مقبوضہ کشمیر، بھارت کی ریاستی دہشتگردی جاری، مزید 4کشمیری نوجوان شہید، سارک کانفرنس میں پاکستان کا مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ

مقبوضہ کشمیر، بھارت کی ریاستی دہشتگردی جاری، مزید 4کشمیری نوجوان شہید، سارک ...

  



سری نگر)مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع آننت ناگ میں قابض بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران 4 کشمیری نوجوانوں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا، شہید ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت طارق احمد کے نام سے ہوئی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن شروع کیا، اس دوران گھر گھر چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی جب کہ گھر گھر تلاشی کی آڑ میں کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بڈگام ضلع میں اتوار کوصبح سے ہی انٹرنیٹ سروسزمعطل کر دی گئیں، جس سے لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔۔ گذشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا گیا تھا۔ اسی سال جموں وکشمیر میں مواصلاتی پابندیاں ہٹائی گئی ہیں۔ ایک جانب کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ فکرمند ہیں تو وہیں اچانک انٹرنیٹ کی معطلی نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہیمقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع کپواڑہ سے دونوجوانوں کوگرفتار کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق نذیر احمد وانی اور بشیر احمد وانی نامی نوجوانوں کو ضلع کے علاقے ہندوارہ میں ایک فوجی چوکی سے گزرتے وقت گرفتارکیاگیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جموں کی ایک ٹاڈا عدالت نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور دیگر آزادی پسند کشمیری رہنماؤں کے خلاف لگ بھگ 30 سال قبل درج جعلی مقدمے میں فرد جرم عائد رکردی ہے۔۔جج نے دہلی کی تہاڑ جیل میں نظربند محمد یاسین ملک اور دیگر کشمیری رہنماؤں کو مقدمے کی آزادانہ طورپر پیروی کا موقع فراہم کیے بغیر کہاکہ بظاہر سی بی آئی نے ملزمان کے خلاف عائد الزامات کے حق میں دستاویزی اور زبانی شواہد پیش کئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے اضلاع بڈگام اور شوپیاں میں اتوار کی شام دیر گئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایک آرڈر جاری کیا جس میں 31 مارچ تک پورے ضلع میں دفعہ 144نافذ کی گئی ہے۔یہ قدم اس لئے عمل میں لایا گیا تاکہ کروناوائرس سے لوگوں کو بچایا جائے۔اس کے علاوہ ضلع میں لوگوں کو کسی بھی قسم کے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

نوجوان شہید

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)) ڈاکٹر ظفر مرزا نے سارک کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بغیر روک ٹوک امداد کی فراہمی پر بھی زور دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی درخواست پر کرونا وائرس سے متعلق سارک کانفرنس میں وزیر مملکت کی سطح پر شرکت کی۔کرونا وائرس پر منعقدہ سارک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور سارک کے دیگر سربراہان مملکت کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے اطلاعات کی ترسیل ناگزیر ہے۔ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاؤن ختم کرے اور اطلاعات کی ترسیل پر پابندیاں اٹھائے۔خیال رہے کہ سات ماہ سے زائد عرصے سے لاک ڈاؤن کا شکار مقبوضہ کشمیر میں کرونا کے پانچ کیسز سامنے ا? گئے ہیں۔ مقبوضہ وادی کے لاکھوں مظلوم مکین پانچ اگست 2019ء سے بھارتی افواج کے نرغے میں ہیں۔کشمیریوں کو صحت کی سہولیات میسر ہیں نہ ہی مقبوضہ وادی میں موذی وائرس سے نمٹنے کیلئے مودی حکومت نے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں۔مسلسل لاک ڈاؤن کے باعث کرونا وائرس سے ہلاکتوں کاخدشہ بڑھ گیا ہے۔ دنیا بالخصوص ورلڈ ہیلتھ ا?رگنائزیشن کو ہنگامی طور پر صورتحال کا نوٹس لینا ہوگاخیال رہے کہ سارک ممالک میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ، بھوٹان اور نیپال شامل ہیں، ویڈیو کانفرنس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بالآخرجنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کیلئے قائم کی گئی تنظیم سارک کی اہمیت کو تسلیم کر لیامودی نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے سارک کانفرنس بلانے کا مشورہ دیتے ہوئے پاکستان کو شرکت کی دعوت دے دی نجی ٹی وی کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان کو شرکت کی درخواست دی موصول ہوگئی ہے۔ بھارتی درخواست پر پاکستان نے وزیر مملکت کی سطح پر شرکت کی رضا مندی کا عندیہ دیا ہے۔ بھارت کا سارک کے پلیٹ فارم کو ماننا پاکستان کے موقف کی فتح ہے۔

سارک کانفرنس

مزید : صفحہ اول