عوام کرونا سے بچاؤ کیلئے دودھ،انڈ ا، کیلا، کینوں زیادہ استعمال کریں: گورنر پنجاب

عوام کرونا سے بچاؤ کیلئے دودھ،انڈ ا، کیلا، کینوں زیادہ استعمال کریں: گورنر ...

  



لاہور،چیچہ وطنی (نامہ نگار،نمائندہ خصوصی) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ ملک دشمنوں کیخلاف جنگ جیسے جذبہ سے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تیاری کر ناہوگی،کرونا ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے جو پوری دنیا کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے،یورپ میں بھی مکمل لاک ڈاؤن ہو چکا ہے،الحمد اللہ پاکستان میں کروناکے مریضوں کی تعداد انتہائی کم ہے لیکن اسکے باوجود وزیر اعظم تمام اقدامات کی نہ صرف خود نگرانی کر رہے ہیں بلکہ روزانہ کہ بنیاد پر وزارت صحت اور دیگر محکموں کو ضروری ہدایات اور فنڈز کی فراہمی بھی یقینی بنا رہے ہیں، کرونا کو شکست صرف حفاظتی اقدامات کے ذریعے ہی دی جا سکتی ہے جس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا پڑے گی۔میڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ کرونا وائرس صرف حکومت یا کسی ادارے کیلئے نہیں بلکہ 22کروڑ عوام کیلئے خطرہ بن چکا ہے مگر اس پر افرا تفری پھیلانے کی نہیں صرف احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہم ہر فرد کو کہہ رہے ہیں کہ وہ بلا وجہ مارکیٹوں سمیت کسی بھی پبلک مقام پر جانے سے گریز کرے اور زیادہ سے زیادہ ہاتھوں کی صفائی یقینی بنائے اور لوگوں سے گلے نا ملے کیونکہ ڈاکٹرز بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ بیماری سب سے زیادہ ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے ہی ہو رہی ہے۔ لوگ جتنا ائسولیٹ رہیں گے اتنا ہی اچھا ہو گا۔ سیناٹائزر کا ہروقت استعمال کریں۔ غذا پر توجہ دیں تاکہ کرونا وائرس سے نبٹنے کی طاقت جسم میں قوت مدافعت پیداہو۔ کھانے میں دودھ، انڈا،کیلا،کینوں وغیرہ کھائیں تاکہ وٹامنز سے جسم میں بھرپور قوت مدافعت پیدا ہو۔گورنر پنجاب نے کہا کہ سرور فانڈیشن کے زیر اہتمام چیچہ وطنی اور رجانہ میں قائم دونوں ہسپتالوں میں کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے خصوصی وارڈز بنا دیئے ہیں وہاں پر ڈاکٹرز سمیت تمام عملہ اور ادویات بھی موجود ہیں۔ بعدازاں گورنر پنجاب نے چیچہ وطنی میں سرور فاونڈیشن ہسپتال کے زیر انتظام ہسپتال کا دورہ کیا اور ہسپتال میں علاج کے لئے آنے والے مریضوں کی خیریت کے بارے میں دریافت کیااورمریضوں کو انکے بہتر علاج معالجہ اور طبی سہولیات کی فراہمی پر اظہار اطمینان کیا۔اس دوران انہوں نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا۔

گورنر پنجاب

مزید : صفحہ آخر