مساجد اور مدارس امن و آشتی کے مراکز ہیں‘ مولانا راحت

  مساجد اور مدارس امن و آشتی کے مراکز ہیں‘ مولانا راحت

  

صوابی(بیورورپورٹ) جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سابق سینیٹر مولانا راحت حسین نے کہا ہے کہ مساجد اور مدارس مملکت اسلامیہ پاکستان، دینی اقدار، امت مسلمہ کے روایات و نظریات او جذبہ ایمان کے تحفظ کی بہترین مراکز ہے۔ ان مراکز کے خلاف سازش کرنے والے اپنے مذموم عزائم میں مکمل طور پر ناکام ہونگے ان خیالات کااظہار انہوں نے مدرسہ محمدیہ للبنیان و للبنات کی سالانہ دستار بندی تقریب سے خطاب کے دوران کیا جس سے دارلعلوم مظہر العلوم ڈاگئی کے مہتمم شیخ القر آن مولانا اسد اللہ جان مظہری، مولانا محمد ہارون حنفی، مولانا محب اللہ عزیزی اور دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر 35طلباء و طالبات نے ختم مشکوہ اور ترجمہ و ناظرہ ختم قر آن کی سعادت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس ملک کے اندر دینی اقدار کے تحفظ کے علاوہ سیاسی استحکام میں بھی بھر پور کر دار ادا کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ ان مدارس کی مر ہون منت ہے ہمارا ایمانی تقاضا ہے کہ مساجد ومدارس کو مضبوط سے مضبوط کر سکے انہوں نے کہا کہ حکومت کو کورونہ وائرس سے بچاؤ کے لئے عملی اقدامات اُٹھانے کے علاوہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے بے حیائی کے وائرس پر بھی قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے دنیا بھر میں کورونہ وائرس اللہ پاک کی طرف سے ایک امتحان ہے اس لئے مسلمانوں کو اللہ پاک سے رجوع کرنا چاہئے کیونکہ قر آن و سنت پر عمل کرنے سے مسلمان ہر قسم کے مشکلات اور مسائل سے نجات پا سکتے ہیں اس قسم کے وائرس اور دیگر خطر ناک بیماریوں سے نجات پانا صرف قر آن و سنت پر عمل کرنے سے ہو گا کیونکہ شفاء بھی ہے انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پابندی کے ساتھ مساجد اور مدارس بھیجا کریں تاکہ یہ بچے اپنے دین قر آن و سنت اور عبادات سے پوری طرح با خبر ہو کر اس پر عملدر آمد کر سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -