریکی صدارت کیلئے مقا بلہ ہو گا اور وہ ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہو جائیں گے،اگر چہ ڈیمو کریٹک پارٹی کا صدارتی ٹکٹ دینے کا حتمی فیصلہ 13 جولائی میں ہونیوالے قومی کنونشن میں ہو گا لیکن اب تک کی صورتحال بتا رہی ہے کہ انقلابی سوچ کے حامل اور کم آمدنی اور متوسط طبقے کے مفادات کے پروگرام کیساتھ تیزی سے مقبول ہونیوالے بزرگ سینیٹر برنی سنیڈرز اب سابق نائب صدر جوبیڈن کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ پارٹی کے قومی کنونشن میں تمام ریاستوں سے منتخب ہو کرآنیوالے 3979 مندوب سادہ اکثریت سے ٹکٹ ہولڈر کا انتخاب کریں یعنی کامیاب ہونیوالے امیدوار کو کم از کم 1991 ووٹ درکار ہوں گے اس وقت ملک مختلف ریاستوں میں ہونیوالے پرائمری انتخابات میں 1794 مندوب منتخب ہوئے ہیں جن میں سے جوبیڈن 890 مندوب حاصل کرکے سر فہرست ہیں اور برنی سنیڈرز کے حامی مندوب کی تعداد 736 ہے۔دوسرے امیدوار مقابلے سے دستبردار ہو چکے ہیں جن تقریباً تمام نے جوبیڈن کی توثیق کی ہے جس کا مطلب یہ ہے ان کے مندوب بھی جوبیڈن کو ووٹ دیں گے۔سینیٹر برنی سنیڈرز نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی اسٹیبلشمنٹ جوبیڈن کی پروموٹ کر رہی ہے اور د ستبر د ا ر ہونے امیدواروں کو جوبیڈن کی توثیق پر آمادہ کرنے میں بھی اس کا کردار ہے، ریپبلکن پارٹی کے امید وار صدر ٹرمپ کو شاید اندازہ تھا کہ ڈیمو کرٹیک پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ جوبیڈن کو ہی آگے لائے گی،اسی لئے انہوں نے مبینہ طور پر یو کرائن کے صدر کو اس امر پر آمادہ کرنے کی کوشش کی وہ جوبیڈن اور ان کے بیٹے ہٹر بیڈن کو کارو باری کرپشن میں ملوث کریں۔ صدر ٹرمپ چاہتے تھے جوبیڈن کا ریکارڈ خراب کر کے ان کو صدارتی انتخاب میں شکست دے سکیں گے،اور اب یہی ہونے جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ہی مہم چلائیں گے اور کامیابی حاصل کرلیں گے۔

مزید :

علاقائی -