پرائیویٹ سکولز۔۔۔عجب نظام ِ سر درد

پرائیویٹ سکولز۔۔۔عجب نظام ِ سر درد
پرائیویٹ سکولز۔۔۔عجب نظام ِ سر درد

  

تحریر: محمد معظم علی

اسلام میں علم کا حصول ہر مرد و عورت پہ یکساں لازم کر دیا گیا، اور یہی وجہ ہے کہ علم کی اہمیت سے کوئی بھی انسان انکار نہیں کر سکتا۔ اور اسی تناظر میں،اپنے بچوں کو علم کی شمع سے روشناس کروانا ہر والدین کی اولین ترجیح ہے، اور اس کے لئے والدین ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوائیں۔ کسی دوسرے ملک کی بات کریں تو وہاں تو معاملات یکسر مختلف ہیں، لیکن اگر ہم بات کریں اپنے پیارے وطن ملکِ پاکستان کی ،تو یہاں دو طرح کے نظامِ تعلیم نظر آتے ہیں، ایک ہے سرکاری نظامِ تعلیم ، اور دوسرا ہے نام نہاد پرائیویٹ سکولز کا نظام ِ تعلیم۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ زیادہ تر والدین سرکاری سکولزکی تعلیم سے متنفر نظر آتے ہیں، حقیقت کیا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے، یہاں جس عنوان کو زیرِ قلم لا رہا ہوں وہ ہے پاکستان کے نام نہاد پرائیویٹ سکولز کے وہ عناصر، جو تعلیم کی کوالٹی کے نام پہ بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں، اور انکے والدین کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔

یوں تو بہت سے ایسے پہلو ہیں کہ جن پہ روشنی ڈالی جا سکتی ہے، لیکن درج ذیل مسائل کو نمایاں کرنا ضروری ہے۔ بیشک یہ وہ تمام فہرست ہے کہ جن پہ بارہا دفعہ لکھا جا چکا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بار بار کہتے رہنے سے شاید کوئی فرق آجائے۔

شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات

۱۔ ہوشربا فیسیوں کا مطالبہ: یوں تو پرائیویٹ سکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں ،والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے سکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں ،تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ یہاں پہ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ یہ صرف سکولز کا قصور نہیں بلکہ والدین بھی بلا سوچے سمجھے، سرکاری تعلیم کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں اور بالآخر پھر پرائیویٹ سکولز مافیا سے لٹ جاتے ہیں۔

۲۔ سکولز کے مونوگرام والی کاپیاں اور سٹیشنری: جی ہاں، اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس ادا کرنا کافی نہیں، بلکہ سکولز کے پرنٹڈ ،مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری میں شامل ہے، وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات وہ کتابیں اپنے نصاب میں شامل کئے بیٹھے ہیں، جو یا تو صرف سکول کی شاپس پہ دستیاب ہیں ، یا ان دکانوں سے خریدنی ہوتی ہیں، جن کی طرف سکولز کی راہنمائی ہوتی ہے۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں، بلکہ مہنگے داموں بیچی جانے والی کچھ غیر میعاری اور غیر ضروری کتابیں بھی نصاب کا حصہ بنا دی گئی ہیں، تا کہ والدین سے زیادہ سے زیادہ پیسے اینٹھے جا سکیں۔

۳۔وقت کے ضیاع کا سامان: پڑھائی کے علاوہ ایسے پرائیویٹ سکولز میں ہر ماہ کچھ ایسے دن بھی منائے جاتے ہیں، کہ جن کا تعلق بچوں کی ذہنی نشوونما کو اجاگر کرنے سے تو نہیں ہے، بلکہ جس کا تعلق سیدھا سکولز انتظامیہ کی جیب سے ہے، جی ہاں! کلر ڈے، ورائیٹی ڈے، ناجانے کون کون سے دن منائے جاتے ہیں، اور پھر ان دنوں کی مناسبت سے بچوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ مہنگے مہنگے کاسٹیوم تیار کروا کے لائیں اور ان سکولز میں ہونے والے شوز میں حصہ لیں۔میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایسے دنوں کا بچوں کی ذہنی نشوونما پہ کیا اثر ہوتا ہے۔

۴۔ اساتذہ سے ناروا سلوک: یہ حقیقت ہے کہ جہاں پرائیویٹ سکول مافیا جہاں بچوں کے مستقبل کو داﺅ پہ لگا رہا ہے اور ان کے والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے، وہیں ایسے سکولز کی انتظامیہ ایک اور ظلم ڈھا رہی ہے کہ اپنے اساتذہ کو معمولی سی تنخواہ پہ رکھتے ہیں اور ان سے اضافی خدمات حاصل کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتے ہیں۔ چھٹی کے بعد بھی بیچارے اساتذہ سکول میں رک کے کلریکل کام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں، بلکہ انکو مجبور کیا جاتا ہے۔ اور جب کوئی ٹیچر کسی ناگہانی وجہ سے سکول سے لیٹ ہو جائے یا چھٹی کر لے تو اس کی ایسے بے عزتی کی جاتی ہے ، جیسے کہ یہ کوئی بہت بڑا جرم کر بیٹھا ہو۔ ٹیچر کی عزت نہ کرنا تو جیسے انکے معمولات کا حصہ ہو،ایسے میں اگر انتظامیہ عزت نہ کرے گی، تو طلبہ کیا خاک عزت کریں گے۔

حرف ِ آخر: آخر میں کچھ تجاویز گوش گزار کرنا چاہوں گا؛

حکو مت کو چاہیئے

کہ ایک ایسی موثر اتھارٹی کا قیام ہو کہ جو ڈائریکٹ پرائیویٹ سکولز کی نگرانی کرے ، اوروہ براہِ راست والدین کی دسترس میں ہو، اس کے علاوہ ایک باقاعدہ ،میعار کی ایسی چیک لسٹ بنائے جس پہ پورا اترنے والے سکولز کی ہی رجسٹریشن موثر رہ سکے۔ اور ہر سال باقاعدہ پرائیویٹ سکولز کا چیک اپ وزٹ کیا جائے۔

والدین کو ادراک ہونا چاہیے کہ انکے بچوں کا مستقبل مہنگے سکولز میں پرھنے سے نہیں، بلکہ میعاری درس و تدریس اور عمدہ راہنمائی ملنے سے ہے۔ مزید بر آں، والدین کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ بولنا آنا چاہیئے تا کہ ایسے سکولز کا قلعہ قمع ہو۔

اساتذہ کو چاہیئے کہ سکولز کی انتظامیہ کی ایسی زیادتیوں کے خلاف اپنی آواز کو اٹھائیں، اور ایسے عناصر سے ڈرنے کی بجائے حکومت کی مدد طلب کریں، تا کہ دوسرے اساتذہ کی بھی حوصلہ افزائی ہو۔ اللہ ہمیں ہدایت عطا کرے۔ آمین۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -