کرونا سے یورپ میں لاک ڈاؤن، پاکستانی صنعت متاثر، آرڈر رک گئے

کرونا سے یورپ میں لاک ڈاؤن، پاکستانی صنعت متاثر، آرڈر رک گئے

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی خریداروں نے پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدکنندگان سے رابطہ کر کے درخواست کی ہے کہ وہ کرونا وائرس کی وبا کے سبب پیدا ہونے والی غیریقینی صورتحال کے سبب شپ منٹس ملتوی کردیں۔عالمی ادارہ صحت جمعہ کو کرونا وائرس کی وبا کا مرکز یورپ کو قرار دے چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور 20فیصد پاکستانی برآمدات کو ڈیوٹی فری رسائی ہے جبکہ 70فیصد کو ترجیحی درجہ حاصل ہے۔کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب حالات پیچیدہ نظر آتے ہیں، رپورٹس کے مطابق زارا نے اسپین میں اسٹورز بند کر دیے ہیں اور امکان ہے کہ دیگر مشہور برانڈز کی بھی ان کے نقش قدم پر چلیں گے۔پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیف کوآرڈی نیٹر اور پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمد جاوید باجوہ نے کہا کہ یورپ میں کرونا وائرس کے کیسز آنے کے بعد دو اہم پیشرفت ہوئی ہیں، ٹیکسٹائل کے یورپی یونین کے درآمد کنندگان نے پاکستانی سپلائرز سے کہا ہے کہ وہ اپنی پیداوار کم کردیں جبکہ دیگر نے کہا ہے کہ انہیں ایک سے ڈیڑھ ماہ بعد اپنا مال چاہیے۔کونسل آف ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ یورپین خریدار شپ منٹس میں ایک سے تین ہفتے التوا پر اصرار کر رہے ہیں لیکن خوش قسمتی سے ابھی تک یورپ سے پرانے آرڈرز منسوخ نہیں کیے گئے۔یورپ میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے سبب صورتحال خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے لیکن غیریقینی صورتحال کے باوجود ہم نے پیداوار جاری رکھی ہوئی ہے۔سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیمان چاولہ نے کہا کہ یورپ اور امریکا کے درآمد کنندہ نے پاکستانی برآمدکنندگان سے کہا ہے کہ وہ اپنی ٹیکسٹائل کی مصنوعات بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں اور شپ منٹس کو ایک ہفتہ ملتوی کردیں۔ یورپی ممالک میں برآمدات 15 سے 21 دن میں پہنچتی ہیں، صورتحال ایک سے دو ہفتے میں واضح ہو گی۔پاکستان لیدر گارمینٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین فواد اعجاز خان نے کہا کہ یورپ میں کرونا وائرس سے برآمد کنندگان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ان میں سے کچھ کے تازہ آرڈرز میں 50فیصد تک کمی آئی ہے، کچھ یورپی خریداروں نے مقامی برآمدکنندگان سے یہاں تک کہا ہے کہ وہ صرف درخواست کیے جانے پر شپ منٹس بھیجیں، یورپ میں متعدد مشہور اسٹورز بند کر دئیے گئے ہیں۔

صنعت متاثر

مزید :

صفحہ اول -