شانگلہ پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کا احتجاجی مظاہرہ

شانگلہ پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کا احتجاجی مظاہرہ

  



الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) نگلہ پریس کلب اور شانگلہ یونین آف جنرلسٹ کی صحافیوں کا الپوری چوک میں مظاہرہ۔ نیب کی طرف سے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پرشدید ردعمل شانگلہ پریس کلب کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان،نیب گردی کے خلاف صحافیوں نے بازوں پر سیاح پٹیاں باندھ لئے میرشکیل کی گرفتاری پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔صحافیوں سمیت ضلع بھر میں،سیاسی،سماجی اور سول سوسائٹی کی طرف سے گرفتاری پر مذمت اورتحفظات کا اظہار کیا ہے شانگلہ پریس کلب کے ممبران نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری اور ریمانڈ پر سخت احتجاج کرتے اسے ملک میں افراتفری پھیلانے کی سازش قرار دیا۔ مختلف سیاسی اور سماجی رہنماؤں عوامی نیشنل پارٹی کے محمدیار،متوکل خان ایڈوکیٹ نے سچ اور حق کی آواز کو دبانے والے جیو سمیت میڈیا ہاوسز کو دبانے اور جنگ جیو کے چیف میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے کہا کہ جیو جنگ گروپ عوام میں پھیلی مہنگائی اور فاقہ کشی کو اجاگر کر رہا تھا جس پر یہ اقدام کیا گیا جس پر انکی پارٹیاں سخت مزمت کرتی ہے۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میر شکیل نے ہمیشہ حق اور مظلوم کی آواز بلند کی ہے اور انکی بہت عزت کرتا ہوں، پوری دنیا میں انکا ایک مقام ہے۔ انھو ں نے کہا کہ مجھے انکی گرفتاری پر انتہائی افسوس ہوا ہے جب وہ خود پیش ہو رہے تھے تو نیب نے انہیں کیوں گرفتار کیا یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنماء و ایم این اے ڈاکٹر عباداللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کٹ پتلی حکومت اب میڈیا کو بلیک میل کرنے پر اتر آیا ہے ہمارے وزیراعظم عمران نیازی میں برداشت کی قوت نہیں کسی ڈکٹیٹر کی حکمرانی میں کھبی ایسا نہیں ہوا جو ظلم زیادتی میڈیا کے ساتھ اس حکومت میں کی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ جیو میں سلیم صحافی اور شاہ زیب خانزادہ جیسے صحافی اس ملک میں پیسے ہوئے عوام اور مہنگائی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور موجودہ نااہل حکمرانوں کی ناکامیوں کا پردہ چاک کررہے ہیں، نیب کو صرف سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔شانگلہ بار ایسوسی ایشن کے صدر فیاض خان چکیسری،سلطان روم خان ایڈوکیٹ اورڈسٹرکٹ بار کے وکلا نے بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر مزمت کرتے ہوئے کہا کہ میر شکیل الرحمان پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا نیٹ ورک چلارہے ہیں اور جنگ جیو نیٹ ورک نے پاکستان اور پوری دنیا میں جعلی ڈگریاں فروخت کرنے والے گروو کو بے نقاب کیا جن پر اعلیٰ عدالتوں اور بیرون ممالک میں مقدمات درج ہیں، اتنے بڑے میڈیا گروپ کے مالک پر 34 سال پہلے خریدی جانے والی پراپرٹی کی خریدو فروخت پر گرفتاری سمجھ میں نہیں آتی جبکہ نیب میں وہ خود پیش ہو رہے تھے، متعدد بار ان پر الزامات لگائے گئے مگر کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا۔ نیب کا اقدام انکی سمجھ سے بالاتر ہے، ظاہر ہوتا ہے کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری میں ان عناصر کا ہاتھ ہے جو ملک میں سچ کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر