علاقائی زبانوں کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے: عارف احمد زئی

علاقائی زبانوں کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے: عارف احمد زئی

  



پشاور (سٹاف رپورٹر) علاقائی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے یو این ڈی پی کے تعاون سے ایک اعلی سطح کا اجلاس اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوا۔جس میں خیبرپختونخوا کے صوبائی اسمبلی کے ممبران محمود جان ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی، ایم پی اے شوکت وحید، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اعلی تعلیم جناب خلیق الرحمان، وزیراعلی کے معاون خصوصی جناب محمد عارف، وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے جیلخانہ تاج محمد، ایم پی اے شوکت علی، اور خواتین صوبائی اسمبلی کے ممبران ساجدہ حنیف، رابعہ بصری، ڈاکٹر آسیہ، شگفتہ ملک، ر ابیعہ اسماعیل، ریحانہ اسماعیل اور ڈاکٹر سمیرا شمس نے شرکت کی۔اس کے علاوہ محکمہ ثقافت،محکمہ قانون،ادارہ برائے تعلیم و ترقی، یو این ڈی پی اور دیگر سماجی تنظیموں کے افسران و اراکین نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں میں ریجنل لینگویجز ایکٹ 2012 کے نافذالعمل نہ ہونے پر بہت سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اس کو جلد از جلد نافذالعمل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ علاقائی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے بھی فیصلہ کیا گیااور محکمہ تعلیم اور محکمہ ثقافت دونوں کے اشتراک سے ایک لائحہ عمل بنایا جائے گاجو کہ خیبرپختونخوا کے علاقائی زبانوں کو فروغ اور تحفظ دیں گے۔ ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر سمیرا شمس نے محکمہ ثقافت کے افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ثقافت اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے نہیں نبھا رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ریجنل لینگویجز ایکٹ2012 ابھی تک نافذالعمل نہیں ہوا۔انہوں نے تاکید کی کہ محکمہ ثقافت اور محکمہ تعلیم دونوں مشترکہ لایا عمل کے ساتھ اس بات کو یقینی بنائیں کہ علاقائی زبان اور ثقافت کو تحفظ اور فروغ دیں گے اور اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ کم از کم چار سے پانچ علاقائی زبانیں نصاب کا حصہ بن سکیں۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ قانون بنانا صوبائی اسمبلی کا کام ہے اور اس پر عملدرآمد کرنا متعلقہ محکموں کا کام ہے۔ انہوں نے اس موقع افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹرینز قانون بناتے ہیں اور اس پر عمل درآمدبیوروکریسی کاکام ہے مگر اب ایسا نہیں چلے گا اب ہم خودنگرانی کریں گے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے کیوں کہ عوام ہمیں اس کے لئے چنا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم عوام کو سہولیات فراہم کریں۔ ممبر صوبائی اسمبلی ریحانہ اسماعیل نے اجلاس کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 25 سے 26 علاقائی زبانیں ہیں جوکہ عدم توجہ کی وجہ سے زوال پذیر ہو رہی ہیں لہذا ضر ورت اس بات کی ہے کہ ان علاقائی زبانوں کو زندہ رکھا جائے اور علاقائی ثقافت کو فروغ دیا جائے اور ان زبانوں کو نصاب میں شامل کیا جائے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی عارف احمد زئی نے اجلاس کو بتایا کہ علاقائی زبانوں اور ثقافت کو علاقائی موسیقی، علاقائی سٹیج ڈراموں، لوک داستانوں اور اسی قسم کی مختلف سرگرمیوں سے فروغ دے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ پارلیمنٹرین میں اس بات پر اتفاق ہو گئی کہ پرائمری لیول کے نصاب میں علاقائی زبان کو شامل کیا جائے تاکہ بچے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرسکیں اور اس کے بعد وہ قومی زبان کی طرف آ سکیں۔اسی طرح سے بچے صحیح معنوں میں تعلیمی نصاب اور تعلیمی نظام سے آشنا ہو سکیں گے۔آخر میں تمام ممبران نے یو این ڈی پی وفد کا شکریہ ادا کیا کہ جہاں یو این ڈی پی کے تعاؤن سے بیشتر ترقیاتی کاموں پر کام ہورہا ہے وہی ساتھ ساتھ ثقافت کے فروغ کے لیے یو این ڈی پی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔

مزید : صفحہ اول