خیبر‘ پاک افغان بارڈربندش سے ٹیکسی ڈرائیورں کی من مانیاں

  خیبر‘ پاک افغان بارڈربندش سے ٹیکسی ڈرائیورں کی من مانیاں

  

خیبر (بیورورپورٹ)پاک افغان بارڈربندش سے ٹیکسی ڈرائیورں کی من مانیاں، ٹرپل کرایہ وصول کرنے لگے، پشاور کے بعض اڈے مالکان نے بھی ٹیکسی ڈرائیوروں سے زیا دہ اڈا وصول کرنے لگا ُکوئی پو چھنے والا نہیں،پہلے پشاور سے طورخم تک ٹوڈی کرولہ موٹرپندرہ سو سے سولہ سو روپے وصول کرتے تھے لیکن آج چار ہزار مانگے جا رہے ہیں،مسافروں کی فریاد۔جب اڈا ہ شارٹ ہو تا ہے تو پھر کرائے بڑ ھ جا تے ہیں،ڈرائیوارزکرونا وائرس سے بچاو کی خاطر پاک افغان بارڈر کل سے چودہ دن کیلئے بند کیا جائے گا جس کی وجہ طورخم بارڈر پر دونوں طرف ہزاروں لوگ جمع ہو گئے ہزاروں لوگوں سے طورخم او رپشاور ٹیکسی اڈوں میں گاڑیاں کم پڑ گئی جس کی وجہ ڈرائیواروں نے من مانیاں شروع کر کے اپنی مرضی کے مطابق کرائے مقر ر کئے جبکہ خیبر پختونخوا ہ کے دوسرے علاقوں سے بھی گاڑیاں طورخم پہنچ گئے اور مسافروں سے اپنی مرضی کے مطابق کرائے وصول کئے زیا دہ تر مسافروں میں مریض بھی شامل ہو تے ہیں جو علاج کیلئے پاکستان ائے تھے اور ہسپتالوں میں زیر علاج تھے لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے ڈس چارج کرکے افغانستان واپس کر دئے گئے لیکن ٹیکسی ڈرائیوروں نے مریضو ں کو بھی معاف نہیں کیا اور پشاور سے طورخم تک چار ہزار روپے وصول کئے اس حوالے اڈوں میں موجودافغان مسافروں سید رخمان،مشتاق،کلیم اللہ،گل بادشاہ اور دیگر نے بتا یا کہ پہلے وہ جب پشاور طورخم آتے جا تے تھے تویہی گاڑیاں کی ڈرائیوار پندرہ سو یا سولہ سو روپے کرایہ ان سے لئے جا تے تھے لیکن آج وہ چار ہزار روپے مانگتے ہیں جوسراسر ظلم اور نا انصافی ہیں جبکہ ڈرائیوروں نے بتا یا کہ اڈا ہ جب شارٹ ہو تا ہیں تو پھر کرایہ زیادہ ہو تاہیں کیونکہ دوٹریپ کرنے کے بعد وہ گھر جانا چاہتے ہیں لیکن اڈے میں مسافروں کو دیکھ تیسرا اور چوتھا ٹریپ بھی کرنا پڑتا ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت زیا دہ تھکاوٹ بھی محسوس کر تے ہیں اس لئے وہ کرایہ زیا دہ وصول کرتے ہیں بلکہ مسافر خود انہیں زیا دہ کرایہ دینے کیلئے بھی تیا رہو تے ہیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -